چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کل ریٹائر ہو جائیں گے۔انہیں چیف جسٹس کے منصب پرر ہنے کے لیے صرف پونے سات ماہ کا عرصہ مل سکا۔آئین پاکستان کے تحت سپریم کورٹ کا چیف جسٹس یا کوئی جج پینسٹھ سال کا ہو جائے تو پھر ایک دن بھی اپنے منصب پر فائز نہیں رہ سکتا۔ اس عہدے کی مدت میں توسیع کے لیے بھی آئین و قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اگر ایسا ہوتا ۔تو کم از کم سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانون ضرور حرکت میں آتا۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تو ساڑھے سات سال تک چیف جسٹس پاکستان رہے ،ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر کہا جا رہا تھا کہ آنے والا چیف جسٹس عدلیہ کی برق رفتاری برقرار نہیں رکھ سکے گا اور سپریم کورٹ ٹھنڈی ہو جائے گی ۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے قریب ایک عدالتی تقریب میں چائے کے وقفہ کے دوران میں نے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے پوچھا تھاکہ چیف صاحب (افتخار چوہدری) کی ریٹائرمنٹ کے بعدکیا جوڈیشل ایکٹوازم اسی طرح سے جاری رہے گا ؟جسٹس تصدق حسین جیلانی زیر لب مسکرائے اور جواب دیا کہ جہاںتک آئین و قانون کی بالادستی کا تعلق ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتالیکن انہیں از خود نوٹس لینے کی رفتار پر اختلاف ضرور تھاجس کا اظہار وہ چیف جسٹس بننے کے بعد بھی اپنی مختلف تقاریر میں بر ملا کرتے
رہے۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خوبیاں ایک طرف لیکن ان کا طرز فراہمیٔ انصاف سخت تنقید کا نشانہ بھی بنا۔ الزامات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ا سٹیبلشمنٹ نے تو افتخار چوہدری صاحب کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ تیار کر لی تھی جسے متعلقہ فورم سے منظوری کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرایا جانا تھا ۔ ان الزامات میں از خود نوٹس کے اختیار کا بے جا اور بلا جواز استعمال بھی شامل تھا ۔الزام تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے عام نوعیت کے مقدمات میں از خود نوٹس سے لے کر نہ صرف ما تحت عدلیہ کے دائرہ اختیار کو سلب کیا بلکہ عدالت عظمیٰ کی کارروائی کے ذریعے نچلی عدالت کی کارروائی کو بالواسطہ طور متاثر کیا۔ انہی مقدمات کی سماعت میں سابق چیف جسٹس ایسے ایسے ریمارکس دیتے کہ میڈیا کے لیے شہ سرخیوں کے انبار لگ جاتے۔ اسی لیے الزام لگا کہ چیف جسٹس میڈیا کے لیے ہیڈ لائنز بنواتے ہیں اور معاملہ جب ٹرائل کورٹ کو واپس بھجوا تے ہیںتو پھر ما تحت عدلیہ سپریم کورٹ کی کارروائی اور جج صاحبان کے دیے گئے ریمارکس کے سحرمیں رہتے ہوئے غیر جانبدار فیصلہ نہیں کر پاتی اور انصاف نہیںہو پاتا ۔کہنے والے کہتے رہے کہ سابق چیف جسٹس انصاف
کی فراہمی سے زیادہ ہیڈ لائنز بنوانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے لیے عدالت میں بھی Playing With the Galleryکے الفاظ استعمال ہوئے کہ وہ میڈیا کے نمائندوں کودیکھ کر بڑھکیں لگاتے ہیں۔ان کے خلاف الزامات اور اعتراضات کی فہرست بہت طویل ہے جن کا اس مختصر کالم میں احاطہ ممکن نہیں ہے۔تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اس منفی روش کو ختم کیا ۔ بطوررچیف جسٹس ان کی عدالت میں بڑے سے بڑے عوامی اہمیت کے مقدمات کی سماعت ہوئی لیکن صرف میرٹ پر کارروائی آگے بڑھائی گئی اورمیڈیا گیلری میں موجود نمائندوں کو جنہیں ریمارکس نما بڑھکوں کا چسکا پڑ چکا تھا،انہیں صرف خبروں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ بظاہر عوام تو یہی کہتے تھے کہ سپریم کورٹ میں پہلے والی گرمجوشی نظر نہیں آرہی لیکن چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے اپنے اصل دائرہ اختیار سے متعلق مقدمات کو ترجیح دی جو کہ وکلاء برادری کا بھی دیرینہ مطالبہ تھا۔اس سے پہلے از خود کارروائیوں کو فوقیت دی جاتی تھی۔ہوتا یوں تھا کہ کوئی غریب درخواست گزار اپنے حق کے لیے سالہا سال نچلی عدالت میں دھکے کھانے کے بعد اپنا مقدمہ سپریم کورٹ لے کرپہنچتا اوروکیل کو بھاری فیس ادا کرتا ۔ وکیل تو وکیل، اس کے منشیوں کے بھی نخرے اٹھاتا ۔صبح سپریم کورٹ میں پیشی کے باعث رات آنکھوں میں کٹتی ۔ لیکن سماعت والے دن صرف سونے کی کانوں کے مقدمے کی سماعت ہو تی اور سہ پہر کو اذیت ناک انتظار کے بعد پتہ چلتا کہ آج وقت کی کمی کے باعث عام آدمی کے مقدمے کی سماعت نہیں ہو سکی لہٰذا اب نئی تاریخ ملے گی۔ ایسی صورتحال میں غریب درخواست گزار عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ جج صاحبان کے لیے بھی دہائیاں دیتا ہی دیکھا گیا ۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کم از کم اس سحر کا توڑ کیا۔ پونے سات ماہ کے قلیل عرصہ میں ان کی ترجیح مقدمات نمٹانے کی شرح میں اضافہ کرنا تھا جس میں انہوں نے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔اگر یہ کہا جائے کہ تو بے جا نہ ہو گا کہ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جو ڈیشل ایکٹو ازم کے غلط استعمال کی روش کو ختم کیا ۔جوناقد ین کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ ٹھنڈی ہو گئی، یہ ان کا مغالطہ ہے کیونکہ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بھی اپنے مختصر دور میں بہت سے اہم واقعات کااز خود نوٹس لیا۔ اقلیتوں کے حقوق، میٹرو بس منصوبہ ،خضدار کی اجتماعی قبر، کراچی ایئر پورٹ حملہ اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں پر از خود نوٹس لیے جن پر مثبت پیش رفت بھی ہوئی ۔فرق صرف یہ ہے کہ ان عدالتی کارروائیوں میں بڑھکوں سے گریز کیا گیا ۔ سرخیاں اور شہ سرخیاں کم بنیں جس سے یہ غلط تاثر ملا کہ عدالت ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ اب دو دن بعد جسٹس ناصر الملک چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کاحلف اٹھا لیں گے ۔جسٹس ناصر الملک بھی گفتار کی بجائے کردار پر یقین رکھنے والے جج ہیں۔ انتہائی کم گو ، سنتے زیادہ ہیں ،سناتے کم ہیں ۔وکلاء انہیں انگلش جج مانتے ہیں کیونکہ وہ To the point hearingکو ترجیح دیتے ہیں ۔ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کو سزا سنانے کا دلیرانہ فیصلہ بھی جسٹس ناصرالملک کے سر جاتا ہے ۔سفید بالوں کے ساتھ پٹھانی سرخ و سفید رنگ کے اس جج پر بھی ناقدین ٹھنڈے جج کا الزام لگائیں گے لیکن ناقدین کو سفید بالوں والے اس بوڑھے کی یہ بات یاد رکھنی چاہیے جس نے کہا تھا کہ کسی مکان کی چھت سفید برف سے ڈھکی ہو تو یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ مکان کے اندر آگ نہیں جل رہی۔