"MMC" (space) message & send to 7575

پھندا مگر کس کے لیے؟…(آخری حصہ)

یہ گفتگو اتنی مدلل اور متاثر کن تھی کہ میزبان کا چہرہ کھل اٹھا ، اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر بولے : ''یو آر گریٹ ، مجھے تم جیسے بہادر اور روشن خیال بندے پسند ہیں ۔ واقعی یہ نوجوان نا تجربہ کار ہے‘‘ یہ کہہ کر وہ اس جہاندیدہ اور تجربہ کار سیاستدان کے بازو میں بازو ڈال کر ساتھ اوپر اپنے کمرے میں لے گئے ۔
رات کو جب سب لو گ ہوٹل میں جمع ہوئے تو اس غریب نوجوان کی شامت آگئی ، ہر شخص اس کو طوئے طوئے کر رہا تھا ۔ ایک بزرگ بولا ''اوئے تمہاری عقل گھاس تو نہیں چرنے چلی گئی ۔ ہم اتنی دور سے یہاں آئے ہیں ہم یہاں ہفتہ رہیں گے ، کھائیں پئیں گے ، موج میلہ کریں گے ۔ اس نے ہمیں بلایا ہے ہم پر خرچہ کر رہا ہے ، تو کم بخت ہمارے پروگرام کو خراب کرنے پر تُلا ہوا ہے‘‘ ۔ دوسرا بولا ''یار اس کو پتہ نہیں ہے ، اس نے تو اپنی حماقت سے ساری بازی الٹ دی تھی ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ میری نظر پڑ گئی‘‘۔ اس پر زوردار قہقہہ پڑا۔ یہ نوجوان پریشان تھا کہ اتنے سنجیدہ مسئلہ پر یہ سارے لوگ کتنے غیر سنجیدہ تھے ، اس کا خیال تھا کہ یہ پاکستان کی سلامتی بقاء کا مسئلہ تھا ، قومی سیاست کے بارے میں اہم فیصلہ ہونے جا رہا تھا ۔ ایک ایسے شخص کو دوبارہ پاکستان لانے یا نہ لانے کی بات ہورہی تھی جو حد درجہ متنازعہ تھا۔ اسے دوبارہ واپس پاکستان کیوں لایا جارہا تھا ۔ اس نے اپنی سوچ کا ذکر جب اپنے دوسرے ساتھیوں سے کیا تو وہ اس کی ذہنی کیفیت پر قہقہے برسانے لگے ''او ئے خانہ خراب تجھے کس نے کہہ دیا کہ یہ کوئی سنجیدہ مسئلہ ہے ،یہ کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں ۔ ہم دوبئی کی سیر کرنے اور اس بابے سے ملاقات کی دعوت ملنے پریہاں موج میلہ کرنے آئے ہیں ، موج میلہ کر رہے ہیں ، موج میلہ کر کے واپس چلے جائیں گے ۔ بابا جانے اور اس کا کام ۔وہ آئے یا جائے ہماری بلا سے ، بس اب تو اپنی بک بک بند کرنا ، جتنے دن ہم یہاں ہیں اس کی تعریفیں کرنا بلکہ تیری وہ عزت کرتا ہے ، تو ہم سب میں زیادہ پڑھا لکھا اور پینٹ کوٹ پہنتا ہے ، ٹائی شائی لگا لیتا ہے ۔ ہمیں تو سالی پتلون بھی باندھنی نہیں آتی ۔آج اس کے ساتھ ملاقات میں جب میں جانے لگا تو پینٹ کو ناڑے سے باندھ کر گیا‘‘، یہ کہہ کر اس نے قمیض اٹھائی تو اس کی پینٹ ازار بند سے بندھی ہوئی تھی اور اس کے اوپر ایک قدرے لمبی بش شرٹ پہن کر اس نے ازار بند کو چھپا رکھا تھا۔ سب لوگ اس کی ہیت کذائی پر قہقہہ مارنے لگے ،اسے دیکھ کر اس کا ایک ساتھی بولا'' لالہ تو بڑا سائنسدان نکلا ہم بھی بھی حیران تھے کہ تو نے یہ پینٹ کیسے باندھ لی ۔ حالانکہ تم نے ساری زندگی پینٹ نہیں پہنی‘‘۔''یا رو کچھ نہ پوچھو میں صبح اٹھا تو اس بابو نے مجھے ڈانٹا کہ جنرل سے ملنے کیلئے شلوار قمیض پہن کر نہ چل پڑنا بلکہ پینٹ شرٹ پہن کر جانا ،میں نے اس کی الماری سے یہ پینٹ نکالی اور پہن لی ،مجھے بیلٹ باندھنی آتی نہیں اوپر سے دیر ہورہی تھی ،میں نے ناڑا ہی باندھ لیا‘‘۔اس پر پھر قہقہوں کی بارش شروع ہوگئی ، یہ تماشا صرف اسی وفد تک محدود نہیں تھا بلکہ سیون سٹار ہوٹل میں ٹھہرے دیگر وفود بھی یہی ٹھٹھہ مخول کر کے وقت گزار رہے تھے یہ سارے وفود اندرون و بیرون ملک سے دوبئی بلائے گئے تھے ۔ ان کی میزبانی سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر)پرویز مشرف کر رہے تھے جو ایک بار پھر بر سر اقتدار آنے کی خواہش میں پاکستان جانے کو بے تاب تھے۔ انہوں نے اپنے تمام ''مخلص ‘‘ساتھیوں کو دوبئی آنے کی دعوت دی تھی تاکہ ان کی مشاورت سے اس بارے حتمی فیصلہ کیا جاسکے ۔ ان مخلص ساتھیوں کے خلوص کا اندازہ تو آپ نے اوپر کی سطور پڑھ کر لگالیا ہوگا ، بہرحال جنرل مشرف نے پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہیں سمجھایا گیا کہ ان کا پاکستان کی سیاست میں کوئی مستقبل نہیں بلکہ وہ اپنے اس فیصلے سے خود بھی مسائل کا شکار ہو جائیں گے اور فوج کو بھی سخت امتحان میں ڈال دیں گے۔ تاہم سب کے منع کرنے کے باوجود جنرل مشرف ان ابن الوقت اور نا عاقبت اندیش مشیروں کی باتوں میں آکرپاکستان واپس پہنچ گئے۔ سب سے پہلی مایوسی تو موصوف کو کراچی ائیر پورٹ پر اترتے ہی اس وقت ہوئی جب عوام کے ٹھاٹھیں مارتے 
سمند ر کے بجائے انہیں گِنے چُنے بند ے نظر آئے ۔ بے سروسامانی کا یہ عالم تھا کہ جنرل مشرف کے خطاب کیلئے سائونڈ سسٹم کا معقول بندوبست بھی نہ کیا جاسکا بلکہ جہاز میں ساتھ آنے والے کسی مہمان نے میگا فون مہیا کیا، وہ تمام مصاحبین جنہوں نے کروڑوں روپے تشہیری مہم اور جلسے جلوسوں کے نام پرا ینٹھے تھے وہ سارے غائب ہو چکے تھے۔ جنرل صاحب مختلف شہروں میں مقدمات بھگتنے کیلئے تنہا رہ گئے ۔ ان پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے وہ بیرون ملک واپسی کیلئے بھی بہت ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ ان کے ماضی کے تمام رفقاء انہیں فراموش کر چکے ہیں ، عدالتیں ان کے راستے میں مزاحم ہیں۔ عسکری قیادت کوبھی معاملے کی حساسیت کا ادراک ہے ریٹائرڈ فوجی وقتاً فوقتاً اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور ان کی اکثریت اپنے سابق سپہ سالار کو غداری کا مقدمہ بھگتتے دیکھ کر اپ سیٹ نظر آتی ہے۔ دوسری طرف آئین اور قانون کی عمل داری کے ساتھ ساتھ سیاسی حکومت کی ساکھ کا بھی سوال ہے ، چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے مابین بھی اس ایشو پر تعلقات میں دراڑ سی پیدا ہوگئی تھی جسے پُر کرنے کی دو طرفہ کوشش کی گئی ،سابق صدر آصف علی زرداری جو کل تک مشرف کو بلاّ قرار دے کر اسے نہ چھوڑنے کے مشورے دے رہے تھے اب پیچھے ہٹ گئے ہیں بلکہ پیپلز پارٹی نے تو تندور گرم دیکھ کر اپنے پراٹھے 
لگانے شروع کر دیئے ہیں ، عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ لے کر بڑھ رہے ہیں ، طاہر القادری اپنے پیروکاروں سے شہادت کے رتبے پر فائز ہونے کے وعدے وعید لے رہے ہیں، ان کا رخ بھی اسلام آباد کی طرف نظر آرہا ہے ،ایسے حالات میں درست فیصلہ کرنا ہماری قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جنرل مشرف نے وطن واپس آکر غلطی کی ہے ،وہ دبئی کے سات ستارہ ہوٹل میں موجیں اڑانے والے نام نہاد سیاسی مصاحبین کی باتو ں میں آکر پھنس گئے ہیںاور ممکن ہے کہ میاں نواز شریف کو بھی ان کے بعض رفقاء یہی مشورہ دے رہے ہوں کہ وہ پرویز مشرف کو بچ کر نہ نکلنے دیں ۔ جس سیاسی بندوبست کی طاقت کا یہ عالم ہو کہ کینیڈا سے آنے والے طاہر القادری کی آمد پر ساری حکومت لرزہ براندام ہوجائے ، عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان ہوتے ہی اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ جائے ، ایسی حکومت فوج کی ناراضگی کیسے مول لے کر جنرل مشرف کو کیفرِ کردار تک پہنچائے گی ، شاید اسی تناظر میں قانون کے جادو گر شریف الدین پیرزادہ کی زیرِ نگرانی کسی قابلِ قبول فارمولے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ جنرل مشرف کے دورِ استبداد میںریاستی ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے نواز شریف کے بعض ساتھی جنرل مشرف کی گردن میں پھندا فٹ کرنے کے لیے بے تاب ہوں لیکن وزیراعظم کو از خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ مشرف کے خلاف پھندا فٹ کرنے والے کہیں اُن کی حکومت کو کسی پھندے میں نہ پھنسا بیٹھیں۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں