نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 31 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 597 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 48 ہزار 732 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1757 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.60 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

پیش رفت؟

مرتی ہوئی بدنام سیاسی جماعتوں کے بعد ایسی ٹیم کو اقتدار ملا ہے ، جس میں پختگی اور بلوغت نہیں ۔ سنگ باری کرنے کی بجائے ان کی مدد کرنی چاہیے ۔ انہیں مہلت دینی چاہیے۔ اگر یہ لوگ ناکام ہوئے تو حادثہ ہو سکتا ہے... اور ایسا کہ جس کی تاب نہ لائی جا سکے ۔ پیش رفت کا واحد راستہ یہی ہے۔ 
آخر کار وزیرِ اعظم نے ایک ایسے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس سے کچھ امید بندھی ہے ۔ امکانات کا ایک در کھلا ہے ۔ ملک اور حکومت کو جس کی ضرورت تھی ۔ بے گھروں کو چھت درکار ہے ، قوم کو امید اور معیشت کو تیز رفتاری سے نمو ۔ ایڈولف ہٹلر کا پاگل پن اپنی جگہ لیکن پہلی عالمگیر جنگ سے مضمحل جرمنی کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے یہی نسخہ اس نے استعمال کیا تھا۔ ملک بھر میں موٹر ویز کا جال ، جس نے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کیے۔
ایک محدود سطح پر یہ تجربہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کیا ۔ امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن ان سے الجھتی رہتی تھیں ۔ ایک دانا استاد سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا : اس خاتون کے مزاج میں تیزی ہے ۔ گفتگو کا آغاز ہو تو کچھ دیر اسے بولنے دیا کریں۔ دل کا بوجھ ہلکا کر چکے تو بات کیا کیجیے ۔ جنرل نے حیرت سے بتایا کہ جلد ہی وہ ڈھب پہ آ گئیں ۔ قبائلی پٹی کے لیے 200 ملین ڈالر کی پیشکش کی ۔ شرط یہ تھی کہ روپیہ ان کے ہاتھ سے خرچ ہو گا ۔ محتاط آدمی نے بیچ کا راستہ ڈھونڈ نکالا ۔ صوبائی حکومت کو تجاویز دیں اور نگرانی کی ذمہ داری خود قبول کی ۔ جنرل نے تجویز کیا کہ دیہاڑی دار قبائلی مزدور کو دو گنا معاوضہ دیا جائے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اس میں کیا حکمت ہے ۔ کہا کہ وہ سخت جان اور کفایت شعار لوگ ہیں ۔ پانچ سو روپے روزانہ اگر ملیں تو اکثر 80 فیصد بچا لیں گے۔ سال بھر کے بعد ان میں سے بعض اس قابل ہوں گے کہ چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر سکیں ۔ پہاڑوں ، وادیوں اور میدانوں سے گزرتی ہوئی، سات سو کلومیٹر لمبی یہ دو طرفہ سڑک فنِ تعمیر کا کارنامہ ہے۔ روپیہ ضائع نہ ہونے دیا گیا اور مسافت چار گھنٹے کم ہو گئی ۔ آنکھیں کھلی اور حواس قائم ہوں تو مواقع سے فائدہ اٹھا کر اسی طرح افتادگانِ خاک کے دن پھرتے ہیں ۔ اسی طرح اقوام نشوونما پاتی ہیں۔
بے گھروں کے لیے گھر مہیا کرنے کا منصوبہ پی ٹی آئی کے نجیب لیڈر اسحٰق خاکوانی نے پیش کیا تھا۔ جنوبی پنجاب میں پارٹی کی فتح میں جن کا نمایاں کردار ہے ۔ ابھی کچھ دیر پہلے، مبارک باد دی تو شرمیلے آدمی نے کہا ''میرا نہیں ، یہ ڈاکٹر مبشر حسن کا تصور ہے ۔ خیال مستعار بھی لیا جاتا ہے۔ داد آخر کار اسی کو ملتی ہے ، خوب سوچ سمجھ کر جو اسے اپنا لے اور متشکل کر دے ۔ خاکوانی صاحب کا خیال یہ تھا کہ مکان تعمیر کرنے کی بجائے زیادہ تر لوگوں کو پلاٹ دینے چاہئیں۔ خاص طور پر خانہ بدوشوں اور نچلے غریب طبقات کو ۔ 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو اور 1986ء میں محمد خان جونیجو نے دیہی علاقوں میں اس طرح کے منصوبوں پہ عمل کیا تھا۔ غیر جماعتی الیکشن سے ابھرنے والے جونیجو کے دور میں کمال تیز رفتاری سے ترقیاتی کام ہوئے ۔ ٹھیک اسی زمانے میں سائنسی انداز میں سروے ہونا شروع ہوئے ۔ سیدھے سادے سندھی سیاستدان کی حمایت 42 فیصد تک جا پہنچی تھی ۔ وہ وسط مدتی الیکشن کے بارے میں سوچتے رہے لیکن فیصلہ نہ کر پائے۔ بڑی وجہ درونِ خانہ کے اختلافات تھے ۔ جنرل محمد ضیاء الحق سے جاری کشمکش ۔ قومی ترقی کے عمل میں باہمی آویزش اکثر سب سے بڑی رکاوٹ رہی ۔ افسوس کہ سیاستدانوں کو اس کا کم ہی ادراک ہے۔ گزشتہ چند ایام کے دوران بعض وفاقی وزرا اور خود وزیرِ اعظم جس طرح آگ اگلتے رہے ، اس کا فائدہ حکومت نہیں ، اپوزیشن کو ہو گا ۔ حکومتوں کو قرار اور استحکام درکار ہوتا ہے ۔ احتساب کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اہلِ اقتدار کو کبھی خوف پیدا نہ کرنا چاہیے۔ 
خاکوانی صاحب کا خیال اب بھی یہی ہے کہ مکانوں کی بجائے زیادہ تر پلاٹ تقسیم کرنے چاہئیں۔ سرکاری ملکیت اور شاملات کی زمینیں ضرورت مندوں میں بانٹ دینی چاہئیں۔ دیہات اور چھوٹے قصبات کی حد تک ان کی رائے شاید درست ہو ۔ ان میں بھی تعمیر کے عمل کی نگرانی کرنا ہو گی وگرنہ کچی آبادیوں کی ایک نئی فصل نمودار ہو جائے گی ۔ شہروں میں کئی منزلہ اپارٹمنٹس تعمیرکرنا ہی موزوں ترین اقدام ہو گا۔ خود خاکوانی پچھلے دنوں رائے ونڈ لاہور میں ایک دوست کے تعمیر کردہ فلیٹ دیکھنے گئے ۔ لگ بھگ ایک ہزار فٹ پہ سات لاکھ روپے لاگت آئی ۔ مہنگائی کی نئی لہر کے بعد بجلی ، گیس اور اس کے نتیجے میں سیمنٹ وغیرہ کی قیمتیں بڑھ جانے کے بعد شاید یہ 8 سے 10 لاکھ روپے میں ممکن ہو، سرمایہ کار کا منافع جس میں شامل ہے ۔ ملائیشیا اور چین کی نئی ٹیکنالوجی ممکن ہے اخراجات میں کمی کر سکے ۔ دونوں ملکوں کی کئی کمپنیاں نگاہ رکھے ہیں۔ 
سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ منصوبہ ڈھنگ سے بنا تو قومی اور بین الاقوامی بینک مددگار ہو سکتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ تاخیر تو خطرناک ہو گی لیکن غیر ضروری عجلت اس سے بھی زیادہ ۔ ذمہ داری جہاندیدہ لوگوں کو سونپنی چاہیے ۔ معاملے کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے ۔ بد قسمتی سے ایسے بہت سے لوگ حکومت میں شامل ہیں ، بات کرنے سے پہلے جو سوچنے تک کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ شہریار آفریدی جو راولپنڈی کے تھانوں پر جا پڑے۔ سیاست میں طویل عرصہ بتانے کے باوجود ، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ صوبائی امور میں مداخلت کے نتائج کیا ہوتے ہیں ۔ صوبے میں حریف حکومت ہوتی اور انہیں گرفتار کر لیتی تو قانونی طور پر شاید وہ حق بجانب ہوتی۔ علی زیدی، پرسوں پرلے روز جنہوں نے ارشاد فرمایا کہ ڈالر کی قیمت 140 روپے پہ جا پہنچے گی ۔ کسی نے سمجھانے کی کوشش کی تو بولے کہ میں نے تو اپنا تاثر بیان کیا تھا ۔ آپ کوئی تجزیہ نگار ہیں ؟ بچگانہ بیانات پہ ٹوکا جائے تو اعتراضات کی بوچھاڑ ہوتی ہے ۔ معلوم نہیں، یہ جذباتی کارکن ہیں یا پارٹی کا میڈیا سیل ۔ بہرحال بیشتر پیغامات توہین آمیز ہوتے ہیں ۔ تحریکِ انصاف کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ایک ممتاز اخبار نویس نے مجھ سے کہا : نون لیگ والے بد تمیزی کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ ایک ذرا سے اعتراض پہ پی ٹی آئی والے مجھ پہ کیوں پل پڑتے ہیں ۔ 
پچاس لاکھ تو رہے ایک طرف ، پانچ برس میں دس پندرہ لاکھ فلیٹ بھی تعمیر کر دیے گئے تو یہ عظیم ترین کارناموں میں سے ایک ہوگا ۔ مغرب میں ایک گھر بنانے پہ اوسطاً دو سے تین ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں ، پاکستان میں چار سے چھ ۔ چالیس صنعتیں حرکت میں آتی ہیں ۔ روزانہ کی اجرت پہ کام کرنے والے تقریباً سب کے سب مزدور کھپ جائیں گے ۔ محنت کی وقعت میں اضافہ ہو گا ۔ ایک بار معیشت کی گاڑی پٹڑی پہ چڑھ گئی تو ایک عظیم انقلاب کی بنا رکھ دی جائے گی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ٹھیک کہا کہ پچاس لاکھ مکان تعمیر کرنا خالہ جی کا گھر نہیں ۔ قوموں کو درپیش کوئی بھی چیلنج خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا ۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر بھی نہیں ، جج صاحب نے جس کا بیڑہ اٹھایا اور داد پائی ۔ ادبار کے زمانوں سے نکلنے کے قرینے ہمیشہ دشوار ہوتے ہیں ۔ اس راہ میں کبھی کوئی چمن نہ تھا اور کبھی نہ ہو گا ۔ خطرات مول لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
مرتی ہوئی بدنام سیاسی جماعتوں کے بعد ایسی ٹیم کو اقتدار ملا ہے ، جس میں پختگی اور بلوغت نہیں ۔ سنگ باری کرنے کی بجائے ان کی مدد کرنی چاہیے ۔ انہیں مہلت دینی چاہیے۔ اگر یہ لوگ ناکام ہوئے تو حادثہ ہو سکتا ہے... اور ایسا کہ جس کی تاب نہ لائی جا سکے ۔ پیش رفت کا واحد راستہ یہی ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں