پاکستان کیا ہے اور پاکستانی قوم کیا ہے؟ اس کا اندازہ پاکستان کے سیاسی جلسوں سے نہیں کیا جاسکتا! جلسے وہ بھی پاکستانی قوم کے ہرگز ہرگز ترجمان نہیں جن میں مودی کا یار ہونے کا الزام لگاکر میاں نواز شریف کو غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ تو پھر پاکستان دراصل کیا ہے اور پاکستانی قوم درحقیقت کیا ہے؟ اِس کا اندازہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے سیاسی جلسوں یا سیاسی رہنماؤں کے سیاسی بیانات سے نہیں لگایا جاسکتا!پاکستان اور پاکستانی قوم کا حقیقی چہرہ دیکھنا ہے تو اُس کیلئے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی اُس بیٹھک کو دیکھنا ہوگا جو گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں سیاسی جلسوں میں ''مودی کے مبینہ یار‘‘ کے نام سے پکارے جانے والے وزیراعظم کی سربراہی میں سجائی گئی تھی۔اِس بیٹھک میں کوئی حکومت تھی نہ ہی کوئی اپوزیشن، بلکہ سب پاکستانی بیٹھے تھے اور یہ سب کے سب پاکستانی رہنما بھارتی جنگی جنون، کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعووں کے خلاف سب یک جان اور یک زبان نظر آئے۔ پاکستان کو دی جانے والی جنگی دھمکیوں اور درپیش چیلنجز کے تناظر میں اِن تمام پاکستانیوں کا موقف بھی یکساں اور متفقہ نظر آیا، جس کا سب سے بڑا ثبوت اِس کانفرنس کے اختتام پر جاری کیا جانے والا مشترکہ اعلامیہ ہے!یہ ہے اصل پاکستان اور یہ ہیں اصل پاکستانی!
بھارت کو شاید معلوم نہیں تھا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں چاہے جتنے مرضی اختلافات ہوں، کشمیر کے معاملے پر کوئی پاکستانی سیاستدان ریاست کے اصولی موقف سے ہٹ کر بات نہیں کرتا۔ اِسی طرح بھارتی حکمت عملی مرتب کرنے والوں کی یہ بھی خام خیالی ہے کہ چار مارشل لاؤں کی وجہ سے پاکستان میں سیاستدان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں ختم نہ ہونے والی نفرتیں جنم لے چکی ہیں۔ جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے پر فوجی اور سیاسی حلقوں میں رنجشیں تو یقینا رہی ہیں لیکن جب سامنے معاملہ ہو کشمیر کا تو پھر پاکستان میں نہ کوئی فوجی ہوتا ہے اور نہ کوئی جمہوری رہتا ہے بلکہ سب صرف اور صرف پاکستانی بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے بھارت پاکستانی قوم کو کشمیر کے معاملے پر تقسیم کرنے میں ہمیشہ کی طرح پھر ناکام رہا۔ زین بگٹی کی للکار کیابھارت کے منہ پر کم طمانچہ تھی؟
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر مسلسل ڈھائی جانے والی بربریت، سرحدوں پر بھارتی جارحیت اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ خطے کے امن کے لیے واضح اور بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمانی جماعتوں کی سربراہی کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے اور مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا اور واضح کیا کہ پاکستانی عوام مسلح افواج کے ساتھ مل کر کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اڑسٹھ برس ہوتے ہیں جب سارا کشمیر ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر بھارت خود ہی کشمیر کا مسئلہ اٹھاکر اقوام متحدہ چلا گیااور کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کا وعدہ کرکے جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوگیا، لیکن اب بھارت سات دہائیوں سے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کی بجائے کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دیے چلا جارہا ہے، لیکن بھارت کو غالباً علم نہیں کہ جس کشمیر کو وہ اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے، وہ پاکستان کی شہ رگ ہی نہیں بلکہ کشمیر تو اب پاکستانیوں کے خون میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے ساتھ متعدد معاملات پر اختلافات کے باوجودپاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسئلہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے معاملے میں وزیراعظم کے ساتھ ہیں تو حکومت کی سب سے کٹر مخالف جماعت پی ٹی آئی نے بھی کانفرنس میں اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر شرکت کی اور سرحد پار پیغام پہنچایا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم یکجان ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اقوام متحدہ میں وزیراعظم کے خطاب کو پاکستانی قوم کے جذبات کی نمائندگی قرار دیا تو عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے بھی واضح کیا کہ قوم کے متحد ہونے سے مسئلہ کشمیر کو سفارتی محاذ پر نئی زندگی ملی ہے۔
پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کی کانفرنس سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ قوم مسئلہ کشمیر پر مکمل طور پر متحد ہے، وہیں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ بھارت انہتر برسوں سے جاری ظلم و ستم سے کل کشمیریوں کی تحریک کو کچلنے میں کامیاب ہوا تھا نہ ہی آئندہ اس کی یہ مذموم کوشش کامیاب ہوگی! اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر سیاسی جماعتوں نے اپنے حصے کا کام کردیاہے، اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان اور کشمیر کاز دونوں کو مزید مضبوط بنانے کیلئے سیاسی جماعتوں کے مشوروں پر عمل کرنے کی حکمت عملی تیار کرے۔اس سلسلے میں جو بھی حکمت عملی مرتب کی جائے اُس میں اقوام متحدہ کو ضرور باور کرایا جانا چاہیے کہ اگر مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے لوگوں کو حق خود ارادیت دیا جاسکتا ہے تو سلامتی کونسل کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کیلئے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کرتی؟
قارئین کرام!! ویسے تو کشمیر میں گزشتہ انہتر برسوں سے بھارتی بربریت کا وحشیانہ رقص جاری ہے، جس کی ایک جھلک گزشتہ تین ماہ کے مسلسل کرفیو میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، مقبوضہ وادی میں عورتوں اور بچوں سمیت ایک سو دس سے زیادہ معصوم کشمیریوں کو شہیدکرنے کے علاوہ بھارتی فوج پیلٹ گنوں سے سات سو سے زیادہ کشمیریوں کو اندھا اور ہزاروں کو معذور اور زخمی کرچکی ہے۔ اسی بربریت سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت نے پہلے اُڑی میں اپنے فوجی کیمپ پر حملے کا ڈراما رچاکر دنیا کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس ڈرامے میں ناکامی ہوئی تو سرحدوں پر جنگی جنون پیدا کرکے پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کرڈالا، لیکن اِس نئے ڈرامے اور دعوے میں بھی منہ کی کھاکر بھارتی وزیراعظم کو کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنا پڑا کہ ''ہم کسی کی زمین کے بھوکے نہیں‘‘۔ممکن طور پر بھارتی وزیراعظم کا یہ جملہ بھی نریندر مودی کا نیا ڈرامہ یا نیا پینترا ہوگا۔ ورنہ اگروہ یہ بات دل سے کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی کی زمین کے بھوکے نہیں تو دنیا کو یہ بھی تو بتادیں کہ اُن کے ملک نے سات دہائیوں سے کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کیوں کررکھا ہے؟ کیو ں بھارت اپنی سات لاکھ فوج واپس بلاکر کشمیریوں کو ان کی سرزمین لوٹانہیں دیتا؟نریندر مودی دنیا کو یہ بھی تو بتادیں کہ اگروہ کسی کی زمین کے بھوکے نہیں تو جنت نظیر خطہ پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے کشمیریوں کے خون کے پیاسے کیوں ہوچکے ہیں؟