قدرتی سانحوں پر کوئی زور نہیں، ہم مگر الگ طرح کے سانحات کا شکار ہیں۔ انسانوں کے ہاتھوں انسانوں پر گزرنے والے سانحات، قدرت کا نہیں، ہم پر ہمارا اپنا عذاب مسلط ہے۔ کوئی اور نہیں، ہم خود اپنے قاتل ہیں۔ پی آئی اے کے حالیہ سانحے کا راز جاننا مشکل ہے؟ پاکستان میں فضائی حادثوں کی تاریخ پر ایک نظر دوڑائیں، سب بھید کھل جائیں گے۔
20 مئی 1965ء کو پی آئی اے کا طیارہ قاہرہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہوئے گر کر تباہ ہو گیا، 121 مسافر جان سے گئے، بوئنگ 720 کا یہ چوتھا سب سے جان لیوا حادثہ ثابت ہوا۔ آج تک حادثے کی حتمی وجہ سامنے آئی نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ 6 اگست 1970ء کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ اسلام آباد سے اڑان بھرتے ہوئے گر گیا، حادثے میں 30 افراد جاں بحق ہو گئے۔ 26 نومبر 1979ء کو پی آئی اے کی پرواز نمبر 740 جدہ ایئرپورٹ سے اڑنے کے کچھ دیر بعد حادثے کا شکار ہو گئی۔ 156 افراد جاں بحق ہوئے، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جہاز کے اندر آگ لگ گئی تھی۔ یہ آگ کیسے لگی؟ تکنیکی نظام میں کوئی خرابی تھی؟ کون ذمہ دار تھا، کس کی غفلت تھی؟ آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔ 25 اگست 1989ء کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ گلگت سے اڑا اور چار منٹ بعد غائب ہو گیا۔ آج تک جہاز کا ملبہ ہی نہیں مل سکا۔ طیارے پر عملے کے ارکان سمیت 54 افراد سوار تھے۔ انہیں آج بھی لاپتہ قرار دیا جاتا ہے۔ حادثے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ 28 ستمبر 1992ء کو پی آئی اے کی پرواز نمبر 268 کٹھمنڈو ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گئی۔ حادثے میں تمام
167 مسافر مارے گئے۔ 10 جولائی 2006ء کو ملتان سے لاہور آنے والا پی آئی اے کا فوکر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار تمام 45 افراد جاں بحق ہو گئے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ جہاز اڑنے کے بعد رن وے سے کچھ دھاتی ٹکڑے ملے تھے۔ یہ دھاتی ٹکڑے دراصل دائیں انجن کا حصہ تھے جو اڑان بھرتے ہوئے ٹوٹ کر الگ ہو گئے تھے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا کہ طیاروں کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ دینے سے پہلے جانچ پڑتال کا تکنیکی عمل ناقص ہے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ جہاز کے بائیں انجن کی موٹر کی فٹنگ درست نہیں تھی۔ اسی انجن کی مرمت میں بھی کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان انکشافات کے بعد بھی کسی کو کٹہرے میں لایا گیا؟ کسی کو کیا سزا ملی؟ یہ تاریخ صرف پی آئی اے کے بڑے حادثوں کی ہے، نسبتاً چھوٹے حادثوں کی تفصیل الگ ہے۔ 2007ء میں یورپی یونین کے روٹس پر پی آئی اے کی پروازں پر پابندی بھی لگائی گئی۔ قومی ایئرلائن اس حال کو دو چار روز میں نہیں، سالہا سال کی بے مثال بدانتظامی، ریکارڈ توڑ کرپشن اور سیاسی مفادات کے گھنائونے کھیل کے باعث پہنچی۔ نالائق اور ناتجربہ کار سیاسی کارکنوں کی بھرتیوں نے ایئرلائن کا ستیاناس کر دیا۔ پی آئی اے کے ہر جہاز کے لیے اوسطاً 392 ملازمین کام کر رہے ہیں۔ یہ اوسط دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے۔ ترکش ایئرلائن میں فی جہاز ملازمین کی اوسط تعداد 64، ایئر چائنہ میں 70، سوئس ایئرلائنز میں 98، اتحاد ایئرویز میں 149، قطر ایئرویز میں 178، ایئر فرانس میں 166،
ایئر کینیڈا میں 167 اور امریکا کی ڈیلٹا ایئرلائنز میں 110 ہے۔ پی آئی اے کے مقابلے میں ان ایئرلائنز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ بھارت کی ایئر انڈیا میں بھی فی جہاز ملازمین کی اوسط تعداد 108 ہے، یعنی پی آئی اے سے ساڑھے تین گنا کم۔ 2008ء میں پی آئی اے کا خسارہ 42 ارب روپے تھا جو 2013ء میں 190 ارب تک پہنچ گیا۔ مارچ 2016ء تک یہ خسارہ بڑھ کر 275 ارب ہو گیا۔ اتنے بڑے خسارے والی ایئرلائن کے پاس حفاظتی انتظامات پر خرچ کرنے کے لیے کیا ہوگا؟
حفاظتی انتظامات کے حوالے سے پاکستان کی دیگر ایئرلائنز بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ 20 اپریل 2012ء کو کراچی سے اڑنے والا بھوجا ایئرلائن کا طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں جہاز پر سوار تمام 127 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ایئرلائن کے انجینئرزکے پاس کلیئرنس سرٹیفکیٹ دینے کی قابلیت اور مطلوبہ صلاحیت نہیں تھی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جہاز کے پائلٹ اور فرسٹ آفیسر ناتجربہ کار تھے۔ تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ جہاز اٹھائیس سال پرانا تھا، اسے 2010ء تک جنوبی افریقہ میں مقامی روٹس پر اڑانے کے بعد فضائی بیڑے سے نکالا گیا۔ پھر یہ طیارہ بھوجا ایئرلائن نے خرید لیا۔ اس حادثے کے فوراً بعد ایئرلائن کے مالک کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا گیا لیکن پھر کیا ہوا؟ کسی کے خلاف کوئی ٹھوس قانونی کارروائی ہوئی؟
28 جولائی 2010ء کو کراچی سے پرواز کرنے والا ایئربلیو کا طیارہ اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں 152 افراد کی جانیں گئیں۔ تحقیقات میں پائلٹ کے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کی نشان دہی ہوئی۔ شاہین ایئرلائن کے لڑکھڑاتے بل کھاتے جہاز آئے روز موت سے کھیلنے کا سرکس لگائے رکھتے ہیں۔ رواں برس جون میں اسلام آباد سے مانچسٹر جانے والی پرواز کا ٹائر پھٹ گیا۔ جہاز کو کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ اسی ماہ لاہور سے دبئی جانے والے شاہین ایئرلائن کے ایک اور طیارے کے ٹائر پھٹ گئے۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ نومبر 2015ء میں شاہین کا ایک جہاز لاہور ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران پھسل کر رن وے سے اتر گیا۔ اس واقعہ میں دس مسافر زخمی ہوئے۔
پوچھنے والے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں طیاروں کے معائنے اور مرمت کا کوئی نظام ہے؟ موت کے وہ اڑن کھٹولے‘ جن پر ہر روز ہزاروں پاکستانی جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں؟ ایئرلائنز کے حفاظتی انتطامات پر نظر رکھنے والا کوئی ادارہ ہے؟ عام مسافر طیاروں کے حادثات تو ایک جانب، ہم آج تک 17 اگست 1988ء کو ہونے والے حادثے کا سراغ نہیں لگا سکے۔ وہ حادثہ جس میں ملک کے صدر ضیاالحق اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان سمیت 31 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اسی نوعیت کا حادثہ 20 فروری 2003ء کو بھی ہوا جس میں پاک فضائیہ کے سربراہ مصحف علی میر سمیت 17 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اکتوبر 2015ء میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایئر چیف جس فوکر طیارے میں سوار تھے اسے پہلے ہی خطرناک اور ناقابل پرواز قرار دیا جا چکا تھا۔ اس طیارے کو پہلے پی آئی اے نے اپنے بیٹرے میں شامل کرنے سے انکار کیا، پھر یہ طیارہ پاک بحریہ کو دینے کی کوشش کی گئی لیکن اسے لینے سے انکار کر دیا گیا، اس کے بعد یہ جہاز فضائیہ کے حوالے کر دیا گیا۔ اس سانحے کی تحقیقات کے بعد کسی کو لٹکایا گیا؟ کسی کو نشان عبرت بنایا گیا؟
حالیہ فضائی حادثے کے بعد پھر تحقیقات کا روایتی راگ الاپا جا رہا ہے۔ یہ گھسا پِٹا ڈرامہ چند روز چلے گا۔ پھر سب آہیں، سسکیاں بھاری فائلوں میں دفن ہو جائیںگی۔ اس کے بعد ہم کسی نئے سانحے کا انتظار شروع کر دیں گے۔