"MMC" (space) message & send to 7575

پھندا مگر کس کے لیے؟

''یار بس کرو !کتنا کھائو گے دو دن سے ہم یہاں آئے ہوئے ہیں ،ہوٹل میں موجیں کر رہے ہیں، جس غریب نے ہمیں یہاں بلایا ہے وہ صبح سے انتظار کر رہا ہے ، چلو اس کو جا کر ملیں‘‘ ۔ نوجوان سیاستدان نے ڈائننگ ہال میں انواع و اقسام کے پھلوں اور اشیائے خورونوش پر ٹوٹے پڑے دوسرے ہنمائوں کو یاد دہانی کرائی۔ ان میں سے کوئی ہالینڈ کے شہد کے جار پر جار خالی کر رہا تھا ،کوئی لبنانی پنیر کے مزے بیان کر رہا تھا ، کسی کو خالص زیتون سے مستفید ہونے کا موقع ملا تو وہ اس کی بوتلیں خالی کر رہا تھا بہرحال ابھرتے ہوئے نوجوان سیاستدان نے ان سب کو ہانکا اور تیار کر کے میزبان کے ہاں لے گیا جو شاندار اقامت گاہ کے ڈرائنگ روم میں ان کا بے چینی سے انتظار کررہا تھا۔ گفتگو کا آ غاز ہوا تو پاکستان سے جانے والے اس وفد میں شامل ہر سیاستدان نے اپنے میز بان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے ۔ ایک بولا ''جناب !آپ کا دور تو پاکستان کی تاریخ کا سنہری دور تھا ،آپ نے ملک کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا ۔ آپ کے جانے کے بعد تو ملک برباد ہو گیا ، نہ بجلی ہے نہ پانی ہے ، خوشحالی ہم سے روٹھ گئی ۔ لوگ روٹی کے لقمے لقمے کو ترس گئے ہیں۔ ہر گھر میں آپ کا فوٹولگا ہوا ہے ۔ بس آپ سارے کام چھوڑیں،پاکستان پہنچیں اور میرے صوبہ میں اتریں ۔ میں خود لاکھوں عوام کے جلوس کے ساتھ آپ کو اسلام آباد پہنچائوں گا‘‘ ۔ ابھی وہ موصوف اپنا خطاب جاری رکھنا چاہ رہے تھے کہ ان کے ساتھ بیٹھے دوسرے سیاستدان نے ان کی قمیض کا دامن کھینچا اور ہندکو میں بولا: ''مڑاسانوں وی بولن دے‘‘ ۔ وہ بیٹھ گیا تو یہ صاحب کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بھی اپنے اس میزبان کے سامنے پاکستان کے حالات کی اتنی خوفناک تصویر کھینچی کہ یوں لگا کہ ملک تقریباً ختم ہو چکا ہے بس اب کھنڈرات ہی رہ گئے ہیں ۔ وہ بولے ''جناب عالی ! پاکستان پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے۔ صدر، وزیرا عظم اور بڑے بڑے لوگوں نے اپنے اہل و عیال بیرون ملک بھجوادیئے ہیں ۔ دو ، تین ہیلی کاپٹر ہر وقت ایوانِ صدر اور وزیرا عظم ہائوس کے ہیلی پیڈ پر سٹارٹ کھڑے رہتے ہیں کہ کسی بھی لمحے صدر اور وزیرا عظم کو بھاگنا ہو تو جان بچا کر نکل جائیں۔ کراچی شہر پر دہشت گردوں کا مکمل کنٹرول ہے ، سارے کارخانہ دار سیٹھ کراچی سے چلے گئے ہیں۔ آپ کے جانے کے بعد پاکستان خالی ہوتا جا رہا ہے‘‘ ۔ انہوں نے اپنی تقریر اتنے جذباتی انداز میں کی کہ ہال میں موجود ان کے ہمنوائوں نے تالیاں پیٹنا شروع کر دیں ۔ یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ تالیاں اپنے ساتھی کے جوشِ خطابت پر پیٹ رہے تھے یا پاکستان کے اتنی جلدی خالی ہونے پر ۔ اس کے بعد ایک اور کاروباری لیڈر کی باری آتی ہے، اس نے بھی پاکستان کے دگر گوں معاشی حالات کی تصویر کھینچی ، وہ بولا''جناب ! آپ کے دورِ اقتدار میں پیسے کی اتنی ریل پیل تھی کہ اسلام آباد میں فقیر بھی سو سے کم کا نوٹ نہیں لیتا تھا، ہر شخص کے پاس گاڑی تھی ، حتیٰ کہ میرا سوئپر بھی سوزوکی پر آیا جایا کرتا تھا ۔ لوگوں کے پاس دولت کے انبار تھے ۔ بندہ بندے سے حال بعد میں پوچھتا تھا پہلے سوال کرتا تھا کہ پلاٹ کہاں خریدوں ، کس علاقہ کی فائل اوپر جارہی ہے ۔ اب تو یہ حال ہے کہ لوگ سستی قبریں ڈھونڈ رہے ہیں ۔ جنابِ عالی ! آپ بہت دیر کر رہے ہیں ، اس سے پہلے کہ ملک بالکل ڈوب جائے آپ پہنچیں‘ وقت تیز ی سے گزر رہا ہے‘‘ ۔ تقاریر کا سلسلہ جاری رہا ، ہر شخص نے اپنے اپنے تئیں پورا زور لگایا کہ اپنے میزبان کا دل جیت لے اور اسے واپس آنے کیلئے قائل کر سکے ۔جذباتی اور جوشیلی تقاریر کا یہ خوشامدی سیشن ابھی جاری رہتا کہ ظہرانے کا اعلان ہوگیا ۔ یہ سب لوگ بھاگم بھاگ کھانے کی طرف لپکے۔ عربی، لبنانی، مصری، شامی، انڈین ، چائنیز ، پاکستانی ، امریکن ، اطالوی غرض ہر خطے اور ملک کی خوبصورت سجی سجائی اور اشتہا انگیز ڈشوں کا مینا بازار سجا ہوا تھا ، ہر شخص کھانے میں ڈوبا ہوا تھا۔ میزبان ایک کونے میں کھڑا خاموشی سے یہ تماشہ دیکھ رہا تھا ، اچانک اس کی نظر اس نوجوان سیاستدان پر پڑی جو اس کے اقتدار کے دور میں تو کبھی نظر نہیں آیا لیکن اس کی جلاوطنی کے دنوں میں اس سے رابطے میں رہا اور اکثر ٹیلی ویژن پروگراموں میں اس کا دفاع بھی کرتا نظرآیا ۔ میزبان نے آگے بڑھ کر اس سے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا ، حال احوال پوچھا اور بولا'' آپ نے اس نشست میں تقریر نہیں کی اور نہ ہی بولے‘‘ ۔ ''جناب مجھے ان سب کی طرح لمبی لمبی تقریریں کرنا نہیں آتا ،یہ سب پرانے منجھے ہوئے سیاستدان ہیں‘ میں تو طفلِ مکتب ہوں‘‘ نوجوان نے جواب دیا ۔ 
''نہیں ایسی کوئی بات نہیں ، میں نے آپ کو کئی بار ٹی وی پر سنا، آپ بڑی ٹو دی پوائنٹ بات کرتے ہیں ،آپ کو یہاں بھی بولنا چاہیے تھا‘‘ ۔'' جناب ! میں بولتا ہوں تو یہ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں اس لئے میں ان کے سامنے کم ہی بولتا ہوں ‘‘۔'' چلیں آپ مجھے بتائیں کہ جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ، ٹھیک ہے ؟مجھے واپس جانا چاہئے یا نہیں ،آپ اپنی رائے دیں‘‘ میزبان نے انتہائی دھیمے لہجے میں استفسار کیا ، تووہ نوجوان بولا : ''جناب میری بات لکھ لیں کہ یہ سب آپ کو بیوقوف بنا رہے ہیں ، ان کی نظریں آپ کی جیب پر ہیں، ان کا گمان یہ ہے کہ آپ کے پاس کافی مال پانی موجود ہے ، یہ آپ سے پیسے اینٹھنے کیلئے سارا چکر چلا رہے ہیں ۔ آپ پاکستان آئے تو ان میں سے ایک بھی آپ کو نظر نہیں آئے گا ، آپ انہیں ڈھونڈتے رہ جائیں گے ۔ یہ آپ کو خراب کر رہے ہیں، آپ وہاں جا کر مصیبت میں پھنس جائیں گے‘‘۔ یہ تلخ اور سچی گفتگو سن کر میزبان کا چہرہ اترسا گیا، دیگر مقررین کی جوشیلی تقاریر سے اپنی مقبولیت اور فقید المثال استقبال کے جو سہانے سپنے اور مناظر ان کی آنکھوں میں اتر آئے تھے ، وہ اس نوجوان کی کڑوی کسیلی باتوں سے دھندلا سے گئے ۔ مایوسی پھیلانے والے نوجوان کے ساتھ ان کی گفتگو کچھ دیر اور جاری رہتی تو ممکن تھا کہ وہ اس کی باتوں سے قائل ہو جاتے لیکن خوشامدی ٹولے کا ایک اور کائیاں مخل ہو گیا ، اس نے آتے ہی بھانپ لیا کہ یہ نوجوان ان کے میزبان کو گمراہ کر رہا ہے تو اس نے فوراً مداخلت کی اور بولا'' جناب اس کی باتوں میں نہ آئیں ، کل کا بچہ ہے، اس نے سیاست آپ کے جانے کے بعد شروع کی ہے ،ہم نے آپ کا عروج و اقتدار دیکھا ہے ۔ صدر بش آپ سے کیسے مشورے لیتا تھا، ٹونی بلیئر آپ کی کتنی قدر کرتا تھا۔ بھارت ، افغانستان ، ایران کے بارے میں امریکہ اپنی پالیسیاں آپ سے پوچھ کر بناتا تھا ۔ جناب ! صرف پاکستان کو نہیں بلکہ دنیا بھر کو آپ کی ضرورت ہے ۔ 18کروڑ عوام آپ کے منتظر ہیں ،آپ ملک کے جس ہوائی اڈے پر اتریں گے‘ لاکھوں لوگ آپ کیلئے منتظر ہوں گے۔ آپ پورے میڈیا کا چاند ہیں ، لائیو شو ہوں گے ، میڈیا آپ کو اٹھا کر رکھے گا ۔ ویسے بھی تو پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کو آپ نے اپنے ہاتھوں تخلیق کیا ، یہ بڑے بڑے اینکر پرسن جو کل تک جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے ،انہیں کوئی پوچھتا نہیں تھا ،آج لاکھوں کروڑوں میں کھیل رہے ہیں ۔ آپ کے احسان مند ہیں ، یہ سارے آپ کی طاقت ہیں۔ انہوں نے آپ کے مخالفین کو اپنے پروگراموں میں بھون کر رکھ دینا ہے۔ میڈیا آپ کے ساتھ ہوگا ۔ مولویوں کی فکر نہ کریں ، یہ کام بھی ہم سنبھال لیں گے ، بس ذرا مال ڈھیلا کرنا ہوگا۔ تیاری کریں۔ اب آپ پاکستان جا رہے ہیں‘ الیکشن لڑنا آپ کا حق ہے‘‘۔ (جاری) 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں