ایک افسر کسی دیہی تھانہ کے معائنہ کے لیے گیا۔ معائنہ کے دوران اس نے پوچھا،’’یہاں کتنے افراد کے سونے کی گنجائش ہے ؟ ‘‘ جواب ملا،’’چارپائی سے چارپائی ملا کر بچھائیں تو 23 کی جگہ بنتی ہے ۔‘‘’’تھانہ میں کل کتنے ملازمین ہیں؟70‘‘۔’’باقی لوگ کہاں سوتے ہیں؟‘‘’’گائوں میں کرایہ پر دینے کے لیے مکان تو ہوتے نہیں۔ یہاں کے چودھری رہنے کو جگہ دے دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی ہر جائز ناجائز بات ماننی پڑتی ہے ۔‘‘ یہیں سے خرابی شروع ہوتی ہے ۔ پنجاب میں آدھے سے زیادہ تھانوں کی یا تو عمارت ہی نہیں، یا ناکافی اور بوسیدہ ہے ۔ چند دہائیاں پہلے تھانوں کی تعداد بڑھائی گئی تو ان کی عمارتوں کے لیے بجٹ نہ رکھا گیا کہ ’’بعد میں بنتی رہیں گی‘‘۔جو آج تک نہیں بنیں۔ چنانچہ تھانے مکانوں، فلیٹوں، دکانوں، یہاں تک کہ خیموں میں بنائے جانے لگے۔ ہر تھانہ کی عمارت میں تمام ضرورتیں پوری ہونی چاہییں۔ جہاں عمارت نہیں، ناکافی ہے یا بوسیدہ ہو چکی ہے ، وہاں جلد از جلد نئی بنائی جائے ۔ اس میں تمام عملہ کے لیے عمدہ رہائش ہو۔ تھانیدار اور سینئر عملہ کے لیے فیملی فلیٹ ہوں۔ تھانہ ہی میں عدالت کے لیے جگہ ہو، تاکہ مقدمات کی کارروائی بروقت اور آسانی سے ہو سکے ۔ نئی عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ پولیس کی تنظیم نو بھی ہونی چاہیے ۔ انگریزوں نے دو متضاد فرائض پولیس کو سونپ دیئے ، جو موجودہ حالات میں ادا کرنا نہایت مشکل ہے ۔ وہ ایک طرف جرائم کی تفتیش اور مقدمات کی پیروی کرتی ہے اور دوسری طرف گشت، پہرہ اور اعلیٰ حکام کی حفاظت کرتی ہے ۔ پولیس آرڈر 2001ء میں دونوں فرائض الگ کیے گئے لیکن بات نہیں بنی۔ ہونا یہ چاہیئے کہ پولیس کو صرف جرائم کی تفتیش تک محدود کر دیا جائے ۔ دوسرے کاموں کے لیے ’’امانیہ ‘‘کے نام سے ایک الگ تنظیم بنائی جائے ۔ (اس تجویز کی تفصیل اگلے کالم میں دی جائے گی۔) پولیس میں کام کرنے والوں کی نگرانی پر بہت زور دیا جاتا ہے ۔ کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، سب انسپکٹر، انسپکٹر، اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے بعد کہیں جا کر بنیادی سکیل 17 کا اے ایس پی آتا ہے ۔ اتنے لیول یہ سوچ کر بھی رکھے گئے کہ ترقی کے مواقع ملتے رہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ بہت سی اسامیاں صرف ترقی دینے کی لیے پیدا کرنی پڑتی ہیں، چاہے ان کی ضرورت نہ ہو۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ اسامیاں کم کر دی جائیں لیکن ترقی کے بغیر بھی تنخواہ میں خود بخود اضافہ ہوتا رہے ۔ اس طرح عہدہ میں ترقی نہ سہی، مالی طور پر بہتری ہوتی رہے گی۔ ساتھ ساتھ سہولتیں بھی زیادہ ہوتی جائیں گی۔ ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ تفتیش کرتے کرتے اتنا تجربہ ہو جائے گا کہ مشکل سے مشکل کیس بھی آسانی سے حل کیا جا سکے گا۔ فیلڈ کا تجربہ رکھنے والے کو انتظامی ذمہ داری یا نگرانی پر لگانا اس کی صلاحیت کو زنگ لگانا ہے ۔ مثلاً، اچھے استاد کو پڑھانے سے اور اچھے سرجن کو سرجری سے علیحدہ کرنے سے نقصان ہی ہوتا ہے ، فائدہ نہیں۔ تنظیم نو کے بعد تھانہ میں ضرورت کے مطابق صرف ’’تفتیشی افسر‘‘ہونے چاہییں۔ ہر ایک کا حکومت کے مقرر کردہ بنیادی سکیل کی بجائے اپنا سکیل ہو۔ ہر افسر کے ساتھ چند مددگار ہوں۔ تھانہ دار انتظامی امور نپٹانے کے ساتھ تفتیشی افسروں میں کام تقسیم کرے اور ان کی نگرانی کرے ۔ ایک ، جہاں کام کم ہویا ایک سے زیادہ تھانوں کا سربراہ ایک اے ایس پی، ہو۔ براہ راست بھرتی اور جوان ہونے کی بنا پر اس میں مشکلات سے نپٹنے کا حوصلہ اور دیانت داری سے کام کرنے کا عزم ہوگا۔ اس کا بھی ذاتی سکیل ہو۔ اے ایس پی سے اوپر ضلع پولیس افسر ہو، جو رابطہ اور نگرانی کا کام کرے ۔ عمارتوں اور تنظیم نو کے ساتھ تھانہ کی ضرورتیں بھی پوری کرنی ہوں گی۔ ہر تھانہ کے سربراہ کو ہر پانچ سال بعد نئی جیپ، ہر تفتیشی افسر کو موٹر سائیکل اور اس کے ہر مددگار کو سائیکل دی جائے ۔ مقررہ مدت کے بعد یہ گاڑیاں تھانہ کے پول میں چلی جائیں تاکہ کسی سواری کے خراب ہونے یا کسی اور ہنگامی ضرورت کے لیے استعمال کیا جا سکے ۔ پولیس کا اپنا مواصلاتی نظام ہونا چاہیے تاکہ ایک تفتیشی افسر ضرورت پڑنے پر ملک بھر میں کسی بھی تفتیشی افسر سے بات کر سکے ۔ مثلاً، بہاولنگر میں پکڑا جانے والا کوئی ملزم بتائے کہ اس کاایک ساتھی ٹھٹھہ میں ہے تو تفتیشی افسر فورا ًوہاں اس کی گرفتاری کے لیے کہہ سکے ۔ تھانہ کلچر کی خرابی سیاسی مداخلت کی بنا پر پیدا ہوتی ہے ۔ ارکان اسمبلی وزیر اعلیٰ سے کہہ کر پولیس افسروں کے تبادلے اور تقرر کراتے ہیں۔ صوبائی پولیس افسر (آئی جی) بھی سیاسی دبائو سے ْآزاد نہیں۔ اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پہلے دورسے مدد لی جائے جب مرکزی حکومت کے افسروں کے تقرر، ترقی، تبادلہ، معطلی، سزا، وغیرہ کے معاملات میں فیصلے صدر کیا کرتا تھا۔ وزیر اعظم بھٹو نے یہ اختیار خود لے کر افسروں کے کام میں سیاست کاروں کی مداخلت کا راستہ کھول دیا۔ اب پولیس افسر اپنے تحفظ اور مفاد کی خاطر سیاست کاروں کا آلہ کار بننے پر مجبور ہیں۔ یہیں سے رشوت، بدعنوانی، اور بے انصافی کا آغاز ہوتا ہے ۔ جب تک پولیس صوبائی محکمہ رہے گا، اس کے کام میں سیاست کاروں کی مداخلت ہوتی رہے گی اور تھانہ کلچر کبھی بہتر نہیں ہو سکتا۔ پولیس مرکزی حکومت کے تحت ہونی چاہیے ۔ اس طرح ملک بھر میں یکساں سوچ اور طریق کار کے تحت کام ہوگا۔ اس کا سربراہ ’’مرکزی پولیس افسر‘‘ہو، اسے مقررہ مدت سے پہلے ہٹایا نہ جا سکے تاکہ آزادی کے ساتھ کام کرے اور کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہ ہونے دے ۔ تبادلہ یا کسی عہدہ پر تقرر صرف میرٹ پر ہو۔ انتظامی معاملات میں وزیر داخلہ یا وزیر اعظم بھی مداخلت نہ کر سکے ۔ اس طرح ہر سطح پر یکسوئی اور دیانت داری سے کام ہو سکے گا اور پولیس کلچر صحیح معنوں میں بدل جائے گا۔ (جاری)