نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں 3کشمیریوں کی شہادت کامعاملہ ،ترجمان دفترخارجہ کابیان
  • بریکنگ :- پاکستان 3کشمیریوں کوشہیدکرنےکی پرزورمذمت کرتاہے ،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی فورسزنےاڑی سیکٹرمیں بزرگ سمیت 3کشمیریوں کوقتل کیا،ترجمان
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی تازه مثال ہے، ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت ریاستی جبرسےکشمیریوں کےحوصلےپست نہیں کر سکتا، ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی فورسزنےماورائےعدالت قتل کاسلسلہ تیزکردیا ،ترجمان
  • بریکنگ :- رواں سال 100 کشمیریوں کوشہیدکیاگیا،ترجمان دفترخارجہ
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

راہِ محبت میں پہلا قدم

اخبار نویس کا کام تحقیق کرنا اور بات سمجھا دینا ہے ۔ اب وزیرِ اعظم جانیں اور ان کا کام۔ کوئی چرب زبان سیاستدان نہیں ، لا متناہی امکانات کی پاک ریلوے کو ایک دیوانہ درکار ہے ۔ اپنے کام سے جو محبت کرے۔ اس پہ فدا ہو۔ عارف نے کہا تھا: راہِ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتا ہے۔ 
ہر کام کے الگ آدمی ہوتے ہیں ۔ ریلوے کی تاریخ میں بد ترین وزیر غلام احمد بلور تھے ۔ اسے تباہ کرنے میں کوئی کسر انہوں نے اٹھا نہ رکھی ۔ منافع صرف مال گاڑیوں سے ہوتا ہے ۔ ایک موقع پر سب کی سب انہوں نے بند کر دی تھیں ۔ سعد رفیق بہترین میں سے ایک تھے۔ کرپشن قطعاً نہ کی، مسافروں کی تعداد تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی ۔ مظفر آباد تک ریلوے لائن بچھانے کا جو منصوبہ نواز شریف نے بنایا تھا، اربوں ، کھربوں اس پہ برباد ہوتے ۔ سلیقہ مندی سے انہوں نے رکوا دیا۔ 
شیخ رشید اب اس محکمے پہ سوار ہیں ۔ ہمہ وقت شکار ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ شکایت ملے اور کسی کو ٹھکانے لگائیں ۔ حال ہی میں ایک افسر کا تبادلہ کیا ہے ، جو کرپشن روکنے پر تلا تھا۔ ان میں سے ایک جو اہل ہوتے ہیں، پُرعزم اور دیانت دار بھی ۔ کیا عجب ہے کہ سحر خیز ہو ۔ کیا عجب صبح سویرے ستم کے مارے کو کبھی منیرؔ نیازی یاد آئے ہوں۔
صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا
شیخ صاحب محنتی آدمی ہیں۔ صبح سویرے جاگ اٹھتے ہیں ۔ سنتے مگر کسی کی نہیں ۔ ٹھکرانے اور طنز کرنے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتے ہیں ۔ ایک ہی مشغلہ ہے ۔ انا کو گنے کا رس پلاتے رہنا۔ ایک ہی ترجیح ہے۔ جس طرح بھی ممکن ہو، الیکشن جیتا جائے۔ عمران خان کے ساتھ یا نواز شریف کی مدد سے ۔ یا پھر اس دعوے کا پرچم لہرا کر : فتح کے بعد دونوں سیٹیں میں نواز شریف کی گود میں ڈال دوں گا۔ خان نے موصوف کے پچھلے دور کا جائزہ لیا ہوتا تو کوئی دوسری وزارت سونپتے ۔ ریل کو ان پہ قربان نہ کرتے جو دنیا کا سب سے خوبصورت ذریعۂ سفر ہے ۔ سبزہ زاروں، کوہساروں اور ریگ زاروں میں بیتے دنوں کی یادیں اجاگر کرتی چھک چھک!
سیاست ان کا شعبہ ہے ۔ داد طلبی ان کا مسئلہ ہے ۔ تہران کے لیے پاکستان ریلوے کا ایک وفد پا بہ رکاب تھا۔ موصوف نے روک دیا۔ صرف چار لاکھ روپے خرچ ہوتے ۔ ریل کے نقطۂ نظر سے ایران بہت اہم ہے ۔ وہاں سے ترکی اور ترکی سے یورپ پہنچ سکتے ہیں، 11 دنوں میں۔ چین سے یورپ کا سفر 14 دن کا ہوتا ہے... اور پوری تندہی سے وہ اس پر لگے ہیں ۔ اس کی تیز رفتار ترقی میں ریل کا کردار غیر معمولی ہے ۔ بیجنگ سے شنگھائی تک 1200 کلومیٹر کا سفر ہم نے ساڑھے تین گھنٹے میں طے کیا۔ پاکستانی اخبار نویس مبہوت تھے۔
تربیت کے لیے چین جانے والے ایک وفد کو بھی روک ڈالا۔ تمام اخراجات میزبان کو ادا کرنا تھے۔ ریل کی ترقی، تجارتی راہداری میں نمایاں ترین پہلو ہے۔ اگر چین سے ہم سیکھ سکیں تو شاید ایک نئے اقتصادی عہد میں داخل ہو سکیں۔ فرزندِ راولپنڈی کو مگر اس سے کیا؟ اپنے سوا کسی بھی چیز سے کیا؟ 
برازیل اور پاکستان دنیا کے دو دلچسپ ملک ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ عظیم ترین کارنامے انجام دے سکتے ہیں ۔ مگر معمول کا کوئی کام ڈھنگ سے نہیں نمٹا سکتے، جذباتی عدم توازن! پلوٹونیم کے بھارتی بم کے مقابلے میں یورینیم کی افزودگی سے بنایا گیا پاکستانی ایٹم بم بدرجہا بہتر ہے ۔ میزائل، ٹینک اور لڑاکا طیارے بھی۔
گوادر کے طفیل وسط ایشیائی ریاستوں ، قازقستان ، ازبکستان اور تاجکستان کے علاوہ ترکی ، روس اور افریقہ بھی پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ ان شاء اللہ ایک دن یہ دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ ہو گی۔ عظیم الجُثہ بھارت کے اوپر سے چکر کاٹ کر، آسٹریلیا کے نواح سے گزرتے بحری جہاز چین پہنچتے ہیں۔ چند سو کلومیٹر طے کر کے کوئٹہ سے ایران جانے والی ریلوے لائن کو اگر گوادر سے ملا دیا جائے؟ وسطی ایشیا کو سامان کی ترسیل پہ اٹھنے والے اخراجات بہت کم رہ جائیں گے۔ قازقستان کی پیشکش یہ ہے کہ ہر سال نصف ملین ٹن سامان گوادر سے چاہ بہار لے جائے گا۔ شیخ صاحب کو دلچسپی ہی نہیں ۔ آنے والے کل نہیں ، وہ صرف آج کے بارے میں سوچتے ہیں۔
ایک خاتون افسر نے، ہر جاننے والا جس کی امانت پہ گواہی دیتا ہے، یہ منصوبہ پیش کیا۔ برا سا منہ بنا کر شیخ صاحب نے کہا: خواتین میں بڑھا چڑھا کر بات کرنے کی عادت بہت ہے۔ یہی تجویز وزارتِ خارجہ کو پیش کی گئی تو خوش دلی سے قبول کر لی گئی‘ اور کام کا آغاز کر دیا۔ گوادر سے چاہ بہار، چاہ بہار سے وسطی ایشیا۔ ایران کو فائدہ پہنچے گا۔ وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں تو شاید تاریخ کا نیا باب رقم ہو جائے۔
ایران جانے والا وفد اس لیے روکا کہ بچت کرنا ہے۔ تو پھر ریل کے لیے دس ہزار ملازم کیوں بھرتی کیے جا رہے ہیں؟ دس ہزار نہیں، 26000 ملازمین کی ضرورت ہے۔ ناکافی سٹاف کی وجہ سے جو نقصان پہنچ رہا ہے، اس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔ ریل کی بجائے تاجر اپنا سامان ٹرکوں اور کنٹینرز پہ لاد کے لے جاتے ہیں، دُگنا کرایہ دے کر! 
پشاور اور کراچی کے درمیان ایسی گاڑی چلانے کی تجویز تھی، جس میں کنٹینر لدے ہوں، مسافر بھی سوار۔ رفتار قدرے کم ہو گی مگر منافع کمائے گی۔ کئی سال پہلے یہ تجربہ کامیاب رہا تھا۔ اس کی بجائے شیخ صاحب نے دس نئی مسافر گاڑیاں چلا دیں... سب کی سب خسارے میں۔ جی ہاں! سب کی سب!
آپ کی منطقیں نرالی ہیں 
شیخ صاحب خدا خدا کیجیے 
ٹرک کے ذریعے جو سامان ایک لاکھ چالیس ہزار روپے میں کراچی سے پشاور پہنچتا ہے ، ریل سے 70 ہزار روپے میں۔ دس مال گاڑیاں چلا دی جاتیں تو مہنگائی میں کمی آتی، سمگلنگ کے سدّ باب میں مدد بھی ملتی۔
سرکاری معاہدے کے تحت افغانستان پابند ہے کہ اپنا سامان ریل سے لے جائے۔ چھ برس ہوتے ہیں ، سپریم کورٹ نے ڈاکٹر سڈل کو ذمہ داری سونپی ۔ افغان تجارت کے نام پر سمگلنگ کا جائزہ لیا جائے۔ آمدن میں بارہ ارب روپے سالانہ کا اضافہ ہوا ۔ بہت سے کنٹینر طورخم اور چمن تک جاتے ہی نہ تھے۔ افغان تجارت کے نام پر 900 سے 1200 ارب کی سمگلنگ ہوتی ہے ۔ آدھی بھی روک لی جائے تو آمدن میں کم از کم 150 ارب روپے سالانہ کا اضافہ۔ دو برس میں پاک افغان سرحد پہ خاردار تار لگانے کی مہم پایۂ تکمیل کو پہنچے گی۔ اس دن کے لیے ریل کا محکمہ اگر تیار ہو تو سمگلنگ کا سدّباب ممکن ہے۔ پاکستانی صنعت کے لیے موسمِ بہار کا آغاز۔ شیخ صاحب کو مگر اس سے کیا؟
تازہ فرمان یہ ہے کہ سعد رفیق نے کچھ نہ کیا۔ سرائیکی میں کہتے ہیں ''یا بے ایمانی تیڈا ای آسرا‘‘
نائب وزیر فرخ حبیب کی لوگ ستائش کرتے ہیں۔ ''وہ سنتا ہے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے‘‘ ایک افسر نے کہا۔ عمران خان بہترین لوگوں کا انتخاب نہیں کر سکتا۔ اس کے دشمن بھی مگر مانتے ہیں کہ بڑے پیمانے کی کرپشن اب نہیں ہو گی۔ اس اعتماد کے طفیل بیرونی سرمایہ کاری کے لیے فضا شاید سازگار ہوتی جائے۔ اس سے پہلے شیخ صاحب اور ریل کے کم از کم بیس فیصد افسروں کو رخصت کرنا ہو گا، جو پرلے درجے کے بدعنوان ہیں۔ بدعنوان نہیں، شیخ صاحب بدلحاظ اور بے نیاز ہیں۔ انہیں کوئی دوسری وزارت بخشی جائے۔
اخبار نویس کا کام تحقیق کرنا اور بات سمجھا دینا ہے ۔ اب وزیرِ اعظم جانیں اور ان کا کام۔ کوئی چرب زبان سیاستدان نہیں ، لا متناہی امکانات کی پاک ریلوے کو ایک دیوانہ درکار ہے ۔ اپنے کام سے جو محبت کرے۔ اس پہ فدا ہو۔ عارف نے کہا تھا: راہِ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتا ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں