بظاہر ایک عام سی شکل و صورت اور شخصیت رکھنے والے 'جیک ما‘ جب اپنی زندگی کی جدوجہد کے دوران ہونے والی ابتدائی نا کامیوں اور مشکلات کا ذکر ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کرتے ہیں تو سننے اور دیکھنے والوں کی حیرت دیکھنے والی ہوتی ہے۔آخر لوگ اس شخص کی باتوں کو توجہ اور ایک خاص طرح کی عقیدت سے کیوں نہ سنیں جو پچھلے پندرہ سولہ برس میں کئی سو کھرب روپے کے اثاثے رکھنے والی کمپنی کا بانی اور چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ چین کی امیر ترین کاروباری شخصیات میں سے ایک ہے ۔ آج کے چین میں ارب اور کھرب پتی دولت مندوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن جو شہرت اور کامیابی 'علی بابا گروپ‘ کو نصیب ہوئی ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ ای کامرس (E-Commerce) یا دوسرے الفاظ میں انٹر نیٹ پر کاروباری اور تجارتی سر گرمیاں اور کام کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی چینی کمپنی کا نام ' علی بابا‘ رکھنے کا بھی ایک دلچسپ پس منظر ہے جو آپ کو ' جیک ما‘ کی زبانی ہی ذرا آزاد ترجمے کے ساتھ بتا دیتے ہیں۔ 'ایک دن میں سان فرانسسکو‘ امریکہ کی ایک کافی شاپ میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ ' علی بابا‘ میری کمپنی کے لئے ایک اچھا نام ہو سکتا ہے۔ اسی دوران کیفے کی ویٹریس آئی اور میں نے بے ساختہ اس سے پوچھا کہ کیا تم علی بابا کے بارے میں جانتی ہو؟ اور اس نے فوراً کہا:''کھل جا سم سم‘‘۔ یہ سنتے ہی میں نے کہا: بالکل یہی نام۔ کیفے سے نکل کر بھی میں نے سڑک پر چلتے پھرتے لوگوں سے علی بابا کا نام پوچھا اور تقریباً سب کو ہی علی بابا اور کھل جا سم سم کی کہانی کا پتا تھا۔ علی بابا کا کردار‘ جس نے گائوں کے عام لوگوں پرکھل جا سم سم کہہ کر خزانے کے منہ کھول دیے تھے‘ ایک مہربان شخص کا تھا‘ جس کا نام لکھنے اور بولنے میں نہا یت آسان اور پوری دنیا میں معروف تھا۔ بس اس علی بابا کے نام کے ساتھ ہی ہم نے چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیوں کے کاروبار کے لئے ویب سائٹ بنائی ۔ علی بابا کے ساتھ علی ماما کا نام بھی رجسٹرڈ کروا لیا گیاتاکہ یہ جوڑا ہی ہما رے پاس رہے ‘۔
'جیک ما‘ چین کے خوبصورت ترین شہر وں میں سے ایک شہر 'ہانگ چو‘ میں 1964ء میں پیدا ہوئے۔ تعلق ایک عام سے گھرانے سے تھا اور وہ دور چینیوں کے لئے مشکلات اور آزمائشوں سے گھرا ہوا تھا۔ جیک کوئی بہت قابل ذکر طالب علم بھی نہیں تھے بلکہ کالج میں داخلے کے امتحانات میں بھی تین مرتبہ ناکامی کا سامنا کیا۔ جیک کو انگریزی سیکھنے کی بڑی خواہش تھی اور خوش قسمتی سے اس کے شہر ' ہانگ چو ‘ نے چین آنے والے ابتدائی سیاحوں کو بھی سب سے پہلے دیکھا۔ اس دور میں سیاحوں کی وہاں آنے کی دلچسپی کی وجہ یہ بھی تھی کہ امریکی صدر رچرڈ نکسن اپنے تاریخی دورے کے دوران اس خوبصورت شہر بھی آئے اور یوں دنیا کو اس شہر کا علم ہوا۔ اس زمانے میں پورے چین میں انگریزی جاننے والے لوگ بہت کم تعداد میں تھے؛ چنانچہ جیک روز اپنی سائیکل لے کر سیاحوں والے ہوٹل پہنچ جاتے اور مغربی سیاحوں کو مفت میں گائیڈ کی خدمات دے کر ان سے انگریزی سیکھنے کی مشق کرتے۔ ایک امریکی خاتون سیاح نے ہی ان کو انگریزی نام جیک بھی دیا تھا۔ تقریباً نو برس تک انہوںنے اپنی یہ مشق جاری رکھی ۔ جیک نے 'ہانگ چو‘ کے ٹیچرز انسٹیٹیوٹ سے انگریزی کے استاد کی سند حاصل کی اور اپنے کیرئیر کا آغاز انگریزی کے ٹیچر کی حیثیت سے ہی کیا۔ ایک متحرک اور متجسس عادت کی وجہ سے ان کو کاروبار ہی بھایا اور سب سے پہلا کاروبار انہوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر ایک انگریزی ترجمہ کرنے والے آفس سے کیا جس کے اخراجات آمدنی سے زیادہ ہی رہتے تھے۔
علی بابا گروپ کی کامیابی کو ہم چین کی بحیثیت ملک کامیابی سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ نوے کی دہائی میں شروع ہونے والی انٹر نیٹ ٹیکنالوجی نے انسانوں کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بدل کر رکھ دیا۔ یہی وہ وقت بھی تھا جب چین کی کاروبار دوست پالیسیوں نے ملک میں صنعتی ترقی کو عروج پر پہنچا دیا۔' جیک ما‘ کو کمپیوٹر یا انٹر نیٹ کی اس نئی دنیا نے بہت متاثر کیا۔ بقول اس کے‘ جب مجھے امریکہ کے دورے کے دوران ایک واقف کار نے انٹر نیٹ کا بتایا تو میں حیران رہ گیا۔ کمپیوٹر پر جب میں نے چین کی مصنو عات کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کچھ نہ ملا اور پھر میں نے خود یہ کام کرنے کی ٹھانی۔کہتے ہیں کہ قسمت بھی اس وقت چمکتی ہے‘ جب آپ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری تیاری کر چکے ہوتے ہیں۔ سال 1999ء تک جیک ما نے کچھ تجربہ حاصل کرنے کے بعد اس بات کی ٹھان لی کہ یہ موقعہ کمپنی بنانے اور بڑے پیمانے پر کام کرنے کے لئے آئیڈیل ہے۔ اپنے اپارٹمنٹ میںسولہ سترہ دوستوں کو جمع کر کے اس کمپنی کی بنیادرکھنے ا ور ابتدائی سرمایہ کاری کی کامیاب کوشش کی اور یوں اس ٹیم کی کامیابیوں کا وہ سفر شروع ہوا جس کی چین کی کاروباری تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔آج اسی شہر 'ہانگ چو‘ میں‘ جہاں جیک برسوں تک سیاحوں سے محض انگریزی سیکھنے کے لئے مفت خدمات فراہم کرتا رہا، 'علی بابا گروپ‘ کے ہیڈ کوارٹر میں چونتیس ہزارسے زائد افراد ملازمت کرتے ہیں ۔اس گروپ نے2014ء میںجب نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں اپنے شیئرز بیچے تو ان کی اتنی ڈیمانڈ تھی کے کمپنی نے بائیس ارب ڈالر کے لگ بھگ ابتدائی سرمایہ کاری حاصل کر لی جو جلد ہی پچیس ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ ایک ریکارڈ ساز اور تاریخی کامیابی تھی۔
آج اس گروپ کی کمپنیاں محض چھوٹا یا درمیانہ کاروبار کرنے والوں کو ہی سہولت فراہم نہیں کرتیں بلکہ چین کی دو سب سے بڑی آن لائن شاپنگ کی ویب سائٹس بھی چلاتی ہیں۔ کروڑوں لوگ ان ویب سائٹس پر جاکر تقریباٌ ہر وہ چیز جو ذہن میں آسکتی ہے منٹوں میں خرید لیتے ہیں۔ تھائوبائو اور ٹی مال کی یہ شاپنگ ویب سائٹس کھربوں روپے کی معاشی سر گرمیاں کرتی ہیں۔ اتنی بڑی رقوم کا لین دین اور اشیاء کی فراہمی کے نظام سے کروڑوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے ۔ بے تحاشہ دولت اور کامیابی کے باوجود جیک ما کو اصل خوشی اس وقت ملی جب بیجنگ کے ایک ہوٹل کے ملازم نے اس کو پہچانتے ہوئے یہ کہہ کر شکریہ ادا کیا کہ علی بابا کی سر گرمیوں کی وجہ سے اس کی بیوی کا چھوٹا سا کاروبار چمک اٹھا ہے اور وہ اس سے بھی زیادہ رقم کما لیتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق بارہ کروڑ سے زائدلوگ ان ویب سائٹس کا روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیںاور ساڑھے تین ارب ڈالر سے زیادہ کی معاشی سر گرمیاںہوتی ہیں۔ یہ سب بظاہر ایک معجزہ لگتا ہے لیکن انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے اس صدی کے آغاز سے ہی کئی ایسے نام پیدا کئے جن کی کامیابی اور امارت چند برسوں کا ہی نتیجہ ہے۔ کیا یہ محض ان لوگوں کی قسمت تھی یا پھر شدید محنت اور مواقع سے بھرپور فائدہ ْاٹھانا۔ ' جیک ما‘ ہو یا عام لوگوں کے لئے آئی فون کے حوالے سے مشہور ہونے والے ایپل کمپنی کا بانی ' اسٹیو جابز‘ ان سب میں جو قدر مشترک نظر آتی ہے وہ مشکل حالات کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اپنی گفتگو میں یہ لوگ نہایت صاف گو اور سادہ نظر آتے ہیں بلکہ اپنی زندگیوں کے مشکل ترین لمحات کا بلا تکلف ذکر کرتے ہیں۔ ان کی یہ کامیابیاں کسی شارٹ کٹ کا نتیجہ نہیں‘ برسوں کی محنت اور لگن نے ان کو اس مقام تک پہنچادیا کہ جب مواقع پیدا ہوئے اور انہوں نے دونوں ہاتھوں سے ان کو پکڑلیا‘ لیکن ان موقعوں کا انتظار کرتے ہوئے اپنی تیاری رکھنا شاید ان کی اصل خوبی تھی کیونکہ درمیان کے بے ثمر دنوں کو ہر کوئی سہہ نہیں سکتا جب کوئی آپ پر یقین نہیں کرتا۔
ترقی کرنے والے ممالک تگڑی کمپنیوں کے بھی مالک ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایسا ماحول بنا دیتے ہیں جہاں جیک ما جیسے محنتی اور پُرعزم لوگوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقعہ ملتا ہے ۔ ہمارے لئے بھی وقت آپہنچا ہے کہ ترقی کے خواہش مند با صلاحیت لوگوں کو مواقع فراہم کئے جائیں۔اگر یہ لوگ کامیاب ہوگئے تو کروڑوں کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ایک بار اپنے ملک کے علی بابائوں کو مواقع مل گئے تو چالیس چور خود ہی ختم ہو جائیں گے۔