مغربی اور مشرقی تہذیب میں ایک بنیادی فرق احترام کا ہے اور شاید یہی ہمارے معاشروں کا طرہ امتیاز بھی ہے کہ ہمارے ہاں احترام اور عقیدت ایک بنیادی اور پسندیدہ رویہ ہے۔
ہم لوگ اپنے رشتوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی اپنے فعل کا صرف خود ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ اس کے تمام رشتہ دار جیسا کہ والدین عزیز و اقارب اور حتیٰ کہ دوست تک اس فعل کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ کسی کی کامیابی پر صرف اسے نہیں بلکہ اس کے تمام متعلقین کو مبارک باد ملتی ہے۔ اسی طرح کسی کے ناپسندہ فعل پر صرف وہی نہیں بلکہ اس کے تمام رشتہ دار شرمندہ شرمندہ گھومتے ہیں۔ کسی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرنا ہمارے معاشرے میں بہت اہم ہے۔ افسوس کا یہ اظہار مرنے والے کے عزیز و اقارب کے ساتھ کیا جاتا ہے جو وفات کے ہفتوں بعد تک بھی جاری رہتا ہے۔ وہ احباب جو بیرون ملک مقیم ہوں‘ وہ جب بھی واپس آتے ہیں تو اس بات سے قطع نظر کہ کسی کی وفات کو کتنا عرصہ گزر چکا ہوں‘ پہلا کام یہی سرانجام دیتے ہیں کہ مرحوم کے لواحقین سے افسوس کیا جائے۔ یہ ہماری روایات ہیں۔ انہیں احسن سمجھا جاتا ہے اور ان پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش ہوتی ہے۔ اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کو ناراضگی کی ایک اہم وجہ تصور کیا جاتا ہے اور اکثر قطع تعلقی کے پیچھے یہی وجہ پائی جاتی ہے۔
عقیدت اور احترام ہمارے معاشرے کے بنیادی اجزا میں شمار ہوتے ہیں۔ مشرقی اقوام میں بالخصوص اور مسلم معاشروں میں بالعموم سارے باہمی معاملات اس قدر (Value) کے تابع محسوس ہوتے ہیں۔ احترام کے حوالے سے والدین کے احترام کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا احترام بھی ہمارے معاشروں میں نہایت پسندیدہ قدر کے طور پر لیا جاتا ہے اور ہمارا مذہب اسلام بھی استاد کو والد کے برابر قرار دیتا ہے۔
اپنی عمر سے بڑے کا احترام اور بالخصوص بڑے بھائی کا احترام اور اپنے اوپر اس کی حاکمیت بھی مسلمہ ہے۔ فارسی کے مشہور قول کے مطابق ''سگ باش برادر خورد نہ باش‘‘ (کوئی کتا بن جائے مگر کسی کا چھوٹا بھائی نہ بنے) ایسا نہیں ہے کہ اس صورتحال کے خلاف چھوٹے بھائیوں میں کوئی بغاوت موجود ہو۔ بچپن میں بڑے بھائی سے مار پڑنا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ایسا ہوتا رہتا تھا۔ بچوں کے روزانہ کے باہمی جھگڑوں میں زیادہ تر فیصلہ بڑے بھائی کے حق میں آیا کرتے تھے۔ اتنا ''ظلم‘‘ سہنے کے بعد بھی چھوٹا بھائی کسی گھاٹے میں نہیں رہتا ہے بلکہ والد کی وفات کے بعد اس کا بڑا بھائی باپ کے تمام فرائض اپنے ذمے لے لیا کرتا ہے۔ ہمارے ہاں والد کی وفات کے بعد بڑے بھائی کی موجودگی میں چھوٹے بہن بھائی لا وارث نہیں ہوتے۔
ہمارے ارد گرد ایسی ہزاروں مثالیں بکھری پڑی ہیں جن میں بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت میں اپنی پوری زندگی لگا دی۔ بہنوں کی شادی کے لیے وسائل کی فراہمی میں تو اکثر بھائی خود اپنی شادی کی عمر گزار دیتے ہیں۔ اس کو بہت بڑی قربانی کے طور پر بھی نہیں لیا جاتا بلکہ یہ تو ہر بھائی کا فرض قرار پاتا ہے۔ کوئی بہن کی شادی سے پہلے اپنی شادی کیسے کر سکتا ہے؟ یہ بات سخت معیوب سمجھی جاتی ہے۔ یہ احساس اور حسن سلوک ہمارے معاشرے کی خوبصورتی ہے۔
ہمارا احترام رشتوں تک محدود رہتا ہے۔ ہم اپنے والدین کا احترام کرتے ہیں، ہم اپنے استاد کو بھی محترم سمجھتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ اقوام کے ہاں ہر کسی کے لیے ایک حد تک باہمی احترام پایا جاتا ہے۔ وہ ہر کسی کے لیے نیک جذبات رکھتے ہیں۔ ہر کاروبار اور پیشے کو احترام دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ پیشے حقارت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس رویے میں تعلیم کے باعث کمی واقع ہو رہی ہے؛ تاہم ابھی بھی معاشرے کے ان اہم پیشوں کو وہ احترام حاصل نہیں جس کے وہ حق دار ہیں۔
ہمارے ہاں عقیدت اور احترام کی ایک نہایت اہم بنیاد بزرگی، تقویٰ، علم اور مذہبی تقدس بھی ہے۔ مغرب اس بنیاد سے بہت پہلے کا دستبردار ہو چکا ہے۔ اب وہ کسی کا احترام صرف اس لیے نہیں کرتے کہ یہ کوئی پادری یا مذہب کا نمائندہ ہے۔ ہمارے معاشروں میں مذہبی راہنما بہت احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ نہ صرف احترام بلکہ پیروی کے حوالے سے بھی ان کا معاشرے میں موثر اثر و رسوخ پایا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ احترام اندھی تقلید کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔ کوئی ان بزرگوں سے علمی اختلاف کی جرأت نہیں کر سکتا۔ یہ احترام موجودہ مذہبی راہنمائوں کے علاوہ ماضی کے بزرگانِ دین کو بھی حاصل ہے کہ ان سے علمی اختلاف پر بھی لوگ مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
مغربی معاشروں میں کسی کو تقدیس حاصل نہیں۔ وہ تو ہر بات اور ہر معاملے کو اپنی آزادیٔ رائے کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ وہاں بھی، جی ہاں، وہاں بھی استاد کو تقدس حاصل ہے۔ وہاں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ کوئی خواہ کتنا با اثر حکمران ہی کیوں نہ ہو قانون سب کے لیے برابر ہے۔ ان معاشروں میں حکمران کو بھی ٹریفک کے اشارے پر رکنا پڑتا ہے۔ وہاں بالا دست کو بھی قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مگر وہاں بھی معاشرے کے ایک طبقے کو احترام حاصل ہے اور وہ ہے استاد۔ کسی کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ ہاں جب کوئی کوتاہی کسی استاد سے سرزد ہو تو پھر قانون کے رکھوالوں کا قلم رک سا جاتا ہے۔ کیا اس پروفیسر کا بھی چالان کر دیا جائے ؟ یہ تو استاد ہے۔ کیا اسے بھی عدالت طلب کیا جائے گا ؟
پروفیسر عرفان صدیقی صاحب سے غلطی (Violation) سرزد ہوئی لیکن ایسی غلطی کے مرتکب کتنے افراد کو جیل بھیجا گیا ہے؟ میرے ایک دوست یونین کونسل کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ اکثر پولیس چیکنگ کے دوران ایسے مالک مکان اور کرایہ دار کو پکڑتی ہے۔ زیادہ تر کو صرف وارننگ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ نہایت مخصوص حالات اور سختی کے دوران ایف آئی آر درج کر بھی لی جائے تو ایسے ''جرائم‘‘ میں ملوث افراد کو کسی کی شخصی ضمانت پر رات کو گھر بھی بھیج دیا جاتا ہے۔ میرے اس دوست نے بتایا کہ ایک بار تو محرر تھانہ نے ہی ان کی درخواست پر اس ''جرم‘‘ میں ملوث ''نامزد ملزم‘‘ کو گھر بھیج دیا تھا کہ وہ صبح عدالت میں لازمی پیش ہوں گے۔
یہ ہے وہ ''سنگین جرم ‘‘جس کی خلاف ورزی پر ایک ''با اصول‘‘ ایس ایچ او نے اس استاد محترم کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا اور پھر اس استاد کو جیل بھیج دیا گیا۔ ہمارے دیہی کلچر میں کسی کے کام میں کوتاہی پر اسے ''بے استادہ‘‘ کہہ کر طعنہ دیا جاتا ہے‘ شرم دلائی جاتی ہے۔ اس واقعہ کے ذمہ دار افراد نے اپنے تمام اساتذہ اور متعلقین کو شرمندہ کر دیا ہے۔ اس باپ کو بھی جس نے اپنے بیٹے کے پولیس میں سپاہی بھرتی ہونے پر ادھار لے کر لوگوں کو مٹھائی کھلائی ہو گی اور ریمانڈ دینے والے صاحب کے والد کو بھی‘ جنہوں نے یہ نصیحت کی ہو گی کہ ہمیشہ اساتذہ کرام کا احترام کرنا۔
پروفیسر عرفان صدیقی سے گزارش ہے کہ ان کے خلاف کچھ نہ بولیں۔ یہ لوگ تو آپ کی ڈانٹ کے بھی قابل نہیں ہیں۔ آپ یہ کام اپنے لاکھوں شاگردوں اور معتقدین پر چھوڑ دیں جو حسب توفیق اس فعل کے ذمہ داروں کو ساری زندگی مطعون کرتے رہیں گے۔ اگر یہ واقعہ پروفیسر صاحب کو سبق سکھانے کے لیے یا پھر انہیں اپنے تئیں حق بات کہنے سے روکنے کے لیے تھا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسا کرنے والے کتنے نادان ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ کسی دانشور کے مؤقف کو صرف دلیل سے ہی رد کیا جا سکتا ہے‘ اس طرح تذلیل کی کوشش کر کے ہرگز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس عمل سے پروفیسرصاحب کی توقیر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یقینا اللہ جسے چاہتا ہے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ پروفیسر صاحب کی تذلیل کے خواہش مند خود ذلیل ہو رہے ہیں۔