ایک جز وقتی یا پارٹ ٹائم لکھاری کی حیثیت سے چین میں گزشتہ تین برس کا قیام خاصا دلچسپ رہا۔ ابتدا میں ایک نامانوس ماحول اور زبان کی ناواقفیت کی وجہ سے اردگرد کے لوگوں کو سمجھنا ایک چیلنج تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرا، چینی زبان سے شناسائی بڑھی۔ مشاہدے میں بہتری آئی اور چیزوں کو سمجھنا آسان ہوتا گیا۔ اس دوران چین کے مشرقی صوبوں اور شہروں میں سفر نے بھی کافی کچھ سیکھنے کا موقع دیا۔ ایک ایسے وسیع و عریض ملک کے متعلق تفصیلی طور پر جاننا برسہا برس کا کھیل ہے، جو مشرق میں کوریا اور جاپان سے شروع ہو کر مغرب میں پاکستان، بھارت اور نیپال تک جبکہ شمال میں سرد برفانی روس سے لے کر جنوب کے گرم مرطوب ویتنام اور برما تک پھیلا ہوا ہے۔ خوش قسمتی سے میرا کام ایک ایسے امریکی صحافی اور رائٹر نے آسان کر دیا جو میری یہاں 2012ء کے اواخر میں آمد سے پانچ برس قبل واپس جا چکا تھا۔ پیٹر ہیسلر (Peter Hessler) نے 1996ء سے 2007 ء تک کا عرصہ چین میں انگریزی کالج کے ٹیچر اور فری لانس صحافی کے طور پر گزارا اور اپنے قیام کے برسوں میں ہونے والے مشاہدات بڑی مہارت سے قلم بند کیے۔ چینی زبان مہارت سے بولنے والا ایوارڈ یافتہ امریکی صحافی اور مصنف جب یہاں رہا‘ وہ اس ملک کی تیز ترین تبدیلیوں کے اہم سال تھے۔ اس اعتبار سے آج دنیا کے اسٹیج پر میں جس گبھرو جوان جیسے چین کو دیکھ رہا ہوں‘ پیٹر اس کے لڑکپن اور نوجوانی کا ساتھی رہا۔ چین کے دور دراز دیہی علاقوں کا سفر اور عام چینی باشندوں کی زندگیوں کا قریب سے مشاہدہ ان تحریروں کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کی تینوںکتابیں River Town ، Oracle Bones اور Country Driving پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ کمپنی یعنی چین کی مشہوری اور اس کے متعلق مزید گہرائی سے جاننے کے لیے اس کی کتاب' کنٹری ڈرائیونگ ‘ کی چند ایک جھلکیاں یہاں پیش خدمت ہیں:
مصنف دیوار چین سے متصل علاقوں کے سفر کا احوال بیان کرتا ہے جس میں وہ ایک کرائے کی جیپ خود ڈرائیو کرتا ہوا نکل کھڑا ہوا۔ اس کا سفر بیجنگ سے شروع ہو کر چین کے زیر انتظام منگولیا تک چلتا ہے۔ وہ اس دشوار گزار راستے پر دیوار چین کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں ایک خانہ بدوش کی طرح سفر کرتے ہوئے رات پڑنے پر اپنا خیمہ لگا کر بسر کرنے میں بھی دقت محسوس نہیں کرتا۔ چینی بادشاہوں نے دیوار چین بنیادی طور پرشمال کے منگول حملہ آوروں سے حفاظت کے لیے تعمیر کی تھی۔ اس اعتبار سے راستے میں آنے والے قصبے قدیم سرحدی علاقے تھے۔ وہ جن مقامات پر بھی رکتا اسے وہ چھوٹے قصبے عمر رسیدہ لوگوں یا پھر بچوں سے آباد ملتے کیونکہ یہاں کی جوان آبادی روزگار کے لیے قریبی شہروں یا صنعتی علاقوں کا رخ کر چکی تھی۔ اسی طرح کے ایک گائوں میں رک کر جب وہ ایک مقامی بزرگ سے قریبی دیوار چین کے اہم مقامات کا پوچھتا ہے تو بچے بھی اس کی جیپ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ وہ بزرگ جو والدین کی عدم موجودگی میں ان بچوں کی دیکھ بھال کے ذمے دار ہیں، ان سب کو جیپ میں سوار کروا دیتے ہیں کہ یہ تمہیں راستہ دکھا دیں گے کیونکہ یہ وہاں اکثر کھیل کود کے لیے جاتے رہتے ہیں۔ یوں چھ سات سال بارہ سال کی عمر والے یہ بچے لپک کر اس کی جیپ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ دیوار چین کے اس حصے کو دیکھنے کے ساتھ جو بات اس کے لیے حیران کن تھی وہ بزرگ کا اعتماد سے بچوں کو اس کے ہمراہ روانہ کرنا تھا۔ سینکڑوں میل کے اس سفر کے دوران اس کو ان قصبوں کے غربت زدہ بزرگوں کی سادگی اور زندہ دلی دونوں دیکھنے کا موقع ملا ، جن کی نئی نسل یہاں سے کوچ کر چکی تھی اور محض چھٹیوں کے دوران ہی یہاں کا رخ کرتی۔ اس سفر سے ہمیں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ہزاروں کلو میٹر پر پھیلی دیوار چین کے بعض دور دراز مغربی حصے بھاری بھرکم پتھروں کے علاوہ گارے نما مٹی سے بھی تعمیر ہوئے تھے، جو ان مقامات پر نہایت کم بلند اور خستہ حالی کا شکار تھیں۔ بیجنگ کے نزدیک واقع سیاحوں میں مقبول دیوار چین کے حصے تو دور تک بہت بڑے سٹرکچر کے ساتھ موجود ہیں، لیکن اس کے مختلف حصوں کی تعمیر نہ تو بیک وقت ہوئی تھی اور نہ ہی یہ کسی ایک بادشاہت کے بس کاکام تھا۔ یہاں مصنف دیوار چین کے بارے میں ماضی کی مبالغہ آمیز باتوں کا بھی ذکر کرتا ہے یعنی 1923ء میں نیشنل جیوگر افک میگزین کا یہ دعویٰ کہ دیوار چین چاند سے انسانی آنکھ کو نظر آ جاتی ہے‘ بقول مصنف 1923ء میں تو کوئی چاند پر پہنچا ہی نہ تھا جو اس کو دیکھ سکتا اور نہ ہی بعد میں یہ ممکن ہو سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ دیوار چین کی ہزاروں کلو میٹر طوالت اور اس کا عظیم الشان سٹرکچر بلا شبہ ایک عجوبہ ہے، لیکن گزشتہ صدی میں یہاں اوّلین پہنچنے والے مغربی باشندے چینی بادشاہت کی عظمت، تعمیرات اور دیوار چین سے اتنے متاثر ہوگئے کہ اسے ایک دیو مالائی حیثیت دے دی اور چینیوں نے بھی اس اعزاز کو بخوشی قبول کر لیا۔ اس دیوار کے ساتھ چند اہم سرحدی قصبوں کے ناموں کا ذکر بھی اس کتاب میں بڑے دلچسپ انداز میں ہوا ہے۔ ان قصبوں کے ناموں کا تر جمہ '' ہو کو توڑ یا تباہ کردو‘‘ (Smash the Hu) یا ''ہو کی گردن مار دو‘‘ (Slaughter the Hu) وغیرہ تھے۔ یہاں ' ہو‘ کے اصل معنی تو کچھ اور ہیں لیکن اس سے مراد وہ حملہ آور ہیں جو ان علاقوں میں گھس کر لوٹ مار کیا کرتے تھے۔
اسی سفر میںایک اہم موقع وہ آتا ہے جس میں مصنف چین کے زیر انتظام ''انر منگولیا‘‘ میں چنگیز خان کے یادگاری مقبرے پر پہنچ جاتا ہے۔ چنگیز خان سے کون واقف نہیں، لیکن اصل میں اس منگول حکمران کے پوتے' قبلائی خان‘ نے پہلے منگول کے طور پر چین پر حکومت کی۔ اس کی بادشاہت کا دور 'یو آن‘ عہد کے نام سے معروف ہے جو1260 ء سے 1294ء تک جاری رہا۔ مشہور اطالوی سیاح مارکو پولو نے بھی قبلائی خان کے دور میں ہی چین کا سفر کیا تھا اور یہاں برسوں شاہی عہدیدار کے طور پر وقت گزارا۔ مصنف کے مشاہدے کے مطابق اگرچہ چنگیز خان کی اصل جائے تدفین ایک سوالیہ نشان ہے، لیکن اس یادگاری مقبرے کے ذریعے چین نے اس منگول فرمانروا سے اپنا تعلق جتلا دیا ہے، جس نے اس وقت کی بڑی بڑی سلطنتوں کو بے دردی سے روند ڈالا تھا۔ دیوار چین کے ساتھ ساتھ یہ سفر ایک دلچسپ لیکن صحافیانہ انداز کی داستان ہے۔ یہ جہاں ان مقامات کے جغرافیے سمیت یہاں کے لوگوں کے معاشی حالات کی عکاسی ہے وہاں مصنف کی دلیری کو بھی داد دینی پڑے گی جو محض بسکٹوں، چاکلیٹس اور سوڈا مشروبات کے ساتھ ان دور دراز علاقوں میں کئی کئی سو میل بے خو ف وخطر سفر کر تا رہا۔
اس سڑک چھاپ ایڈونچر پر مشتمل کتاب کا ایک بڑا حصہ ان تجربات پر بھی مشتمل ہے جس میں مصنف نے بیجنگ سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع دیوار چین کے سائے میں آباد ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک مکان کرائے پر لیا اورچند برس وہاں عارضی رہائش رکھی۔ اس گائوں کی مختصر سی آبادی جو بڑے بو ڑھوں پر مشتمل تھی چین کی دیہی زندگی، تاریخ، رشتوں اور غربت سے بتدریج خوشحالی کا سفر کرنے کی ایک اور انوکھی داستان ہے۔ پورے گائوں میں صرف ایک بچہ پایا جاتا تھا جو اپنے والدین کے ہمراہ رہ رہا تھا۔ دیوار چین کے سائے میں اخر وٹوں کے ان کاشتکاروں کی زندگی کن نئی تبدیلیوں کے سفر سے گزری یہ جاننے کے لیے آپ کو کتاب سے رجوع کرنا پڑے گا۔ بنیادی طور پر یہ سارا ایڈونچر چین کے پرانے اور نئے تعمیر ہوتی سڑکوں پر گزارے گئے وقت کی کتھا ہے۔ کس طرح ان راستوں نے پرانے چین کا نقشہ بدل ڈالا، ترقی اور کے تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوئے اورصدیوں سے آباد دیہی لوگ اس نئی دنیا میں اپنی قسمتیں آزمانے نکل کھڑے ہوئے۔ جمود اور غربت سے نجات کی کوئی صورت تو نکلی لیکن اس کی انسانی قیمت بھی کم نہ تھی۔ یہ داستان اس ترقی کے پس منظر میں عام لوگوں کی زندگیوں کا احوال ہے جو شاید یہ بتاتی ہے کہ انسان چین کا ہو یا امریکہ کا چین سے بیٹھنے والا نہیں۔