نئے انتخابات اور نئی جمہوری حکومت کے باوجود قومی مسائل کو سمجھنے او راسے حل کرنے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ موجودہ حکومت کا طرز عمل بھی سابق حکومتوں جیسا ہی نظر آتا ہے۔ مڈٹرم الیکشن کا ذکر بھی ہو رہا ہے۔ ماضی میں اس طرح کے نعرے عموماً حکومت مخالف جماعتیں لگایا کرتی تھیں، لیکن اس بار یہ بات وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے منہ سے نکلی۔ وزیرداخلہ کے بقول انہیں حزبِ اختلاف اور بالخصوص عمران خان کی سیاست سے مڈٹرم انتخابات کے مطالبے کی بو آرہی ہے ۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بشمول عمران خان اس سے انکاری ہیں اور ان کے بقول مڈٹرم انتخابات دراصل حکومت کے اندر کے خوف کا نتیجہ ہے ۔واقعی عجیب معاملہ ہے کہ انتخابات کے چھ ماہ بعد ہی مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔ اس طرح کی باتیں اس وقت سامنے آتی ہیں جب معاملات حکومتوں کے کنٹرول سے نکل کر ایک بڑے انتشار کی نشاندہی کر رہے ہوں۔ یوں لگ رہا ہے کہ اصل مسئلہ 2013ء کے انتخابات کی ساکھ کا ہے۔ یہ ہماری سیاسی تاریخ کے پہلے انتخابات ہیں‘ جن کے بارے میں جیتنے اور ہارنے والے دونوں کہہ رہے ہیں کہ انتخابات شفاف نہیں تھے ۔تحریک انصاف نے چار حلقوں میں دوبارہ گنتی اور نادرا سے انگوٹھوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا ہے اور یہ مطالبہ حکومت کے لیے درد سر بن گیا۔حکومت اگر ان حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کرائے اور نتیجہ مختلف نکلے تو انتخابات کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور اگر ٹال مٹول کرتی ہے تو اس سے حکومت کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار کا پارلیمنٹ میں یہ اعتراف، کہ قومی اسمبلی کے تمام حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ تصدیق کرائی گئی تو کم ازکم چالیس سے پچاس ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہوسکے گی‘ یہ بات خود حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہو گی جو انتخابات کی شفافیت کا دعویٰ رکھتی ہے۔ پھر جو کچھ چیئرمین نادرا طارق ملک کے ساتھ ہوا اس سے بھی حکومتی ساکھ متاثر ہوئی۔ طارق ملک کا اپنے حق میں سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بیان ‘ کافی پریشان کن ہے ۔وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق جس طرح میڈیا میں عمران خان پر برس رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی طرح انہیں بھی اندرسے کوئی خوف لاحق ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ ایک جماعت نے انگوٹھوں کی تصدیق کے نام پر تماشہ لگارکھا ہے ، حکومتی بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت نے چیئرمین نادرا کو برطرف کیا، تو وہ عدالتی فیصلہ پر بحال ہوگئے‘ پھر وزیرداخلہ نے نادرا کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دینے کا اعلان کیا، تو الیکشن کمیشن نے بھی انکار کردیا۔
عمران خان نے کمال ہوشیاری سے محض چار حلقوں کی نشان دہی کر کے پورے انتخابی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ بالفرض اگر ان چار حلقوں کا فیصلہ غیر متوقع ہوا‘ تو پھر یقینا نئے انتخابات اور مڈٹرم کا مطالبہ ہوگا۔ بس یہی وہ مسئلہ ہے جس پر حکومتی حلقوں میں پریشانی پائی جاتی ہے۔ الیکشن ٹریبیونل نے قانون کی رو سے 120دن کے اندر انتخابی عذداریوں پر فیصلہ کرنا تھا ، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ معترضین کا یہ سوال بجا ہے کہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ان فیصلوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں او ران میں حکومتی عمل دخل کتنا ہے؟پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی کا مکمل سدباب ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر عوام کی منتخب حکومت کا امیج مجروح ہوگا۔
عمران خان الیکشن کی شفافیت کے نام پر حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر لانے کے لیے بتدریج دبائو بڑھا رہے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے مہنگائی ریلی نکال کر حکومتی پریشانی میں اضافہ کردیا ہے۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری 29دسمبر کو لاہور ہی سے بڑی احتجاجی تحریک کا آغاز کررہے ہیں ۔ جماعت اسلامی بھی ان ہی مسائل کو بنیاد بنا کر نئی صف بندی کررہی ہے۔ پرویز رشید اور خواجہ سعد رفیق کے بقول تین سیاسی کردار عمران خان، شیخ رشیداور طاہر القادری حکومت اور سیاسی نظام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔دراصل مسلم لیگ )ن(کو پیپلز پارٹی سے کوئی خطرہ نہیں۔ میثاق جمہوریت کے طفیل دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے سے رعائت کرنے کی پابند ہیں۔ لیکن جب ملک میں مزاحمتی سیاست نے زور پکڑا تو خود پیپلز پارٹی بھی سیاسی تنہائی سے نکلنے کی کوشش کرے گی۔
پنجاب کی سیاست پر مقامی حکومتوں کے انتخابات کے نتائج بھی اثر انداز ہوں گے۔ پنجاب میں جماعتی انتخابات کے عدالتی فیصلہ نے حکومت کو بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ صوبائی حکومت مقامی انتظامیہ کی مدد سے انتخابات کا انعقاد کررہی ہے ، جو سب جماعتوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔ اگر پنجاب حکومت مقامی انتخابات کے نتائج پر انتظامیہ کی مدد سے اثر انداز ہوئی تو عمران خان دوسرے سیاسی عناصر سے مل کر حکومت کے خلاف بڑی تحریک شروع کر سکتے ہیں۔ شنید ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کردیئے جائیں۔ ایسا ہی مشورہ سندھ کے ارکان اسمبلی نے بھی اپنی صوبائی حکومت کو دیا ہے کہ مڈٹرم انتخابات ہمارے مسائل کا حل نہیں۔ جب حکومتیں لوگوں کو ریلیف دیتی ہوں اور حکومت کے معاملات پر لوگوں میں اطمینان ہو تو اس طرح کے مڈٹرم انتخابات کے شوشے اپنی موت آپ مرجاتے
ہیں ۔اس لیے اگر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ چوہدری نثار مڈٹرم انتخابات کے خوف سے نکلنا چاہتے ہیں تو انھیں حکومتی معاملات کا نئے سرے سے جائزہ لینا ہوگا۔کیونکہ اب تک جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ شدید تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔ اگر انداز حکمرانی لوگوں کے مفادات سے نہ جڑ ا اور لوگوں کو ریلیف نہ دیا گیاتو حکومتی ساکھ متاثر ہوگی ۔ لوگ اپنے مسائل کا جلد حل چاہتے ہیں۔ وہ لمبی مدت کے لیے مرکزی یا صوبائی حکومتوں کو وقت دینے کے لیے تیار نہیں ۔اس لیے مڈٹرم انتخابات کے خوف سے باہر نکلنے کی کنجی بھی حکومت کے پاس ہی ہے۔ جب لوگ مطمئن ہوں گے اور انہیں ریلیف ملے گاتو وہ مڈٹرم انتخابات کے نعرے میں کوئی کشش نہیں پائیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ نئے سال کی آمد پر مزید مہنگائی اور لوگوں پر مالی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ حکومت کو جن لوگوں پر بوجھ ڈالنا چاہیے تھا ، ان سے ڈر کر اور سمجھوتہ کرکے غریب آدمی کو مزید بدحالی سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ محض مہنگائی کا ہی نہیں، بلکہ بجلی، گیس کی قلت سمیت دہشت گردی، امن و امان کی صورتحال ، سرمایہ کاری میں کمی اور ٹیکسوں کی بھرمارجیسے مسائل کا بھی ہے۔یہ مسائل لوگوںمیں امید کا پہلو کم اور مایوسی یا غیر یقینی کی کیفیت کو زیادہ پیدا کررہے ہیں۔ یہ وہ خطرہ ہے جس سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی بقا کے لیے کوئی محفوظ راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ ایسا محفوظ راستہ ہی حکومت کو مڈٹرم انتخابات کے شوشہ سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔