’’مشن پوسیبل‘‘ ادھورا مت چھوڑ دینا!

سات دہائیوں کا عرصہ کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا۔ پون صدی کے اِس عرصے میں ایک انسان اپنے اوسط عمر کا سوا گنا سے زیادہ گزار لیتا ہے اور چار نسلیں سامنے آجاتی ہیں۔اِن سات دہائیوں سے کشمیریوں کے زخم مسلسل رِس رہے ہیں اور وقت کشمیریوں کی چار نسلوں کے اُن زخموں کو مندمل نہیں کرسکا، جو زخم عالمی سامراج نے یہ خطہ چھوڑتے ہوئے کشمیر کو بھارت کے تسلط میں دے کر لگائے تھے۔ کشمیرگزشتہ ستر برسوں سے بالخصوص دنیا کی سب سے بڑی جیل بن کر سامنے آیا، لیکن چار لاکھ سے زائد بھارتی فوجی اپنے تمام تر مظالم اور جبر کے باوجود کشمیریوں کو اپنا غلام بنائے رکھنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اس جیل میں کشمیریوں کے بدن تو ضرور قید ہیں لیکن کشمیریوں کی روح اور زبانوں کو قید نہیں کیا جاسکا۔کشمیر سلگ رہا ہے اور مسلسل سلگ رہا ہے اور یہی آج کی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ کشمیر نے بھارتی تسلط سے آزادی کا مکمل تہیہ کررکھا ہے۔ آج کشمیر کی دیواروں پر ہی نہیں بلکہ دیواروں کی ہر اینٹ اور ہر اینٹ کے ہر ذرے پر ایک ہی لفظ لکھا ہے اور وہ لفظ ہے ''آزادی‘‘۔کچھ عرصہ پہلے تک اگرچہ معاملات قدرے سرد پڑتے دکھائی دیتے تھے، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ بیرونی ''دنیا‘‘ سے مقبوضہ کشمیر پہنچنے میں کامیاب ہونے والے سیاحوں اور میڈیا کے نمائندے اب کشمیر میں بالکل ہی مختلف مناظر دیکھ رہے ہیں۔ ایک برطانوی صحافی کے بقول ''بھارت مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے دل جیتنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اب ایسے کشمیریوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں رہی جو آزادی کو جوش و جذبے کے ساتھ گلے نہ لگائیں‘‘۔
بیرونی دنیا برہان مظفر وانی کی شہادت سے شروع ہونے والی کشمیریوں کی نئی انتفاضہ سے بھی حیران ہے، جس میں نہتے اور خالی ہاتھ کشمیری بچوں اور نوجوانوں نے فلسطینی انتفاضہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کم و بیش تین ماہ سے جاری اِس انتفاضہ میں اب ہر کشمیری جیسے عہد کرچکا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ جابرانہ بھارتی راج کے خلاف ساری زندگی مزاحمت کرتا رہے گا۔یہ انتفاضہ ہی دراصل کشمیر پر انہتر سالہ بھارتی ظلم، جبر اور تسلط کی موت بنی ہے۔یہ انتفاضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں کی وہ اجتماعی اور لازوال جدوجہد ہے، جس میں ہر کشمیری بھارتی فوجیوں کی سنگینوں اور گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہوچکا ہے اور اب کشمیری عوام آزادی سے کم پر تیار نظر نہیں آتے۔ اب کشمیریوں کے گھر جوان بیٹے کی لاش آنے پر صف ماتم نہیں بچھتی بلکہ ایک نئے عزم کے ساتھ کشمیری نوجوان ''پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے گلیوں، بازاروں اور چوراہوں پر کھڑے بھارتی فوجیوں پر پل پڑتے ہیں ۔ کشمیریوں کے اِسی جذبے نے بھارت کو حواس باختہ کررکھا ہے اور بھارتی سرکار پر بربریت پھیلانے کا جنون سوار دکھائی دیتا ہے، لیکن انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی عالمی طاقتیںدنیا کی اس سب سے بڑی جیل میں معصوم لوگوں پر ہونے والے مظالم کی طرف سے مسلسل آنکھ بند کیے ہوئے بیٹھی ہیں۔ 
بھارتی سرکار کی اِسی بربریت کا پردہ چاک کرنے کیلئے وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کا دروزہ کھٹکھٹایا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پرہونے والے مظالم کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ذریعے کروائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ ''مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل اور بہیمانہ تشدد کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے‘‘۔وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی شہادتوں کے ثبوت بھی دیے اور سیکرٹری جنرل کو ظلم وستم کا شکار بننے والے کشمیریوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرنا از بس ضروری ہوچکا تھا کیونکہ اپنے تمام تر مظالم اور جبر کی انہتر سالہ تاریخ میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود بھارتی اطوار سے لگ نہیں رہاتھا کہ مستقبل قریب میں بھی بھارت کشمیر یوں کو کوئی رعایت دینے کیلئے تیار ہوگا۔اگرچہ سامراجی مزاج کا حامل برطانیہ تک اسکاٹ لینڈ کے باشندوں کو آزادی کے لیے ریفرنڈم کرانے کا حق دینے پر تیار ہو گیا تھا، لیکن دنیا کی نئی ابھرنے والی ''طاقتیں‘‘قبضے میں لیا ہوا علاقہ واپس کرنے پر آسانی کے ساتھ تیار نہیں ہورہیں، یہی حال بھارت کا بھی ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ جب تک بھارت کو اس بات کا ایک فیصد خدشہ بھی رہے گا کہ کشمیری عوام بھارت سے آزادی کے حق میں ووٹ دیں گے تو بھارت کبھی آسانی کے ساتھ انہیں حق رائے دہی دینے کی طرف نہیں آئے گا۔ سات دہائیوں سے بھارت کے مزاج آشنا کشمیریوں کو یہی حقیقت اُس انتفاضہ کی جانب لے گئی، جس میں ایک جانب پیلٹ گولیاں مارکر بھی خوفزدہ نظر آنے والے بھارتی فوجیوں کے مکروہ چہرے ہیں تو دوسری جانب پیلٹ گولیوں سے چھلنی ہونے کے باوجود تنے ہوئے سینے اور درد کی کیفیت میں کراہنے کے بجائے مسکراہٹوں کے پھولوں سے سجے کشمیری بچوں کے روشن چہرے ہیں۔
ایک جانب تو کشمیر کا سلگتا ہوا مسئلہ ہے تو دوسری جانب ایک اور اہم مسئلہ خطے میں جنگ کی آگ بھڑکانے والا بھارتی جنگی جنون بھی ہے، جس میں ایک جانب بہانے بہانے کے ساتھ بھارت امن مذاکرات سے مسلسل پہلو تہی کرتا چلا آرہا ہے تو دوسری جانب اسلحے کے انبار اکٹھے کرکے اسلحے کی ایک ختم نہ ہونے والی دوڑ کا آغاز کرنے والا ملک بھی بن چکا ہے۔ افغانستان میں انڈیا پاکستان کے خلاف جو مکروہ کھیل کھیل رہا ہے، وہ تو سب پر پہلے ہی عیاں تھا، لیکن اب بلوچستان اور کراچی میں بھارت کی مداخلت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ بھارتی خفیہ ادارے ''را‘‘ کے حاضر سروس ایجنٹ کی گرفتاری نے ایسا بھانڈا پھوڑا ہے کہ عالمی برادری کے سامنے انڈیا کو واضح خجالت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن افسوس ناک حقیقت تو یہ بھی ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کیے چلی جارہی ہے۔ 
قارئین کرام!! پورے خطے کو جہنم زار بنانے پر تلے عالمی مجرم بھارت کے خلاف سارے ثبوت اور شواہدجب سامنے آچکے تو عالمی برادری کو بھلا اب کس بات کا انتظار ہے؟کیا عالمی برادری کا فرض نہیں کہ پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے اِن ثبوتوں کو اپنے عالمی معیارات کی کسوٹی پر پرکھ کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کیلئے پہلا قدم اب اُٹھا ہی لے!کیا ایک لاکھ کشمیری شہدا کے وارثوں کا حق نہیں کہ وہ بھی دنیا بھر کے دیگر آزاد لوگوں کی طرح اپنی مرضی سے زندگی جی سکیں؟ کشمیری بچوں اور نوجوانوں کے بہتے لہو کا ہر ایک ایک قطرہ ایک جانب اگر اقوام عالم کو انصاف کیلئے پکار رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو بھی پیغام دے رہا ہے کہ ''کشمیر کا مشن اب امپوسیبل نہیں رہا، بلکہ ہم نے اپنے لہو کے چراغوں سے اِسے مشن پوسیبل بناکر اپنے حصے کا کام کردیا ہے، اب آپ لوگ اس مشن پوسیبل کو ادھورا مت چھوڑدینا!‘‘

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں