نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان آج رات جنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم افغانستان اورمسئلہ کشمیرپربات کریں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم افغانستان سےمتعلق پاکستانی پالیسی واضح کریں گے
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ اٹھائیں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم کوروناکےخلاف پاکستانی اقدامات سےبھی آگاہ کریں گے
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

کاغذ کی خانقاہ

...اور اب ایک وضاحت۔ چند روز ہوتے ہیں، شعر نقل کیا تھا: پتوں کا رنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا/ ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آ گئی۔ برادرم جلیل عالی نے بتایا کہ اصل میں یہ نجیب احمد کا شعر ہے اور اس طرح:
پتوں پہ رخصتی کی رسومات قرض تھیں
ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آ گئی
تیس برس پہلے کا قصہ ہے۔ کمالیہ شہر سے لاہور واپس آنے کے لیے، جو اپنے کھدّر کے لیے مشہور ہے، حفیظ جالندھری، احمد ندیم قاسمی اور خالد احمد گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ خالد احمد بلا کا شاعر تھا‘ لیکن ایک شرارتی بچّہ۔ جنابِ حفیظ جالندھری سے اس نے دس روپے کی فرمائش کی۔ حفیظ صاحب من موجی اور جز رس بھی۔ خالد ان کے بچوں کی طرح تھا، انہوں نے ڈانٹ پلائی ''ابے تجھے کیوں دس روپے دوں؟‘‘ ایک لاڈلے بچّے کی طرح خالد ضد پہ اڑا رہا: حفیظ صاحب مجھے سموسے کھانے ہیں، مجھے کچوری خریدنی ہے۔ ہر بار حفیظ صاحب ڈانٹ پلاتے۔ آخر کو زچ ہو گئے اور کہا: کوئی اچھا سا شعر سنائو۔ کوئی ایسا کہ تمہیں انعام دوں۔ خالد ایک معمولی شاعر نہ تھا۔ یہ اسی نے کہا تھا:
کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے
اسی لیے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے
لیکن ان دو عظیم اساتذہ حفیظ اور قاسمی کے سامنے، اسے حجاب نے آ لیا۔ اب وہ ایک مہذب طالبِ علم کی طرح خاموش کھڑا تھا۔ اس خاموشی میں احمد ندیم قاسمی کی محبت بھری آواز ابھری: میں سناتا ہوں، خالد احمدکا شعر۔
کھلنڈرا سا کوئی بچّہ ہے دریا
سمندر تک اچھلتا جا رہا ہے
غالب ؔہوں کہ اقبالؔ ‘ ہمارے عہد کے تناور ظفر اقبال اور نجیب خورشید رضوی، شاعر اپنے اندر کے بچّے کو زندہ رکھتا ہے۔ قاسمی صاحب کے لہجے کی شوخی نے گواہی دی کہ خالد احمد کا نہیں،یہ کسی اور کا شعر ہے۔ حفیظؔ بھی ایک ہی کائیاں۔ بولے: شعر اچھا ہے مگر خالد احمد کا نہیں ہے۔
یہ نجیب احمد کا کلام تھا، جو ان کے پہلو میں چپ چاپ کھڑے تھے۔ احسان دانش کی طرح مشقت بھری زندگی کرنے اور بالآخر واپڈا کے اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہو جانے والے نجیب احمد گوشہ گیر آدمی ہیں۔ ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز۔ دستِ سوال کبھی دراز نہیں کیا۔ اخبارات میں مضمون ان پر نہیں لکھے جاتے۔ مشاعروں میں مدعو کیے جاتے ہیں‘ مگر ہمیشہ نہیں۔ اپنے من کی دنیا میں آسودہ رہتے ہیں۔ کچھ دن پہلے میرے پاس تشریف لائے اور اپنا مجموعہ '' زرِ ملال‘‘ عطا کیا۔ چائے کی ایک پیالی پیش کی۔ ایک موضوع پر مشورہ مانگا۔ ان کی توقعات کے بالکل برعکس عرض کیاکہ اس معاملے میں خاکسار کی دخل اندازی مناسب نہیں۔ ناراضی کا اندیشہ تھا مگر طمانیت‘ ویسی کی ویسی ہی رہی۔ دعا دی اور خوش دلی سے رخصت ہو گئے۔ چہرے پہ نجابت، لہجے میں استواری، چال ڈھال میں وقار اور متانت۔
شب بھر میں ان کا دیوان دیکھ ڈالا اور حیرت زدہ ہوتا رہا۔ یہ اسی کا انتخاب ہے:
تیرا رنگِ بصیرت ہوبہو مجھ سا نکل آیا
تجھے میں کیا سمجھتا تھا مگر تو کیا نکل آیا
عجب اک معجزہ اس دور میں دیکھا کہ پہلو سے
یدِ بیضا نکلنا تھا مگر کاسہ نکل آیا
......
میرے سادہ سخن کے تیوروں سے
تیرے ماتھے پہ کیا کیا بل پڑے ہیں
......
کیا کہیں، کیسے بسر ہجر کی راتیں کی ہیں
عمر بھر چاند سے اک شخص کی باتیں کی ہیں
......
ہوسِ بارگاہِ شاہ کہاں
اور کاغذ کی خانقاہ کہاں

اک وہم کی صورت سرِ دیوارِ یقیں ہیں
دیکھو تو ہیں موجود، نہ دیکھو تو نہیں ہیں
......
اک آفتابِ ہجر میرے ساتھ ساتھ ہے
ڈھلتے ہی شام‘ دن نکل آتا ہے ان دنوں
......
وہ رات تھی تو بسر ہو گئی بہرصورت
اگر یہ دن ہے تو کٹتا نظر نہیں آتا
......
دل تو آسان سمجھتا تھا محبت کرنا
اب مصیبت میں گرفتار نظر آتا ہے
......
تجھ سے بچھڑ کے بھی دلِ وحشی ہے مطمئن
یعنی نواحِ شوق میں صحرا ہے کوئی اور
اس شہرِ بے مثال میں سب بے مثال ہیں
تجھ سا ہے کوئی اور نہ ہم سا ہے کوئی اور
کاغذ پہ تجھ کو سطر کیا عمر بھر نجیبؔ
اور حجرۂ سطور میں بیٹھا ہے کوئی اور
......
بیٹھے رہے زمین پر، گھٹنوں میں سر دئیے
ہم پر کب آسمان گرا، کچھ خبر نہیں
......
اشک تھے، کرچیاں تھیں، آنکھیں تھیں
آئینے سے امنڈ پڑا تھا کوئی
اس شعر کو احمد ندیم قاسمی نے خراجِ تحسین پیش کیا تھا: مثبت روایت پسندی کی ایک بلیغ مثال، جیسے میرؔ، مصحفی، غالبؔ، فراقؔ اور عصرِ حاضر سبھی یک زباں ہو کر بول اٹھے ہوں۔ ان کا یہ شعر بھی قاسمی صاحب کوپسند تھا:
دمک اٹھے سبھی رستے لہو کی لو سے نجیبؔ
چراغ سب کی ہتھیلی پر دھر گئے ہم بھی
سلام اور نعت کے چند اشعار:
سرِ نیزہ جو روشن ہو گیا ہے
رسولِ پاکؐ کے گھر کا دیا ہے
اندھیری رات کی پوروں میں جگنو
با اندازِ شرر جل بجھ رہا ہے
ہوائیں سر پٹخ کر رہ گئی ہیں
چراغِ استقامت جل رہا ہے
......
قدم بوسی کی عزت چاہتا ہوں
نبی جیؐ! میں اجازت چاہتا ہوں
نبی جیؐ! آپ تو سب جانتے ہیں
میں کیا روزِ قیامت چاہتا ہوں
نبی جیؐ! آپ ہی کے امتّی ہیں
میں ان سب کی شفاعت چاہتا ہوں
مجھے مل جائے اعزازِ غلامی
میں دستارِ فضیلت چاہتا ہوں
......
تیرے لفظوں کی ہر ٹہنی ہری ہے
ہری ہے اور خوشبو سے لدی ہے
میں اس کا امتی ہوں، جسؐ کی خاطر
خدا نے روشنی تخلیق کی ہے
... اور اب ایک وضاحت۔ چند روز ہوتے ہیں، شعر نقل کیا تھا: پتوں کا رنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا/ ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آ گئی۔ برادرم جلیل عالی نے بتایا کہ اصل میں یہ نجیب احمد کا شعر ہے اور اس طرح:
پتوں پہ رخصتی کی رسومات قرض تھیں
ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آ گئی

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں