پرل کانٹی نینٹل ہوٹل ڈھاکہ کے وسیع و عریض ہال میں سارک ممالک کے وزرائے اطلاعات کی کانفرنس جاری تھی۔ اجلاس کی کارروائی ائرکنڈیشنڈ ہال کے خنک ماحول میں ٹھنڈے ٹھار انداز میں چل رہی تھی۔ روایتی تقاریر ہو رہی تھیں ''سارک ممالک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے تمام ممالک کو آپس میں تعاون کرنا چاہیے، باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک دوسرے کے افرادی اور قدرتی وسائل سے استفادہ کرنا چاہیے۔‘‘ بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، بھوٹان کے وزراء اظہار خیال کرچکے تھے کہ پاکستان کی باری آئی اور ہمارے اس وقت کے وزیراطلاعات و نشریات کا نام پکارا گیا۔ سید مشاہد حسین کھڑے ہوئے اور اظہار خیال شروع کر دیا۔چند لمحے تک وہ بھی سارک کے حوالے سے روایتی سفارتی گفتگو کرتے رہے کہ اچانک انہوں نے کشمیر کا ذکر چھیڑ دیا اور بولے سارک ممالک کو اپنے باہمی تنازعات کو بھی حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ کشمیر ایک اہم تنازع ہے جس سے اس خطے کا امن، استحکام اور خوشحالی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ اگر سارک ممالک اس خطے میں امن واستحکام کے خواہاں ہیں تو پھر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مشاہد حسین نے کشمیر کا ذکر کیا کیا کہ محفل میں گویا سانپ چھوڑ دیا۔ ایک خاتون نے چیخ و پکار شروع کر دی، کشمیر کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ سارک کا فورم ہے اس کے چارٹر کے تحت متنازع معاملات زیربحث نہیں لائے جاسکتے، اس کی بڑبڑاہٹ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کشمیر کے ذکر پر وہ اس قدر برافروختہ ہوئی کہ ہال میں موجود تمام مندوبین پریشان ہو گئے۔ مذکورہ خاتون بڑبڑاتی ہوئی ہال سے واک آئوٹ کر گئی۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ موصوفہ بھارت کی وزیراطلاعات سشما سوراج تھیں جنہیں مسئلہ کشمیر کا ذکر اس قدر ناگوار گزرا۔
کانفرنس کی کارروائی کا وقفہ آیا تو میں ان کی تلاش میں نکلا۔ وہ مجھے ہوٹل کی لابی کے ایک کونے میں اپنے وفد کے ارکان کے ساتھ محو گفتگو نظر آئیں، میں نے اس تنک مزاج خاتون کو روک کر اس سے کشمیر کے ذکر پر اس برہمی کی وجہ جاننا چاہی تو اس نے پھر بڑبڑانا شروع کردیا۔ ''پتہ نہیں ان پاکستانیوں کا کیا مسئلہ ہے ہر وقت کشمیر کشمیر کرتے رہتے ہیں، انہیں کشمیر کا تڑکا لگائے بغیر کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے لفٹ کی طرف بڑھ گئیں۔ کشمیر کا ذکر صرف سشما سوراج کو نہیں بلکہ دوسرے بھارتی صحافیوں کو بھی خاصا ناگوار گزرا۔ اس کا اندازہ ہمیں آنے والے دنوں میں اس وقت ہوا جب ہمارا ان صحافیوں سے ٹاکرا ہوتا۔وہ ساری کانفرنس کے دوران ہی ہم سے کھچے کھچے رہے۔ ہم لوگ کانفرنس کے دیگر شرکاء کے ساتھ بیٹھے گھومتے پھرتے گپ لگاتے لیکن بھارتی صحافی ہم سے گریزاں نظر آتے۔ اگرچہ اس کانفرنس کے منتظمین نے اپنے مہمانوں کی آئو بھگت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ہر شخص اپنے قیام، طعام سے خوب محظوظ ہورہا تھا۔ میں اور میرے ساتھی اکثر دوسرے ممالک کے صحافیوں سے ملتے‘
گپ شپ لگاتے‘ ان ممالک کے حالات سے آگاہی حاصل کرتے۔ بعض اوقات ہم سب لوگ کھانا کھا کر لابی میں اکٹھے ہوجاتے۔ خوب گپ شپ ہوتی لیکن یہ سشما سوراج کا رعب داب تھا کہ بھارتی صحافی ہم لوگوں سے بہت کم ملتے ۔
ایک موقع پرمیں پریس سنٹر میں بیٹھا خبر بنا رہا تھا کہ ایک بھارتی صحافی اندر داخل ہوا۔ وہ مجھے دیکھ کر واپس جانے کیلئے مڑا تو میںنے اسے روک لیا اورکہاکہ وہ واپس کیوں جارہا ہے۔ اس کو کوئی بہانہ نہ بن پڑااور وہ کمرے میں رکھے کمپیوٹر پر آکر بیٹھ گیا۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ نیودہلی کے ایک ہندو اخبارکا نمائندہ ہے۔ تھوڑی سی گپ شپ کے بعد وہ انگریزی سے اردو پر آگیا۔ میں نے اس سے گپ شپ کے دوران سشما سوراج کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ واپس چلی گئی ہیں۔ میں حیران تھاکہ ابھی کانفرنس جاری ہے اور وہ واپس چلی گئی ہیں تو وہ بولا میڈم بہت غصیلی ہیں۔ آپ لوگوں نے انہیں ناراض کر دیا ہے۔ میں نے ناراضگی کی وجہ پوچھی تو وہ بولا کہ آپ کو کشمیر کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ میں نے ازراہ تفنن اسے کہا کہ کوئی بات نہیںاگلی بار ہم ملے تو کشمیر پر نہیں کشمیریوں پر بات کریں گے۔ وہ مجھ سے ہاتھ ملائے اور کچھ کہے بغیر چلا گیا۔
اس دورے کے دوران مجھے اس دریائی سفر کے لمحات نہیں بھولتے جس کا اہتمام بنگلہ دیش کی وزارت سیاحت نے کانفرنس کے مندوبین کے اعزاز میں کیا تھا۔ یہ سفر ایک کشادہ اور سجی سجائی کشتی میں کیا گیا تھاجس میں مہمانوں کی خاطر تواضع کیلئے بنگلہ دیش کے لذیذ کھانوں کا اہتمام بھی موجود تھا۔ مچھلی، چاول، ساگ کے ساتھ ذائقہ دار چٹنیاں بھی تھیں۔ دریا کی لہروں پر بہتے ہوئے ہم زمینی کنارے سے بہت دور نکل گئے۔ رات کا پہر تھا اور چاندنی ہر سوپھیلی ہوئی تھی۔ چاند کی دودھیا روشنی میں پانی کی لہریں بھی چمکتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ کھانے کا دور ختم ہواکہ اچانک ستارکی مدھر سی دھن ابھری۔ ایک کے بعد ایک دھن نے فضا میں عجب سی بے خودی بکھیر دی۔ ستار نواز ایک بنگالی دوشیزہ تھی جو ہماری سفری میزبان کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہی۔ اس نے ہماری فرمائش پر معروف اردوگانوں کی دھنیں بھی سنائیں۔ غرض یہ سفر ہر لحاظ سے ایک یادگار سفر تھا۔ جی چاہتا تھاکہ وقت رک جائے اورہم یونہی چمکتی چاندنی اور خوبصورت ستار نواز کی مسحورکن دھنوں میں ڈوبے پانی کی لہروں پر بہتے چلے جائیں۔ اس یادگار سفر میں مشاہد حسین سمیت کانفرنس کے تمام اہم شرکاء اورمندوبین ہمارے ہم نشین تھے مگر سشما سوراج اس خوبصورت اور دل موہ لینے والے سفر میں نہیں تھیں۔ میں دل ہی دل میں اس خشک اورتنک مزاج خاتون کی بدقسمتی پرافسوس کر کے رہ گیا۔ ہمارا دورہ ڈھاکہ تمام ہوا اور ہم اپنے دامن میں اس قیام کی حسین یادیں لئے واپس آگئے۔
26 مئی 2014ء کو ٹی وی پر میں نے اسی سشما سوراج کو بھارت کی وزیر خارجہ کا حلف اٹھاتے دیکھا تو میں ٹھٹک سا گیا۔ اتنے برسوں بعد میں نے اس خاتون کو ٹیلی ویژن سکرین پر بھرپور انداز میں دیکھا اگرچہ وہ قدرے فربہ ہوچکی ہیں؛ تاہم ان کی چال ڈھال نین نقشہ وہی تھا۔ مجھے اس بات پر بڑی حیرت بھی ہوئی کہ چند سال قبل ہمارے وزیر اطلاعات کا مقابلہ نہ کر سکنے والی سشما سوراج آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی وزیر خارجہ کا حلف اٹھا رہی تھی اور حلف برداری کی تقریب میں ہمارے وزیراعظم نواز شریف سمیت سارک ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم بھی شریک ہوئے۔ یہ تقریب دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے اپنی ٹی وی سکرینوں پر براہ راست دیکھی۔ وزیر خارجہ بننے کے بعد وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم نواز شریف کے مابین ہونے والے مذاکرات میں بھی موجود تھیں۔ سشماسوراج بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دست راست بن چکی ہیں، خارجہ امور کا قلمدان ان کے پاس ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ وزیر اطلاعات کی حیثیت سے جس خاتون سے ڈھاکہ کانفرنس میں کشمیر کا ذکر برداشت نہیں ہوا‘ وہ وزیرخارجہ کی حیثیت سے اس مسئلے کو کسی فورم پر کیسے اٹھانے دے گی۔ کیا مشاہد حسین، سرتاج عزیز یا طارق فاطمی میری اس الجھن کو دور کرسکیں گے؟