"SAC" (space) message & send to 7575

خارجہ پالیسی کے مسائل

خطے کی نئی صورتحال اوربدلتے ہوئے رجحانات کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے ۔ ماضی اور حال کی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں تو چند بڑے مسائل نمایاں ہیں ۔اول، ہم خارجہ پالیسی کا تعین کرتے وقت نفسیاتی طورپر بڑی طاقتوں کے زیر اثر نظر آتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے جیسے کمزور ملکوں کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہوتی، بلکہ ہمیں بڑی طاقتوں کے ایجنڈے کے ساتھ اپنی پالیسی کو جوڑنا چاہیے۔دوئم، ہماری خارجہ پالیسی سے ردعمل کی سیاست کا گہرا تعلق ہے ۔ واقعات کے رونما ہونے سے قبل ہماری طرف سے مناسب حکمت عملی اور تدبر کا پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ حقائق کے مقابلے میں اپنی خواہشات اور جذبات کو ترجیح دیتے ہیں۔سوئم خارجہ پالیسی کا تعین عوام کی منتخب قیادت اور پارلیمنٹ کی بجائے کچھ مخصوص افراد یا ادارے کرتے ہیں۔ ایک طرف تاثر پایا جاتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی امریکی مفادات کے تابع ہے اور دوسری طرف امریکہ ہماری پالیسی پر وہ اعتماد نہیں کرتاجس کی ہماری ریاست اور حکومتوں کو ضرورت ہے۔دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں پاکستان ایک اہم اتحادی ہے ،لیکن اس کے کردار پر دنیا میں کافی شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں ۔ حالانکہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے اس جنگ کا حصہ بن کر داخلی مسائل میں اضافہ کی صورت میں بھاری قیمت چکائی ہے ۔ایک اندازے کے مطابق تقریباً 6ہزار فوجی اور40ہزار سے زیادہ عام لوگ دہشت گردی کی نذر ہوئے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش زیادہ رکھتا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بقول ہم ایک ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کے ذریعے پاک بھارت تجارت کی راہ ہموار ہو اور دنیا سے اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔ لیکن اس حوالے سے بھارت کا رویہ کافی سخت ہے ۔ بھارت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بقول پاکستان کی ریاست خود دہشت گردوں کی سرپرستی کرتی ہے۔ اسی طرح بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت پاک بھارت تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔بھارت میں بی جے پی کے نامزد وزیر اعظم نریندر مودی انتخابی مہم میں پاکستان دشمنی کی بنیاد پرپُرجوش انتخابی مہم چلانے کی کوشش کررہے ہیں ،اس لیے یہ سمجھنا کہ بھارت ہمارے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا خواہشمند ہے ، محض خوش فہمی ہوگی ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں مخاصمانہ پالیسی کی ضرورت نہیں۔ امریکہ ، بھارت اور افغانستان سب سے ہمیں بہتر تعلقات رکھنا ہوں گے۔ اگر ماضی میں ہم سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں تو ان کا ازالہ کیا جانا چاہیے،لیکن یہ معاملہ سب کی طرف سے ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کے ساتھ ہی آگے بڑھے گا، خاص طور پر بڑی طاقتوں کوایسے اقدامات کرنا ہوں گے، جن سے معاملات درستگی کی جانب گامزن ہوں ۔ محض ڈکٹیشن، دھمکیوں اور الزام تراشیوںسے امن کا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کچھ لو اور کچھ دو، کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔ پاکستان کو خارجہ پالیسی میں امریکہ ایک بڑا چیلنج ہے ،لیکن اس سے بھی بڑا چیلنج علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے بحران کا ہے ۔ جب تک بھارت ، پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کچھ بنیادی معاملات، بشمول دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق رائے، کے حوالے سے عملی اقدامات نہیں کریں گے، معاملات میں خرابی بدستور موجود رہے گی ۔ان ممالک میں عدم تعاون کی بڑی وجہ جہاں یہ ممالک خود ہیں وہیں امریکہ بھی چاہتا ہے کہ یہ خود سے معاملات طے کرنے کی بجائے اس پر انحصار کریں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو تعلقات کی بحالی کے لیے امریکہ پر انحصار کرنا پڑرہا ہے ۔بھارت میں بھی بائیں بازو کی قیادت کو امریکہ پر بڑھتے ہوئے انحصار پر تشویش ہے ۔ یہ طے ہے کہ اگر امریکہ نے پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں کردار ادا کرنا ہے تو وہ اس کا فریم ورک بھی اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر طے کرے گا۔ پاکستان کاایک بڑا مسئلہ افغانستان کی صورت حال سے متعلق ہے ۔ اگرچہ امریکہ 2014ء میں افغانستان سے انخلا کی بات کررہا ہے ، لیکن یہ مکمل انخلا نہیں ہوگا۔ یہ سمجھنا کہ امریکہ مکمل طور پر افغانستان سے نکل جائے گا حقیقت سے بعید ہے۔امریکہ کابل میں ایک ایسی حکومت چاہتا ہے جو اس کے مفادات کے تابع ہو۔ اسی لیے امریکہ نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔جان کیری کے دورہ افغانستان 2014ء کے بعد کے افغانستان کے نظام، افغانستان میں امریکی فوجیوں کی مستقل تعیناتی اور امریکی فوجیوں کے لیے خصوصی اختیارات کے معاہدے کے لیے تھا مگر اس میں امریکہ کو ابھی تک ناکامی کا سامنا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات اتنے سادہ نہیں۔افغانستان کے مسئلے کے حل یا ناکامی کا براہ راست اثر پاکستان پہ ہو گا ۔بعض بین الاقوامی دانش وروں کے خیال میں امریکہ پر جنگی جنون طاری ہے۔ وہ نئے افغانستان کی تلاش میں ہے اور اشارہ وہ پاکستان کی طرف کرتے ہیں۔ یہاں کی دہشت گردی کو بنیاد بناکر ایک بڑی کارروائی کا واضح اشارہ بھی دیا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف 23اکتوبر کو امریکہ میں امریکی صدر اوباما سے ملاقات کررہے ہیں ۔ اس دورے میں انہیں حامد کرزئی کے اس مطالبہ کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان کے خلاف دفاعی معاہدے میں امریکہ اس کی مدد کرے ۔اسی طرح پاکستان کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے اور یہ ایک دوسرے کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ۔ان حالات میں ہمیں ایک ایسی خارجہ پالیسی کی طرف بڑھنا ہوگاجس پر ملک کے عوام اور تمام اداروں کا اتفاق ہو اور دنیا بھی ہمارے ساتھ کھڑی ہو۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں