ملالہ ‘ عبدالستار ایدھی اوربین الاقوامی سازشیں

جب ملالہ نے نوبیل پیس پرائز جیتا تو میں بہت خوش تھا کہ ہمارے ملک کی ایک بچی نے سترہ سال کی عمر میں نوبیل پیس پرائز جیت کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ ملالہ دنیا کی سب سے کمسن نوبیل انعام یافتہ بن گئی ہیں۔ اب تک نوبیل انعام جیتنے والے کل 835افراد ہیں۔ ان میں 791مرد اور 44خواتین شامل ہیں۔ 21نوبیل پرائز مختلف اداروں نے حاصل کیے۔ ملالہ سے پہلے نوبیل پرائز حاصل کرنے والے کم عمر ترین شخص کا نام Sir William Lawrence Braggتھا۔ انہوں نے یہ انعام فزکس کے شعبے میں 1915ء میں حاصل کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 25سال تھی۔ انہوں نے یہ انعام اپنے والد Sir William Henry Braggکے ساتھ مشترکہ طور پر جیتا تھا۔ اب ملالہ نے 2014ء میں سترہ سال کی عمر میں نوبیل انعام جیت کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ ملالہ نے یہ انعام حاصل کرکے پاکستان کو امن کی عالمی شناخت دی ہے۔ 
ابھی میں خوشی کی اس کیفیت سے سرشار ہی تھا کہ اگلے روز اخبارات میں تجزیے اور مضامین پڑھ کر میری آنکھیں کھل گئیں۔ مجھے لگا جیسے کسی نے خواب غفلت سے جگا دیا ہے۔ لکھنے والے یہ دور کی کوڑی لائے (جو ظاہر ہے پھوٹی کوڑی نہ ہوگی) کہ ملالہ کو نوبیل انعام ملنا دراصل ایک بین الاقوامی سازش تھی‘ جو پاکستان کے خلاف کی گئی تھی (اگر نوبیل انعام نہ ملتا پھر بھی ہم نے یہی کہناتھا)۔ میں یہ سب پڑھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ اپنی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہا کہ میں خوش ہوکر خواہ مخواہ دشمنوں (جو ظاہر ہے کہ کافر ہوتے ہیں) کی اس بین الاقوامی سازش کا حصہ بن رہا تھا۔ چونکہ میں معمولی فہم و فراست رکھنے والا ایک ادنیٰ سا بندہ ہوں‘ اس لیے یہ نہ جان سکا کہ یہ دشمنوں کی پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کا نام دہشت گردوں کا ساتھ دینے والوں میں لیا جاتا تھا اور یہ پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ پاکستان کی حکومت دہشت گردوں کا ساتھ دیتی ہے اور دہشت گردی میں فروغ کا بھی باعث ہے۔ میں یہ سمجھا کہ ملالہ کو نوبیل انعام مل گیا،اس لیے اس تاثر کی نفی ہوگئی ہوگی اور اب دوسرے ممالک کو یہ تاثر جائے گا کہ ہمارے ملک کی ایک بچی دہشت گردی کانشانہ بنی لیکن اس نے پھر بھی ہار نہیں مانی اور تعلیم کے حوالے سے آواز بلند کرنے سے باز نہ آئی اور تمام تر دہشت گردانہ کارروائیوں کے باوجود سکول جاتی رہی۔ یہاں تک کہ اس پر قاتلانہ حملہ کیاگیا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری‘ یعنی پاکستان کا بچہ بچہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف ہے بلکہ اس جنگ میں برابر کا حصہ بھی لے رہا ہے، لیکن دورکی کوڑی لانے والوں نے یہ انکشاف کیا کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے۔ میں نے اپنے آپ سے یہ عہد کیا ہے کہ آئندہ اس قسم کی سازشوں کا حصہ بننے کے بجائے ان بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔ 
میں نے اخبارات کو مزید نچوڑا تو یہ انکشاف ہوا کہ ملالہ کے بجائے اگر یہ نوبیل انعام عبدالستار ایدھی کو ملتا تو پھر یہ ٹھیک ہوتا۔ عبدالستار ایدھی پاکستان کے وہ فرشتہ صفت انسان ہیں‘ جنہوں نے 19سال کی عمر میں فلاحی کام شروع کردیے تھے اور ان کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ایک کالم میں ان کا ذکر ممکن نہیں۔ یہ تو بالکل درست بات ہے کہ عبدالستار ایدھی صاحب کو بھی نوبیل انعام ملنا چاہیے بلکہ بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا کیونکہ وہ پاکستان کا فخر ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی غریبوں، بیوائوں ، یتیموں ، لاوارث بچوں کے نام کردی اور اس کے بدلہ میں کبھی ان غریبوں سے ووٹ کے طلب گار
نہ ہوئے۔ بین الاقوامی سازشیں تو ہمارے خلاف چلتی ہی رہتی ہیں لیکن ہم نے خود اپنے عبدالستار ایدھی کے لیے کیا کیا؟ دوسروں سے نوبیل انعام مانگا لیکن ہم نے ان کو کیا سکیورٹی دی؟ یہ نہ بھولیے کے عبدالستار ایدھی کچھ عرصہ پہلے یہ بیان دے چکے ہیں کہ کچھ لوگ ان کی جان لینا چاہتے ہیں اور پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے‘ پھر بھی ہماری حکومت کے کان پر جُوں تک نہ رینگی اور عبدالستار ایدھی کو کسی قسم کی سکیورٹی مہیا نہ کی گئی۔ عبدالستار ایدھی کے کھارادر میں واقع ایدھی فائونڈیشن ہیڈ آفس میں صبح پونے دس بجے کے قریب دوکروڑ روپیہ اور 5کلو سونا کچھ ڈاکو لے کر فرار ہوگئے ۔ یہ ڈاکو یقینا امریکہ نے بھجوائے ہوں گے اور یہ بھی پاکستان کے خلاف ایک سازش ہی ہوگی! خود ہم تو بڑے اچھے ہیں، ہم تو کچھ برا کرتے ہی نہیں ،یہ تو برا ہو دوسرے ممالک کا کہ ہر وقت پاکستان کے خلاف سازشیں ہی کرتے رہتے ہیں۔ میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ آیا کسی دوسرے ملک کے پاس اتنا فالتو وقت ہے کہ وہ ہم جیسوں کے خلاف سازش کا وقت نکالے جبکہ ہم خود ہمہ وقت اس میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی سوچ کر کہ میں دوبارہ بین الاقوامی سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہتا،دور کی کوڑی لانے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اس سازش کو جلد بے نقاب کریں اور میرے جیسوں کو رہنمائی فراہم کریں۔ میں دورکی کوڑی لانے والوں کی توجہ چند دوسری ایسی ہی سازشوں کی طرف کروانا چاہتا ہوں جو دوسرے ممالک ہمارے خلاف کررہے ہیں۔ اگر دورکی کوڑی لانے والے اس پر بھی روشنی ڈالیں تو میرے جیسوں کا بھلا ہوجائے گا۔ سازش نمبر 1:ملالہ نے کہا ہے کہ میں نوبیل انعام کی رقم پاکستان میں تعلیم پر خرچ کروں گی اور ساتھ ہی اوباما سے کہا ہے کہ پاکستان میں کتابیں بھجوائی جائیں نہ کہ ڈرون۔ یہ بھی بین الاقوامی سازش محسوس ہوتی ہے۔ کیا پتا اوباما کتابوں میں ڈرون بھجوا دے۔ یہ امریکی بڑے تیز ہوتے ہیں۔ ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ سوائے ان کی طرف سے آنے والی امداد کے۔ سازش نمبر2: پنجاب اسمبلی میں ممبران اسمبلی نے قرار داد پیش کی ہے کہ تمام ارکان اسمبلی کو بلیو پاسپورٹ جاری کیے جائیں تاکہ اُن کو ویزوں کی سہولت میسر آجائے اور وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کی خدمت کرسکیں۔ دوسرے ممالک میں جاکر پاکستان کے خلاف ہونے والی دیگر سازشوں کا سراغ لگاسکیں۔ میں نے سوچا کہ جب الیکشن میں ان سیاسی جماعتوں نے اپنا منشور پیش کیا تھا تو اس میں یہ بلیو پاسپورٹ والی قرار داد کا ذکر تو نہ تھا! ایسا سوچ کر میں دوبارہ کسی سازش کا حصہ بننے تو نہیں جارہا؟ پڑھنے والوں (اگر کوئی یہ پڑھ رہا ہے تو) سے یہ درخواست ہے کہ اگر انہیں کوئی دوسری سازش‘ جو کفار پاکستان کے خلاف کررہے ہیں‘ کا علم ہو تو فوری اس پتا پر اطلاع دیں لیکن صرف انہی سازشوں کی اطلاع دی جائے جو کفار ہمارے خلاف کررہے ہیں۔ ان سازشوں کے بارے میں بتانے کی کوشش نہ کی جائے جو ہم خود اپنے خلاف کررہے ہیں!شکریہ

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں