"SAC" (space) message & send to 7575

غیر جماعتی مقامی انتخابات کی منطق

کیا پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھا ہے ؟یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ سیاسی قیادتوں اور جماعتوں نے تجربے ، وقت اور حالات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ لیکن مورخین کا ہماری اور جنوبی ایشیا کی سیاست کے بارے میں دعویٰ ہے کہ ’’ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کسی نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔‘‘کیونکہ ہم غلطیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیاسی او رآمرانہ حکومتوں میں بنیادی فرق جمہوری طرز فکر کا ہوتا ہے ۔ جب سیاسی و جمہوری حکومتیں بھی آمرانہ یا فوجی حکومتوں کی پالیسیوں سے جڑی ہوں تو جمہوریت اور آمریت کے درمیان بنیادی فرق ختم ہوجاتا ہے ۔اسی طرح سیاسی جماعتوں کے غیر سیاسی فیصلے خود ان کی اپنی جمہوری ساخت پر بھی بنیادی سوالات اٹھاتی ہیں ۔اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی بحث زور شور سے جاری ہے ۔ سپریم کورٹ ، الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومتیںان انتخابات کے فوری انعقاد پر تقسیم نظر آتی ہیں ۔ ان انتخابات کے تناظر میں ایک مسئلہ ان انتخابات کے جماعتی یا غیر جماعتی ہونے کا بھی ہے ۔پنجاب میں مسلم لیگ)ن(کی حکومت ہے ۔اس نے صوبے میں بلدیات کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیا یہ امر حیران کن نہیں ہے کہ ایک سیاسی جماعت غیر سیاسی بنیادوں پر انتخابات کرانے کی بات کر رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں جب بھی مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے غیر جماعتی ہوئے ۔ کیونکہ زیادہ تر انتخابات فوجی حکومتوں کے دور میں ہوئے۔ مسلم لیگ)ن(اور پیپلز پارٹی نے 15مئی 2006ء کو لندن میں تاریخی ’’میثاق جمہوریت ‘‘ پر دستخط کیے تھے ۔ اس معاہدے کی شق10کے مطابق دونوں جماعتیں پابند تھیں کہ وہ برسراقتدار آکر مقامی انتخابات کو جماعتی بنیادوں پر کروائیں گی۔لیکن اب مقامی حکومتوں کے متوقع انتخابات میں مسلم لیگ)ن(اور اس کی قیادت اپنے ہی کیے گئے عہد کی پاسداری سے انکاری ہے ۔ اس کے مقابلے میں سندھ میں پیپلز پارٹی ، بلوچستان کی مخلوط حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے مقامی انتخابات کو جماعتی بنیادوں پر کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ملک کی چار اکائیوں میں سے تین جماعتی اور ایک بڑی اکائی غیر جماعتی انتخابات پر بضد ہوگی تو اس سے اس جماعت کے جمہوریت پسندے کے دعوے پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ میں پچھلے دنوں پنجاب کی حزب اختلاف کی جماعتوں کی درخواست پر جماعتی اور غیر جماعتی انتخابات کے انعقاد پر بحث کا عمل مکمل ہوا ہے ۔عدالت میں پنجاب حکومت نے غیر جماعتی انتخابات کے حق میں جو دلائل دیے وہ سیاسی حکومت کے کم اور آمریت پر مبنی حکومت کے زیادہ لگتے تھے ۔ پنجاب حکومت نے اپنے مؤقف کے حق میں یہ دلیل بھی دی کہ بلدیاتی ادارے سیاسی ادارے نہیں، بلکہ انتظامی ادارے ہیں ۔کس قدر عجیب استد لال ہے کہ ہم جنہیں جمہوریت اور سیاست کے بنیادی ادارے یا نرسریاں کہتے ہیں ان ہی کے بارے میں ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ سیاسی نہیں انتظامی ادارے ہیں ۔ اگر یہ انتظامی ادارے ہیں تو پھر انتظامیہ کس چیز کا نام ہے ۔انتظامیہ منتخب نہیں کی جاتی، بلکہ سرکاری اہلکاروں پر مشتمل ہوتے ہیں ۔اسی طرح ایک اور دلچسپ دلیل یہ تھی کہ جماعتی یا غیر جماعتی انتخابات کرانا صوبائی حکومت کا حق ہے ۔ کیا کوئی صوبائی حکومت آئین سے متصادم انتخابات کا فیصلہ کرسکتی ہے ؟۔ ایک اور دوسری دلیل میں کہا گیا کہ ان مقامی اداروں کو سیاسی جماعتوں سے پاک کرنا اور مقامی لوگوں کو نظام کا حصہ بنانا مقصود ہے ۔یہ منطق کہ اگر صوبہ میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے تو خون خرابہ کا باعث بنیں گے۔ اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو پھر ہمیں صوبائی اور قومی انتخابات بھی غیر جماعتی ہی کروانے چاہئیں ، تاکہ وہاں بھی پرتشدد سیاست کے عمل کو روکا جاسکے ۔ پنجاب حکومت کے دلائل یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا مقدمہ کافی کمزور ہے ۔میثاق جمہوریت کے بارے میں سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ اس معاہدہ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ بجا ، لیکن کیا سیاسی معاہدے کوئی معانی نہیں رکھتے؟ جب سیاسی جماعتیں اپنے ہی کیے گئے معاہدں کی نفی کریں،چاہے وہ موقف غیر اصولی اور غیر جمہوری ہی کیوں نہ ہو،موقع پرستی کی سیاست کے زمرے میں آتا ہے ۔ عدالتی معاون اور معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے عدالت میں جماعتی انتخابات کے حق میں کافی اہمیت کے حامل دلائل دئیے۔بلا شبہ غیر جماعتی انتخابات نے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو کمزور اور برادری ازم اور دھڑے بندی کی سیاست کو زیادہ مضبوط کیا ہے۔ غیر جماعتی انتخابات خود سیاسی جماعتوں کی نفی کرتے ہیں۔ غیر جماعتی انتخابات عملی طور پر لوٹا کریسی ، منتخب نمائندوں کی خرید و فروخت میں سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی میں بطور’’ ہتھیار‘‘ استمال ہوتے ہیں۔بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ غیر جماعتی انتخابات کا مقصد جیتنے والے تمام امیدواروں کو سرکاری دھونس ، دھاندلی اور کرپشن کی مدد کے ساتھ اپنی جماعت کی حمایت پر مجبور کرنا کرنا مقصود ہے؛ جبکہ پاکستان میں گراس روٹ لیول پر سیاسی جماعتوں کا مضبوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں کو منظم اور فعال کرکے ہی غیر سیاسی قوتوں کو کمزور کیا جاسکتا ہے ۔لیکن ہماری سیاسی قوتیں یا حکمران جماعتیں بنیادی طور پر مقامی سطح پر مضبوط سیاسی نظام سے ہی خائف ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ اگر مقامی سطح پر سیاسی جماعتیں منظم ہوں گی تو ان کی سیاسی اجارہ داری کو خطرات لاحق ہوں گے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں