روز مرہ کے سفر کے لئے میں زیر زمین میٹرو ٹرین لائن نمبر دس استعمال کرتا ہوں اور گزشتہ ڈھائی برس میں سینکڑوں مرتبہ اس سبک رفتار اور خوبصورت ٹرین میں بیٹھ چکا ہوں۔ یہ میٹرو لائن شہر کے ایک کونے میں موجود انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے لے کر دوسرے کونے کے ہونگ چھیائو ایئر پورٹ اور ہائی سپیڈ ٹرین سٹیشن تک جاتی ہے اور اس دوران شہر کے کئی مرکزی علاقوں سے گزرتی ہے۔اس ڈھائی سال کے عرصے میں سفر کے دوران غالباٌ چار یا پانچ مرتبہ میں نے اس ٹرین کے اندر ایک عورت کو دس گیارہ برس کے نابینا بچے کے ہمراہ بھیک مانگتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ جینز اور جاگرز پہنے یہ بھکاری اگر ہاتھ میں ڈبہ لئے مانگ نہ رہے ہوں تو اتنے بھی غریب نہیں لگتے کہ محض ان کو دیکھ کر کوئی پیسے دے ۔ اسی طرح دو یا تین مرتبہ ہاتھ میں مائیک تھامے اور کندھے پر ریکاڈر لٹکائے گانا گاتے ہوئے ایک مانگنے والے سے بھی پالا پڑا۔غیر ملکیوں اور سیاحوں میں مقبول ایک سٹریٹ پر چند ایک مستقل مانگنے والے بھی نظر آجاتے ہیں،البتہ پورے شہر میں کہیں بھی بھکاریوں کے غول نظر نہیں آتے ہیں اور شاید ہی پیدل چلنے کے دوران کسی مانگنے والے نے پیچھا کیا ہو۔ اکثر سٹیشنوں کے پاس فٹ پاتھوں پر چادر بچھائے چھوٹی موٹی نئی یا پرانی اشیاء فروخت کرنے والے بھی عام مشاہدے کا حصہ ہیں۔دنیا بھر میں غربت کی انتہائی سطح ناپنے کے لئے کم ازکم ایک رقم طے کی جاتی ہے ۔ اگر کسی فرد کے پاس اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لئے یہ رقم نہ ہو تو وہ غربت کی نچلی ترین سطح پر قرار پاتا ہے۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ اس کا تعین کیسے کیا جاتا ہے بس اتنا سمجھ لیں کہ اگر کسی فرد کے پاس روزانہ کی بنیاد پر موجودہ ڈالر ریٹ کے مطابق پاکستانی سوا سو سے ڈیڑھ سو روپے کے لگ بھگ رقم نہ ہو تو اس کے لئے زندگی کا ہر لمحہ ایک آزمائش بن جاتا ہے۔
1980ء کے چین میں دنیا کی سب سے بڑی غربت زدہ آبادی پائی جاتی تھی جو کل آبادی کا 84فیصد تک تھی اور ذرا دل تھام کے پڑھئے گا کہ گزشتہ35 برس کے دوران چین میں انتہائی غریب لوگوں کی تعداد صرف10فیصد تک رہ گئی ہے۔ایک ارب پینتیس کروڑ کے لگ بھگ آبادی میں دس فیصد بھی تیرہ کروڑ لوگ بنتے ہیں، لیکن 74 فیصد کو غربت کی انتہائی دلدل سے محض تین عشروں کے عرصے میں نکال لینا انسانی تاریخ میں ترقی کا ایک معجزہ ہے۔ شنگھائی اور اس سے متصل چین کے مشرقی ساحل پر واقع صوبے یہاں کاسب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مالدارخطہ ہے اور شمال میں دارالحکومت بیجنگ سمیت مشرقی چین کے جن دس شہروں کا میں نے سفر کیا ہے وہ انفراسٹر کچر اور صنعتی ترقی میں خیرہ کن نظر آتے ہیں۔ جیانگ سو اور چاجیانگ وہ دو مالدار اور ترقی یافتہ مشرقی ساحلی صوبے ہیں جن کے اہم شہر میںدیکھ چکا ہوں۔چین کا اقتصادی معجزہ اس مشرقی علاقے سمیت جنوبی شہروں شن چن اور گوانگ چوسے شروع ہوا تھا اور اب اس وسیع و عریض ملک کے باقی علاقوں میں بھی اس کے اثرات پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ان شہری علاقوں کے خصوصی اقنصادی زونز نے غیر ملکی سر مایہ کاری اور صنعتوں کے قیام سے مختصر عرصے میں ملک کی اقتصادی ترقی کے گھوڑے کو ہوا سے باتیں کرنے والی رفتار دے ڈالی ہے۔محض تین عشروں میں معاشی ترقی کا یہ جادوئی سفر نہ تو اتنا سادہ ہے اور نہ ہی چینی باشندے مکمل طور پر افلاس سے چھٹکارہ حاصل کر پائے ہیں۔آج بھی ایک بہت بڑی شہری ورکنگ کلاس اور دیہی آبادی قلیل آمدنی میں گزارا کرتی ہے ،لیکن یہ کہنا درست ہوگا کہ اکثریت اب غربت سے نکل کر لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس میں شامل ہو چکی ہے۔
چین میں غربت کی کمی نے دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کو ایک نئی ا مید دی ہے۔ اب اقوام متحدہ جیسے ادارے چین کے تجربے کے بعدپُر امید ہیں کہ 2030ء تک شاید پوری دنیا سے انتہائی غربت کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ چینی قیادت کو اس بے مثال ترقی کے باوجود اپنے باشندوں کی معاشی خوشحالی اور بہتر معیار زندگی کے حوالے سے بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جو میری نظر میں یہاں کی ترقی کا دوسرا اور نہایت اہم دور ثابت ہونے والا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم پہلے دور کی تین عشروں پر مشتمل ترقی کا جائزہ لیں تو نہایت تیز رفتا ر صنعتی پھیلائو اور حیران کن حد تک بڑے انفراسٹرکچر کے منصوبے مکمل ہوتے نظر آتے ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر بڑے تعمیری پر وجیکٹس مکمل کئے گئے اورسڑکوں ، بندر گاہوں اور ریلوے نیٹ ورک کے جال بچھائے دئیے گئے۔ ملک کے منتخب علاقوں میں نئے معاشی مواقع کے باعث کروڑوں دیہاتی محنت کشوں نے یہاں کا رخ کیا اور یوں برسوں سالانہ دس فیصد تک مثالی ترقی کی سطح برقرار رکھی ۔ اس پہلے دور کی کامیابیوں کی قیمت بھی کچھ کم نہ تھی۔ ان میں اولین بے تحاشاصنعتی پیداوار کے باعث پیدا ہونے والی سنگین ماحولیاتی آلودگی ہے۔ دوسرا بڑا چیلنج ملک کے مختلف حصوں میں ترقی اور خوشحالی کا عدم توازن ہے۔ ترقی یافتہ شہروں اور اندرون ملک دور دراز دیہی علاقوں میں آمدنی، تعلیم اور معیار زندگی میں فرق بہت بڑھ چکا ہے، وسطی ، مغربی اور شمال مغربی صوبے جو ساحلی علاقوں سے بہت دور ہیں ترقی کے ثمرات سے پوری طرح فوائد نہیں سمیٹ پائے ہیں ۔اسی طرح بے شمار منصوبوں کے بیک وقت بننے کے دوران بد عنوان آفیشلز نے مالی کرپشن کر کے چینی کمیونسٹ پارٹی کی ساکھ کے لئے بڑے مسائل پیدا کئے۔ ایک نہایت مالدار طبقے کی موجودگی اور خوشحال مڈل کلاس کے ساتھ کم آمدنی والی ورکنگ کلاس کی کمزور مالی حالت چینی نظام میں آمدنیوں کے بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کرتی ہے ۔
ایک عام اور حقیقت پر مبنی تاثر یہ ہے کہ 1978ء میں چین کا قبلہ آزادانہ معیشت کی طرف کرنے والے تاریخ ساز رہنما ڈینگ ژیائو پھنگ کے بعد موجودہ صدر شی جن پھنگ وہ دوسرے چینی رہنما ہوں گے جو بہت اہم اور دور رس تبدیلیوں کا باعث بننے جا رہے ہیں۔ چینی معیشت کے تیز رفتار گھوڑے نے اپنی سمت تبدیل کرنے کے لئے رفتار کم کر دی ہے۔ چینی صدر جہاںعالمی سطح پر چینی اثرات کے پھیلائو کو عظیم چینی خواب قرار دے کر آگے بڑھ رہے ہیں وہاں اندرون ملک بھی ترقی اور ماحولیات کے حوالے سے چینی ماڈل میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کے سنگین چیلنج سے مقابلے کے لئے اس کا باعث بننے والی صنعتوں پر چیک بڑھنے سے پیداوار کی رفتار میں کمی کا اندیشہ ہے ۔اب محض رفتار ہی نہیں بلکہ معیار بھی پیش نظر ہو گا۔کمیونسٹ پارٹی کی ساکھ کو مضبوط کرنے کے لئے بدعنوانی پر بہت سختی سے ہاتھ ڈالا گیا ہے اور کرپشن کر کے ملک سے فرار ہونے والے افراد کو پکڑے جانے کی مہم زوروں پر ہیـ۔کم ترقی یافتہ علاقوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ چین کو سمندری اور زمینی راستوں کے ذریعے دنیا بھر سے جوڑنے کا کام مستقبل کی نئی صورت گری کرے گا۔ غربت سے لڑ کر معاشی خوشحالی حاصل کرنے والے باشندوں کی بڑھتی ہوئی خواہشات اور مطالبوں کو پورا کرنے کے لئے بھی ملک میں ایک توانا سروس انڈسٹری کے امکانات پر کام ہونا ضروری ہو گیا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چین کمانے کے ابتدائی دور کے بعد اب اپنے محفوظ شدہ سرمائے کو اندرون اور بیرون ملک طویل المیعاد منصوبوں پر خر چ کرنے کا آغاز کر چکا ہے۔ چینی اداروں کی دنیا بھر میں منصوبوں پر بڑھتی سرمایہ کاری اور اثرات بھی ایک نیا موڑ ہے ۔ اس سے پہلے دنیا یہاں سرمایہ لگا کر چینی محنت کا پھل کھا رہی تھی اب اسی پھل کو چکھنے کے لئے چینی دنیا کا رخ کر رہے ہیں۔جب وہ اپنے سربراہ کو امریکی صدر اور بر طانوی ملکہ کے ساتھ جام ٹکراتے دیکھتے ہیں تو ان پر بھی خمار طاری ہو جاتا ہے لیکن جام سے جام ٹکرانے والے ان کے لیڈر کو اس بات کا احساس ہے کہ چینی عوام کی اکثریت کو ترقی یافتہ معاشروں جیسی سہولیات دینے اور خوشحال بنانے کی منزل ابھی دور ہے۔ اسی لئے وہ جب واپس اپنے ملک پہنچتے ہیں تو دور دراز کے علاقوں میں اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگانے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ اگر گڑ دینے میں وقت لگ رہا ہے تو گڑ جیسی بات تو کی جا سکتی ہے۔