چینیوں پر طاری چندپاکستانی کیفیات

اس کالم کے عنوان سے ہرگز یہ نہ سمجھ بیٹھئے گا کہ میں پاکستانیوں میں نقص نکالنے والے کسی سنکی ذہن کا مالک ہوں‘بلکہ حقیقت میں بحیثیت قوم ہم میں جو بھی خوبیاں اور خامیاں ہیں میں خود ان کا چلتا پھرتا نمونہ ہوں اور اس لحاظ سے ایک مکمل اور خالص پاکستانی۔جو بھی عرصہ ملک سے باہر گزارا ہے اس میں نئی اور مختلف چیزوں کو بہت دلچسپی سے دیکھا اور برتا ، لیکن اس سے میرے پاکستانی ڈی این اے میں کوئی خاص تبدیلیاں واقع نہیں ہوئیں مثلاًمیں بلا کا خوش فہم ہوں اور اپنی خوابیدہ صلاحیتوں پر نازاں رہتا ہوں۔ اس بات کا شکوہ البتہ ہے کہ دنیا میری صلاحیتوں سے خاطر خواہ فوائد نہیں اٹھاتی۔اب بھلا بتائیں جب آپ ذہین اور باصلاحیت ہوں تو غیر ضروری محنت کرنے کا کوئی جواز بنتا ہے۔محنت تو ان سیدھے سادے لوگوں کے لئے اہم ہوتی ہے جن کا دماغ تیزی سے کام نہ کرتا ہو۔ اسی طرح میرے پاس پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسائل کے حل کے لئے بڑے طے شدہ اور مجرب نسخے موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کے لئے ملک کو جو مسیحا درکار ہے وہی نہیں آکے دے رہا۔ خیر میں نے ہمت نہیں ہارنا اور دیگر پاکستانیوں کی طرح اس کے انتظار میں پلکیں بچھائے رکھنا ہیں۔اس نے آتے ہی 'چھو‘ کر کے سارے مسئلے حل کر دینے ہیں ۔ ملک سے دور رہنے کے دوران اپنی قومی زبان اور علاقائی ثقافت سے میری محبت میں اضافہ دوچند ہو گیا ہے اور اپنے بیٹے کو انگریزی میں اردو سکھانے کی ویسی ہی کوشش کرتا ہوں جیسے سرکاری سکول میں پڑھنے کے دوران ہمیں دس سال تک اردو میں انگریزی پڑھائی جاتی رہی۔ فیس بک پر پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی تصاویر یا ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے یہ ضرور لکھتا ہوں کہ اسے جلدی اور زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اس سے پہلے کہ فیس بک والے اس کو ہٹادیں، حالا نکہ ان کا علم بھی مجھے فیس بک سے ہی ہوتا ہے۔ اب تک آپ کو یہ تو اندازہ ہو ہی گیا ہو گا کہ میں ہر بات میں کیڑے نکالنے والا سنکی یاخود پسند پاکستانی نہیں ہوں۔
چین میں رہنے کے دوران بھی میں ہمہ وقت اسی جستجو میں لگا رہا کہ یہاں کے لوگوں میں اپنی جیسی خصوصیات دریافت کرلوں اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہا۔ ایک بات کا مجھے شروع سے اندازہ ہوگیا تھا کہ زیادہ آبادی کے دبائو والے اس ملک میں لوگ اپنی بقاء کے لئے مجبوراً ہی کام کرتے ہیں لیکن پھر بھی جب ہر کسی کو ہمہ وقت کچھ نہ کچھ کرتے دیکھا تو ان کی اس مجبوری سے کوفت ہونے لگی۔ہمت نہ ہارتے ہوئے مجھے پہلی کامیابی اس وقت نصیب ہوئی جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ چینی والدین اپنے بچوں کی کامیابی کے لئے بڑے بے چین رہتے ہیں اور ان لاکھوں والدین کا اضطراب اس وقت دیدنی ہوتاہے جب یہ بچے کالج اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے مقابلے کا امتحان دیتے ہیں۔یہ والدین ایک ہجوم کی صورت میں امتحان گاہوں کے باہر ہوتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح آج کل ہمارے ہاں میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلہ ٹیسٹ کے لئے والدین کے غول کے غول ایک سے دوسرے ادارے کا رخ کرتے پائے جاتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں کے امتحانات پورے ملک میں بیک وقت تین روز تک جاری رہتے ہیں اور اس دوران ریاست بھی ان والدین کی طرح 
کچھ زیادہ ہی حساس ہو جاتی ہے اور امتحان گاہوں کے قریب شور و غل ممنوع قرار پاتا ہے۔ ہمارے ہا ں کیونکہ داخلے کے ٹیسٹ طویل عرصے تک چلتے رہتے ہیں اس لئے یہ انتظام ممکن نہیں ہوا۔بہرحال چینی والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے معاملے میں پاکستانی والدین سے بھی دوہاتھ آگے ہوتے ہیں اور ان کا بس چلے تو بچوں کی جگہ خود امتحان دینے بیٹھ جائیں۔ محض ایک یا دو اولادوں کے باعث ان پر دبائو بھی زیادہ ہوتا ہے اور اسی کے باعث بچوں کی بھی رٹا لگا لگا کر مت ماری جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو والدین اس بات سے دل بہلا لیتے ہیں کہ چلو جمی انجینئرنگ میں نہیں جا سکا تو نومی کا تو داخلہ ہوگیا ‘چینی والدین کو یہ لگژری فی الحال حاصل نہیں۔
آبادی کے دبائو ہی کی وجہ سے یہاں لوگوں میں عجلت اور محاورتاً کہنیاں مارتے ہوئے آگے بڑھنے کا رجحان دیکھ کر بھی کافی اطمینان ہوتا ہے۔ رش کے اوقات میں قطاروں سے آگے نکلنے کی کوششیں دیکھ کر اپنی مٹی کی یاد بڑی ستاتی ہے لیکن نجانے یہاں کی حکومت اور انتظامیہ ان مناظر کے بھی پیچھے لگ گئی ہے۔ اسٹیشنوں پر قطار بنانے اور جلد بازی نہ کرنے کی ہدایات جگہ جگہ نظر آنے لگی ہیں اور تو اور ٹی وی پر اشتہارات چلا دئیے گئے ہیں کہ میٹروٹرین میں داخل ہوتے وقت اپنی پشت کا بھاری بیگ اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیں تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔اسی طرح ایک اشتہار میں تو حد ہی کردی گئی ایک نوجوان گاڑی چلاتے ہوئے کسی پھل کا چھلکا باہر پھینکتا ہے تو اس بے چارے کو گر افکس کی مدد سے ڈارون کے نظرئیے والے لنگور نما انسان کی شکل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور وہ اپنی اصل شکل میں اسی وقت واپس آتا ہے جب وہ چھلکا باہر پھینکنے کے بجائے اپنے ساتھ رکھے ٹریش بیگ میں ڈالتا ہے۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت والے ملک کو اپنی ان خامیوں کا اشتہار بنانے کی کیا ضرورت ہے‘یہ تو نری جگ ہنسائی والی بات ہو گئی۔ان حکومتی حرکتوں کا یہ نتیجہ ہے کہ اب یہ دلچسپ مناظر کم ہوتے جا رہے ہیں کچھ عرصے سے اکثر لوگوں کو قطار میں خاموشی سے کھڑا دیکھ کرکچھ مزا نہیں آیا۔ 
ٹریفک کے معاملات میں البتہ اپنے وطن کی کچھ جھلکیاں ضرور نظر آتی ہیں خصوصاً جب رش کے اوقات ہوں۔ پبلک ٹرانسپورٹ تو یہاں خاصی عمدہ ہے اور بسوں کی چھتوں یا دروازوں سے لٹکنے کے مناظر دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں ہیں۔ میٹرو ٹرینیں برق رفتار اور بسیں بھی کشادہ اور آرام دہ ہیں‘البتہ گاڑی والوں میں ابھی تک صبر کی کمی پائی جاتی ہے جس کے باعث ہارن بجانے کا کلچر مکمل طور پر ختم نہیں ہو پایا۔ اسی طرح موٹر سائکل والے اپنی مخصوص لین سے نکلتے وقت دائیں بائیں مڑتے ہو ئے کبھی غیر محتاط ہو جاتے ہیں۔ سڑک پر کسی حادثے خصوصاً گاڑیوں کی آپس میں رگڑ لگ جانے والے واقعات میں دونوں فریق لڑنے اور تکرار کرنے کے بجائے ٹریفک پولیس کو فون کر کے اسی جگہ پر جمے رہتے ہیں تاکہ پولیس کی رپورٹ پر انشورنس کلیم کیا جاسکے۔ہمیں یقین ہے کہ یہ پروگریس زیادہ پرانی نہ ہو گی اور کچھ عرصے قبل یہ لوگ بھی ہماری طرح عین سڑک کے بیچ میںکھڑے ہو کر حادثے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہوئے تماش بینوں کے سامنے لا حاصل بحث کرتے ہوں گے۔چین میں عام لوگ ہاتھا پائی سے بہت گریز کرتے ہیں چاہے معاملہ کتنا ہی گرم کیوں نہ ہوجائے۔ ایک اور چیز جو فی الحال تو جاری ہے لیکن مجھے لگتا ہے چند برسوں میں اس پر سختی بڑھے گی وہ پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کی عادت ہے۔ بیجنگ میں تو اس پر کافی پابندیاںلگ رہی ہیں‘دیکھیں باقی جگہوں پر دھڑلے سے سگریٹ کے مرغولے اڑاتے لوگوں پر کب قد غن عائد کی جاتی ہے۔
بڑی تعداد میں چینی سیاحوں نے جب سے بیرون ممالک کا رخ کرنا شروع کیا ہے ‘اس بات کا بڑا چرچا ہوتا ہے کہ سیاحوں کے اکثر پُرجوش گروپ نظم وضبط اور مقامی قوانین کے معاملے میں خاصے لا پروا ہوتے ہیں۔ جب چینی سیاحوں کی جلد بازی یا ناواقفیت میں کی گئی غلطیاں زبان زد عام ہوئیں تو یہاں حکومت نے ان کے رویوں کی درستی کے لئے گائیڈ لائنز دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ہم بھی مزاجاً عجلت پسند اور شارٹ کٹس کے دلدادہ ہیں‘لیکن اہم فرق یہ ہے کہ چینیوں میں یہ کیفیت ملک سے باہر زیادہ آب و تاب دکھاتی ہے جبکہ ہم اپنے ملک میں داخل ہو کر فری سٹائل ہو جاتے ہیں ‘اصل میں اپنوں کو تنگ کرنے اور ان سے زچ ہونے کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ویسے تو ان ملی جلی کیفیات پر مزید بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ کچھ اپنی اور کچھ اپنے چینی دوستوں کی پردہ پوشی بھی کرنی چاہیے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں