مقامی کنڈر گارٹن کا ہال بھرا ہواہوتا تھا اور تقریباً ڈھائی سو طلبا کے والدین سکول کی پرنسپل اور ٹیم سے نئے تعلیمی سمسٹر کا تعارف سننے کے لئے موجود ہوتے تھے۔ ان تمام لوگوں میں واحد غیر ملکی ہونے کے باوجود میں متعددمرتبہ نہ صرف شریک ہوا بلکہ چینی زبان میں دی جانے والی بریفنگ کو بڑے تحمل سے سنتا ، اس دوران جو تھوڑا بہت پلے پڑتا اس کے کچے پکے نوٹس لے لیتااور کسی انگریزی بولنے والے چینی سے پوچھ بھی لیتا تاکہ واپس آکر گھر میںیہ باتیں اس اعتماد سے بتائوں جیسے ایک ایک لفظ سمجھ آگیا ہو۔ زندگی کے بے شمار تجربات میں سے یہ ایک نرالا ہی تجربہ تھا۔ اپنے ڈھائی سالہ بیٹے کوگھر سے نزدیک ترین ایک مقامی چینی سکول کے پلے گروپ میں داخل کروانے کے فیصلے کے پیچھے شنگھائی کے انٹر نیشنل سکولز کی ہوشربا فیسوں کے علاوہ ہمارا ایڈونچرازم کا شوق بھی تھا کہ یہاں سے وہ خالص شنگھائی والے لہجے میںچینی زبان فر فر بولتا ہوا نکلے گا ۔ اس پرائیوٹ لیکن چینی بچوں کے سکول میں انگریزی بحیثیت مضمون سکھائی جاتی تھی اور ہر اعتبار سے یہ ایک مناسب جگہ تھی جہاں بچوں کو صبح سا ڑھے آٹھ بجے سے شام چار بجے تک رکھا جاتا۔ یہ جگہ ہمارے لئے' اصلی تے وڈے‘ مقامی چینی باشندوں سے رابطے کا پہلا ذریعہ ثابت ہوئی جو ابتدائی انکشافات سے بھرپور تھی۔ سب سے پہلے تو مقامی چینی سٹاف کے لئے یہ داخلہ بذات خود ایک نیا تجربہ تھا اور انہوں نے مختلف نقوش کے اس بچے کو خوشگوار حیرت سے دیکھا اور یہ اکلوتا غیر ملکی ایک اچنبھے کی بات بن گیا۔ دوسرا ہمارے لئے چینی باشندوں کا غیر ملکیوں سے سماجی سطح پر نسبتاً جھجک والا انداز بھی دلچسپی کا باعث تھا۔ اکثر کو انگریزی کی سمجھ تھی، پھر بھی آگے بڑھ کر تعارف اور گپ شپ بالکل نہیں کرتے تھے۔ان کے لئے ایک چینی ذریعۂ تعلیم والے سکول میں'وائے گوا رن‘ یعنی غیر ملکی کا داخلہ لینا ایک نہایت غیر معمولی بات تھی۔ یہیں پہلی بار اس بات کا مشاہدہ بھی ہوا کہ بچوں کی بڑی تعداد کو سکول چھوڑنے اور لینے کی ذمہ داری ان کے بزرگوں یعنی دادا ،دادیوں، نانا، نانیوں کی تھی۔
اس منفرد تجربے کے بڑے دلچسپ نتائج سامنے آئے جن کا ذکر ایک کالم میں کرنا ذرا مشکل ہے، بس اتنا سمجھ لیں کہ بچے نے تو جو سیکھنا تھا وہ سیکھا ہی، ہمارے لئے بھی یہ ایک نیا چیلنج ثابت ہوا۔ صرف چاول کے ایک دانے سے دیگ کا اندازہ لگانا چاہیںتو یہ ذکر کر دوں کہ اگر میں اپنے بیٹے سے دیسی تڑکا لگی لنگڑاتی سی چینی زبان میں بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں، تو وہ حیرت سے دیکھ کر کہتا ہے کہ آپ' چونگ گوآ‘ یعنی چین کے نہیں ہو اس لئے اردو میں بولو۔ اس کنڈر گارٹن کے اختتام پر اب وہ ایک انٹرنیشنل سکول میں جانے لگا ہے اور اس کی ساری دلچسپی چینی زبان سے انگریزی اور بھانت بھانت کے ملکوں سے آئے اپنے نئے ہم جماعتوں کی طرف منتقل ہو گئی ہے ۔ وہ چینیوں کے علاوہ سب کو انگلش کہہ کر پکارتا ہے، اس نئی درجہ بندی میں بے چارے کورین اور جاپانی بھی چینی ہی قرار پاتے ہیں۔دو ہفتے قبل ایک ویک اینڈ پرسکول نے اپنے کیمپس میں والدین کو بچوں کے ہمراہ ایک فیملی ڈے کے لئے نہ صرف مدعو کیا بلکہ ہر فیملی کو اپنے ملک کی ایک ڈش بھی بنا کر ساتھ لانے کا حکم صادر کر دیا،سو ہم بھی چپلی کباب کا ایک ڈبہ ْاٹھائے سکول پہنچ گئے۔یہاں پر چینی والدین کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ یورپینز، جاپانی ، کورین اکا دکا انڈینز سمیت مختلف ملکوں کے بچے اور ان کے والدین کھانوں کے ڈبوں اور گھاس پر بچھانے کے لئے چٹائیوں (Mats) کے ہمراہ اس مختصر پکنک پر موجود تھے ۔ ان لوگوں کو آپ شنگھائی میں رہائش پذیر دو لاکھ کے قریب غیر ملکیوں کا ایک نمائندہ گروپ سمجھ سکتے ہیں ۔
دنیا کے ہر میگا سٹی اور کاروباری مرکز کی طرح اس شہر میں بھی نوکریوں اور کاروبار کے غرض سے آئے ہوئے ان غیر ملکیوں کی اپنی ایک رنگ برنگی دنیا ہے۔ سب سے زیادہ تعداد میں جاپانی اور کورین باشندے پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد امریکیوں کی ایک معقول تعداد سمیت یورپی ممالک کے باشندوں کی موجودگی بھی واضح نظر آتی ہے۔ اس انٹرنیشنل کمیونٹی کی وجہ سے ہی ایسے سکولوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جہاں وہ بین الا قوامی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو بچوں کے لئے اپنے ممالک یا کسی دوسری جگہ منتقلی کی صورت میں وہاں بھی موجود ہو، مثلاً ہمارے ملک میں متمول طبقے کے لئے کیمبرج سسٹم کا فیشن ہے تو یہاں اکثر سکولوں میں سوئٹزر لینڈ کا نصاب بڑا مقبول ہے، جسے انٹرنیشنل بیکالارئیےIB) ( کہا جاتاہے۔یہاں کے بڑے سکولوں میں امریکن، برٹش اور شنگھائی سنگاپور سکول سمیت کم وبیش بیس پچیس نمایاں تعلیمی ادارے موجود ہیں، جہاں ذریعۂ تعلیم انگریزی ہے اور اساتذہ بھی غیر ملکی ہی ہوتے ہیں۔ شنگھائی میں رہنے والے زیادہ تر غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملازم یا کاروباری افراد ہیں، اس لئے ان سکولوں کی چکرا دینے والی فیسیں دے پاتے ہیں۔ اس کثیر الثقافتی Multi cutlural) (ماحول میں دو مختلف ٹرینڈز بڑے نمایاں ہیں، لوگ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ سر گرمیاں کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ایک بڑی غیر ملکی کمیونٹی کا بھی حصہ ہیں، جس کے بعض مسائل اور تر جیحات یکساں ہوتی ہیں۔ چین کے اقتصادی معجزے کے نتیجے میں جہاں دنیا بھر کے تجارتی اداروں کے قیام سے یہاں بین الا قوامی کمیونٹی بڑھی ہے، وہیں مغرب میں سکڑتے معاشی حالات کے باعث وہاں کے لوگوں نئے مواقع کی تلاش میں یہاں پہنچے ہیں۔خدا انگریزی کا بھلا کرے۔ اس کو پڑھانے اور سکھانے کی مارکیٹ نے گوروں کے لئے یہاں ایک فوری اور سہل ذریعۂ آمدنی پیدا کیا ہے، جس کے نتیجے میں شنگھائی سمیت چین کے بڑے شہروں میں ان کے لئے روزگار کے مواقع پیداہوئے ہیں ؛اگرچہ ان کی تنخواہیں مغرب کے معیار سے بہت زیادہ پُر کشش بھی نہیں۔
یہاں رہائش پذیر غیر ملکی کمیونٹی کی اکثریت اچھی نوکریاں یا منافع بخش کاروبار کرتی ہے اور نچلی سطح پر غیر ملکی محنت کشوں کا تناسب نہ ہونے کے برابر سمجھیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ معیار کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔ اگر ہم یہاں غیر ملکیوں کے لئے مخصوص رسالوں ، ویب سائٹس یا بلاگز کا جائزہ لیں تو سب سے اہم مسئلہ جو زیر بحث رہتا ہے وہ یہاں سال کے چند ہفتوں خصوصاً سردیوں میں بڑھ جانے والی فضائی آلودگی ہے۔ لوگ اپنے موبائل فونز پر آلودگی کی سطح بتانے والی معلومات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور چہروں پر ماسک پہننے سے لے کر دیگر اہم احتیا طیں ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں۔یہ تو خیر ایک ضروری بات ٹھہری،لیکن کھانے پینے کی اشیا کی خریداری اور استعمال پر بھی ایسے نت نئے مشورے ملیں گے کہ بندے کی بھوک ہی مٹ جائے۔بعض اوقات یہ باتیں امرا کے چونچلوں کی طرح لگتی ہیں۔ان باتوں سے مجھے بانو قدسیہ کے ایک افسانے کا وہ مکالمہ یاد آجاتا ہے، جس میں ایک کردار لوگوںکے نمائشی انداز پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ لوگ تو اپنا ناخن بھی کاٹ کر ایسے دکھاتے ہیں جیسے چاند ہو۔گو کہ مشہور برانڈز کی قیمتیں یہاں خاصی زیادہ ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی شاپنگ کے دوسرے لا محدود سستے مواقع بھی اس کمیونٹی خصو صاً خواتین کے لئے بڑی کشش رکھتے ہیں۔ شہر کے بعض علاقے غیر ملکیوں کی آماجگاہ ہیں جہاں کے ریسٹورنٹس، بارز اور کلبز میںرونق لگی رہتی ہے ۔اس موقع پر یونیورسٹیوں کے غیر ملکی طلبا کا ذکر بھی اہم ہے۔ دنیا بھر سے ہزاروں سٹوڈنٹس یہاں کی ملٹی کلچرل زندگی کا ایک اور توانا رخ ہیں۔ نوکری پیشہ یا کاروباری غیر ملکی کمیونٹی کے بر عکس یہ طبقہ فکروں سے آزاد الیکٹرک موٹر سائکلوں پر گھومتا پھرتا زندگی کے مزے لوٹتا ہے۔ یہ کمیونٹی مالی طور پر تو مضبوط نہیں ہوتی لیکن سکالر شپس اور ہوسٹل کی رہائش ان کو اتنا بے فکر ضرور کر دیتی ہے کہ یہ نہ آلودگی میں اضافے کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ ہی سردی اور بارش ان کے ایڈونچرز میں کوئی خلل ڈالتی ہے ۔ مالدار کارپوریٹ سیکٹر کے نخریلے لوگ،تیز طرار کاروباری طبقہ،من موجی سٹوڈنٹس اور غیر ملکی ٹیچرز کی ایک کھیپ، سب ہی چین میں دنیا کے رنگ بھر رہے ہیں ۔ باقی بات چینیوں کی رہی تو چینی جہاں بھی رہیں اپنی الگ دنیا بساکر رکھتے ہیں چاہے وہ شنگھائی ہو یا نیو یارک کا چائنا ٹائون ۔