سود کے بارے میں بحث بہت ہو چکی۔ ہم براہ راست حل کی طرف آتے ہیں اور سوال و جواب کی شکل میں بیان کرتے ہیں کہ کیسے تھوڑی سی مدت میں بینکوں سے سود ختم کیا جا سکتا ہے ۔ سوال: سود کے خاتمہ کا آغاز کیسے ہوگا؟ جواب: بینک دولت پاکستان (سٹیٹ بینک) اعلان کرے کہ اگلے مالی سال سے تمام بینک چھ فی صد سے زیادہ سود نہ کسی سے لیں گے اور نہ دیں گے ۔ اس کے بعد ہر چھ ماہ کے بعد شرح سود ایک فی صد کم کر دی جائے ۔ اس طرح بینکوں کو کافی وقت مل جائے گا کہ نئی صورت حال سے مطابقت پیدا کر لیں۔ دو فی صد پر پہنچ کر بینک رک جائیں گے ۔ بینک دولت پاکستان کہے کہ یہ شرح سود کی نہیں بلکہ سروس چارج کی ہوگی۔ قرضوں سے اس شرح سے ہونے والی وصولی بینکوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہوگی۔ سوال: بچت کھاتہ اور میعادی ڈیپازٹ کا کیا ہوگا؟ جواب: جب سود دو فیصد ہو جائے تو بینکوں کے بچت کھاتے جاری کھاتوں میں تبدیل کر دیے جائیں۔ اس طرح ان میں جمع رقوم پر کچھ نہیں دیا جائے گا، جیسا کہ جاری کھاتوں کی صورت میں اس وقت ہوتا ہے ۔ مختلف میعادوں کے لیے جمع کرائی گئی رقوم (فکسڈ ڈیپازٹ) پر بھی کوئی سود نہیں دیا جائے گا۔ سوال: سود کے خاتمہ کے بعد لوگ بینک کھاتوں میں رقوم جمع کرانا بند نہیں کر دیں گے ؟ جواب: جی نہیں۔ بینک کھاتہ میں رقوم جمع کرانے کی وجہ سود نہیں ہوتی۔ سود لینے والے قومی بچت سکیموں میں رقوم جمع کراتے ہیں، جہاں 10 سے 15 فی صد کے درمیان منافع ملتا ہے ۔ اس وقت بینکوں کے بچت کھاتوں میں جمع شدہ رقوم قومی بچت سے تقریبا تین گنا ہیں۔ جب شوکت عزیز کے دور میں بچت کھاتوں کی شرح سود ڈیڑھ دو فی صد تک کم ہو گئی، تب بھی لوگوں نے بینکوں سے زیادہ رقوم نہ نکالیں۔ لوگ بینک بچت کھاتوں میں رقوم حفاظت کی خاطر جمع کراتے ہیں۔ گھر میں رکھی ہوئی نقدی ڈاکو لوٹ سکتے ہیں، گھر ہی کا کوئی فرد چرا سکتا ہے یا نوٹ کسی وجہ سے خراب ہو سکتے ہیں۔ بینک میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ دوسرے ، بینک سے کسی بھِی وقت رقم نکالی جا سکتی ہے ۔ اے ٹی ایم مشین نے رقم نکلوانا اور آسان بنا دیا ہے ۔ سوال: گاہکوں کو بینک کھاتوں سے کوئی فائدہ بھی ہوگا؟ جواب: اگر آپ باقاعدگی سے اپنے جاری کھاتہ سے رقم نکالتے اور اس میں جمع کراتے رہیں تو بینک ایک فارمولہ کے تحت طے کرتا ہے کہ آپ کو کتنا قرضہ دیا جا سکتا ہے ۔ ضرورت پڑنے پر آپ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ میعادی ڈیپازٹ کی صورت میں بینک سود تو نہیں دے گا لیکن اس کی بنیاد پر آپ کو بغیر کسی مزید ضمانت کے قرضہ دے سکتا ہے ۔ یہ قرضہ جمع شدہ رقم کا پہلے سال میں دوتہائی، دوسرے میں تین چوتھائی اور تیسرے سال تک جمع رکھنے پر رقم کے 90 فیصد کے برابر ہو سکتا ہے ۔ اگر کسی کے پاس رقم پڑی ہے تو وہ اسے جمع کرا کے ضرورت پڑنے پر قرضہ لے سکتا ہے۔ بینک کھاتہ داروں کو بہت سی سہولتیں مفت دے گا، جیسے چیک بک، رقوم کی آن لائین ترسیل، ادائیگی (ڈیبٹ) کارڈ، بینک ڈرافٹ، وغیرہ۔ سوال: قرضہ کس بنیاد پر ملے گا؟ جواب: اس وقت بینک زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے قرضہ دیتے ہیں۔ سود ختم ہونے کے بعد قرضوں کی مانگ بہت بڑھ جائے گی۔ چنانچہ بینک دولت پاکستان بینکوں کو ترجیحات کا پابند کرے گا۔ چند مثالیں: برآمدات کی آمدنی سے ہم غیرملکی قرضے اتار سکتے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے روپیہ کی قدر بڑھا سکتے ہیں۔ چنانچہ بینک برآمدی آرڈر ملنے (لیٹر آف کریڈٹ کھلنے ) سے مال کی ترسیل تک تمام برآمد کاروں کو تمام مراحل کے لیے قرضے دیں گے ، چاہے مال خود بناتے ہوں یا بنا ہوا مال دوسروں سے خریدتے ہوں۔ برآمد کی رقم ملتے ہی بینک اپنا قرضہ وضع کر کے بقایا رقم برامدکار کے کھاتہ میں جمع کرا دے گا۔ بلاسود قرضہ سے برآمدات کی لاگت کم ہو جائے گی،جس سے دوسرے ملکوں سے مقابلہ آسان ہو جائے گا۔ دوسری ترجیح صنعتوں کو خام مال اور جاری اخراجات کے لیے قرضوں کی ہوگی۔ تیسری ترجیح پیداواری کاموں کے لیے ہوگی، جیسے کسانوں کو بیج، کھاد، کیڑے مار دوائوں کے لیے قرضہ، جو فصل کی کٹائی کے بعد ادا کرنا ہوگا۔ تاہم ذخیرہ اندوزوں کو گندم، روئی، چینی، وغیرہ، سستی خرید کر مہنگی بیچنے کے لیے قرضہ نہیں ملے گا۔ سوال: کیا مکانوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے قرضے ملیں گے ؟ جواب: تعمیرات کے لیے قرضہ ملے گا بشرطیکہ انھیں بیچنے کی بجائے کرایہ پر دیا جائے ۔ تعمیراتی کمپنی کو مناسب منافع دے کر بینک خود خرید سکے گا اور پھر ایک ذیلی کمپنی کے ذریعہ رہن یا کرایہ پر دے سکتا ہے یا کسی بیمہ کمپنی کو فروخت کر دے گا۔ یہ لاگت پوری ہونے کے بعد کئی دہائیوں تک آمدنی کا ذریعہ ہوگا۔ سوال: حکومت کو بینکوں سے قرضے ملیں گے ؟ جواب: ہرگز نہیں۔ حکومت کو قرضے نہیں دیے جائیں گے ، چاہے اس کے لیے قانون بنایا جائے یا آئین میں ترمیم کرنی پڑے ۔ حکومت اور سرکاری اداروں کا بلا سود قرضوں پر دل للچائے گا لیکن ان کی طلب پوری کرنے سے نجی شعبہ کو قرضے بہت کم ہو جائیں گے ، جس سے معیشت کو بھاری نقصان ہوگا۔ حکومت کو قرضے دینے سے افراط زر میں یقینی اضافہ ہوتا ہے ۔ (جاری)