نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان نےجولائی سےاگست 382 ارب روپےسےزائدکاقرض لیا
  • بریکنگ :- جولائی تااگست بجٹ سپورٹ کی مدمیں 58ارب 76کروڑروپےکابیرونی قرض لیا
  • بریکنگ :- 2ماہ کےدوران بانڈزکےاجراسے 165ارب 92 کروڑروپےموصول ہوئے
  • بریکنگ :- مختصرمدت کیلئےجولائی سےاگست 67ارب کابیرونی قرض لیاگیا، دستاویز
  • بریکنگ :- مختلف منصوبوں کیلئے 87 ارب 68 کروڑسےزائدبیرونی قرض لیا،دستاویز
  • بریکنگ :- کثیرالجہتی معاہدوں کےتحت 87کروڑ 94لاکھ ڈالرموصول ہوئے،اقتصادی امورڈویژن
  • بریکنگ :- رواں مالی سال اےڈی بی سے 28 کروڑڈالرقرض جاری کیاگیا،ای اےڈی
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

آتشِ چنار

یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ بار بار یاد دلانے کی ضرورت ہے‘ لیس للانسان الا ما سعیٰ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اہلِ کشمیر نے پاکستان سے محبّت کا حق ادا کر دیا۔ پاکستان کب کرے گا؟
چوبیس برس ہوتے ہیں۔ کشمیر میں جاری جہاد کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خبر رساں ادارہ بنایا گیا۔ شام کو کچھ دیر کے لیے، یہ ناچیز بھی اس دفتر میں محدود سے فرائض انجام دیا کرتا۔ ایک شب جب چراغ بجھ چکے تھے، دل کا بوجھ اتارنے کے لیے اس دفتر کا رخ کیا۔ وادی کے کشمیری پرتپاک ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جواں سال اور بھی زیادہ خوش اخلاق آدمی تھا۔ دروازے پر دستک دینے سے پہلے ہی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ ''کیا ہوا، کیا ہوا؟ اللہ خیر کرے‘‘... یہ وہی محمد یونس تھا۔ بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا ہوا۔
''کیا ہوا، کیا ہوا؟‘‘
''پاکستان ہار گیا‘‘... اس نے کہا ''بھارت سے کرکٹ کا میچ پاکستان ہار گیا‘‘ اور آنسو پونچھنے لگا۔ یونس کا کندھا تھپتھپایا۔ حوصلہ رکھو بھائی، کرکٹ کا میچ ہی تھا۔ آج ہارے، کل جیت جائیں گے۔
یونس ایک بار پھر رو دیا اور اس نے کہا: یہ بات آپ کہہ سکتے ہیں، ہم نہیں۔ ایسا صدمہ تو مجھے اپنی دادی اماں کے انتقال پر نہ ہوا تھا۔ مشکل سے، بہت مشکل سے لڑکے کو بہلایا۔ 
غلامی سے نجات پانے کے لیے، اپنی آزادی کے لیے جو قربانیاں کشمیریوں نے دی ہیں، تاریخ میں اس کی مثال کم ہو گی۔ ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری تین عشروں میں شہید کر دیئے گئے۔ ہزاروں ٹارچر سیلوں میں برسوں پڑے رہے۔ کھیت اور کھلیان جلا دیئے گئے۔ گن پائوڈر چھڑک کر مارکیٹیں نذرِ آتش کر دی گئیں۔ ہزاروں کی بے آبروئی، لاکھوں جلا وطن۔ اتنے زخم کشمیریوں نے کھائے ہیں کہ کبھی کوئی شمار نہ کر سکے گا۔ بڑھتے بڑھتے وادی میں بھارتی فوج کی تعداد چھ لاکھ تک جا پہنچی۔ تاریخ میں، کسی بھی سول آبادی کے خلاف، سب سے بڑی عسکری یلغار۔ زیر و بم آتے رہے مگر آج بھی اہلِ کشمیر اسی شان سے مقتل میں کھڑے ہیں۔
سوڈان میں بت پرستوں اور عیسائیوں کو خرطوم سے شکایت ہوئی؟ انڈونیشیا کے جزیرہ تیمور میں مسیحی آبادی نے جب واویلا کیا؟ امریکہ بہادر اور یورپی یونین تڑپ کر اٹھے۔ 
فلسطین میں اور شیشان میں کیا ہوا؟ بوسنیا کے سوا، جہاں آخر کار مغرب اشک شوئی کو آیا، جہاں کہیں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے، انکل سام بے نیاز رہا، یورپ محوِ خواب رہا۔ شیشان میں تو امریکیوں نے روس کو دل کھول کر مدد دی، جس طرح آج مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل بھارت کا جی جان سے پشت پناہ ہے۔ پیلٹ گن تل ابیب ہی سے آتی ہے، سنگ بدست مظاہرین کی آنکھیں اور چہرے جو چھلنی کر دیتی ہے۔
تیرہ برس ہوتے ہیں، اسلام آباد کلب میں جواں سال یٰسین ملک کے میزبان نے دارالحکومت کے چند اخبار نویسوں کو ملاقات کے لیے مدعو کیا... ''آپ کے خیال میں کون سا پاکستانی لیڈر کشمیر میں سب سے زیادہ مقبول ہے؟‘‘ صحافیوں سے اس نے سوال کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو؟ جنرل محمد ضیاء الحق؟ نواز شریف؟ بے نظیر بھٹو؟ یا جنرل پرویز مشرف؟
انکار میں یٰسین ملک سر ہلاتے رہے۔ پھر دھیمے، پُراسرار انداز میں ،جو راز فاش کرتے برتا جاتا ہے، اس نے کہا: عمران خان۔
عمران خان کشمیر کے بارے میں کچھ زیادہ بات نہ کرتے تھے۔ کشمیر کیا، پاکستانی سیاست پر بھی ان کا علم محدود تھا۔ اب بھی محدود ہی ہے۔ کشمیر کے اور چھور سے تو وہ آشنا ہی نہ تھے۔ پھر کشمیری نوجوانوں میں ہر دل عزیز وہ کیوں ہیں؟ ابھی یعنی 2005ء میں تو خود اپنے وطن میں کوئی اہمیت انہیں حاصل نہ تھی۔
تجزیہ یہ تھا کہ چونکہ وہ ایک جواں سال آدمی ہیں۔ ذاتی شہرت اچھی ہے۔ دنیا بھر میں توقیر کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ مضبوط اور بہادر دکھائی دیتے ہیں، اس لیے، اس لیے!
یٰسین ملک نے اس پر کوئی تبصرہ نہ کیا اور سری نگر کے کرکٹ سٹیڈیم میں برسوں پہلے برپا ہونے والے ایک کرکٹ میچ کی روداد کہی۔
جیسے ہی کھیل کا آغاز ہوا، سری نگر کے تماشائیوں نے قمیضوں تلے چھپائے ہوئے، پاکستانی پرچم نکالے، پاکستانی پرچم اور عمران خان کی تصاویر۔ پھر پورا مجمع، ان تصاویر کے ساتھ لہرانے لگا اور لہراتا ہی رہا۔
اب شاید وہ ایک مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔ بھارتیوں کے باب میں عمران خان کا اندازِ فکر عام پاکستانیوں سے الگ تھا۔ وہ بھارت کو ایک دشمن ملک نہ گردانتے تھے۔ ہر چیز کو وہ کرکٹ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک حریف ٹیم، جسے ہرانا چاہیے۔ کھیل ختم ہونے کے بعد، حقیقی رفاقت نہیں تو کم از کم مسکراہٹوں کا تبادلہ، دشمنی بہرحال نہیں، قطعی نہیں، کسی صورت بھی نہیں۔ 
کشمیری امور کے ماہر ارشاد محمود سے ان کی ملاقات کرائی۔ اپنے گھر پہ تمام قابلِ ذکر کشمیری لیڈروں کو مدعو کیا۔ عمران خان کو ان کے درمیان لا بٹھایا۔ کچھ فرق نہ پڑا، ذرا بھی نہیں۔ ان کا وہ ہمدرد تھا اور ان کی آزادی کا خواہاں بھی‘ کشمیر پہ مگر شاذ ہی بات کرتا۔
2013ء کے الیکشن سے قبل اور پھر 2017ء میں کئی بار اسے یاد دلایا کہ بھارت کے پاکستان دشمن عزائم کے بارے میں اسے بات کرنی چاہیے۔ کشمیر کے بارے میں۔ بھارتی مسلمانوں کی مظلومیت کے بارے میں۔ جنگ کی آگ بھڑکانے کی خاطر نہیں بلکہ اپنی قوم میں زندگی کی رمق پیدا کرنے کے لیے۔
جواب میں اس نے صرف یہ کہا: کشمیر پہ بات کرنے سے ووٹ نہیں بڑھتے۔ تائید میں اضافہ نہیں ہوتا۔
عمران خان ہی کی بات نہیں، میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت، کسی بھی سیاسی پارٹی کو کشمیریوں کے ساتھ کوئی گہری دل چسپی نہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما مخدوم امین فہیم نے دہلی سے واپسی پر یہ کہا تھا: بھارتیوں کو شکایت ہے کہ ہم ان کے ہاں دہشت گردی کے مرتکب ہیں۔ زرداری صاحب نے ایک بار یہ ارشاد کیا تھا: کشمیر کا مستقبل عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ہیں۔ قائد اعظم ثانی میاں محمد نواز شریف نے یہ فرمایا تھا: اتنے ظلم بھارت نے کشمیریوں پہ نہیں ڈھائے جتنے پاکستانی فوج نے۔ جماعت اسلامی کے سوا پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت کشمیر کے باب میں اپنے کردار پہ فخر نہیں کر سکتی۔ اسفندر یار ولی خان، ایم کیو ایم اور محمود اچکزئی ایسے لوگوں کا تو ذکر ہی کیا، حضرت مولانا فضل الرحمن کے لیے کشمیر کمیٹی نان نفقے کے سوا کیا تھی؟
افراد کی طرح اقوام پر بھی مشکل وقت آتے ہیں، بہت مشکل وقت بھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قومیں اپنے اہداف اور مقاصد کو چھوڑ دیں۔ ایک تنہا آدمی، ایک قبیلہ، ایک ملک یا قوم، پروردگار نے انسان کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ امتحان اس لیے آتے ہیں کہ آدمی صیقل ہو۔ اس کی استعداد بڑھے، اس کا ولولہ جاگے۔ وہ پہاڑوں کو عبور کرنا سیکھے۔ انسانی صلاحیت ابتلا میں جاگتی ہے۔ طوفانوں میں فلک گیر ہے۔ جس فرد یا قوم کی زندگی میں کوئی آندھی نہ اٹھے اس کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی۔ نصف صدی تک چین نے انتظار کیا۔ ہانک کانگ کو فراموش نہ کیا، واپس لے کر ٹلا۔ امریکہ چاہے نہ چاہے، یورپ چاہے نہ چاہے تائیوان بھی ایک دن چین کا حصہ بنے گا۔ معیشت ہو یا سیاست ابھی کل تک خوار و زبوں چین کیوں ظفر مند ہے؟ عالمِ اسلام کیوں کامیاب نہیں؟ اس لیے کہ انہوں نے بھید کو پا لیا اور ہم غور کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔ ہیجان سے نہیں، شور شرابے سے نہیں، اسی طرح مایوسی اور خود ترسی سے نہیں زخم مرہم سے مندمل ہوتے ہیں، زندگی جدوجہد سے سرخرو۔
یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ بار بار یاد دلانے کی ضرورت ہے‘ لیس للانسان الا ما سعیٰ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں