دو دن پہلے جب سکول کھلے تھے تو چیف آف آرمی سٹاف نے آرمی پبلک سکول کے گیٹ پر طلبا کا استقبال کر کے ساری قوم کے دل جیت لیے۔ اس دن وہ صرف افواج پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے چیف لگ رہے تھے کیونکہ میرے جیسے تمام والدین جن کے بچے ابھی زیر تعلیم ہیں وہ اپنے بچوں کو اور اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے تھے لیکن جب آرمی پبلک سکول‘ جہاں 140 بچوں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا‘ کے گیٹ پر جنرل راحیل شریف کو بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھتے ہوئے دیکھا تو گھروں میں ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھے ہوئے تمام والدین اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے۔ جنرل راحیل نے بچوں کے ساتھ اسمبلی‘ دعا اور ترانے میں کھڑے ہو کر اُس سکول اور پورے ملک کے طلبا کے اعصاب کو مضبوط اور حوصلہ مند کر دیا۔ جنرل راحیل ہمیشہ لیڈر شپ سے بھرپور نظر آئے ہیں۔ وہ کبھی تو جنگ کے دوران اگلے محاذوں پر اپنے فوجی جوانوں کے درمیان نعرے لگا رہے ہوتے ہیں اور کبھی وطن عزیز پر قربان ہونے والے اپنے ساتھیوں کے جنازوں کی اگلی صف میں کھڑے انہیں الوداع کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ غرضیکہ ملک میں چارسو پھیلی ہوئی دہشت گردی کے خوف کو وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے ہی نہیں اپنی طبعی بہادری اور قوم و ملت کے ساتھ محبت و شفقت سے بھی ہر ممکن ختم کرنے میں مصروف ہیں۔ طلبا کے درمیان کھڑے ہو کر افواج پاکستان کے سپہ سالار نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اس صورت حال میں سکولوں کی دیواریں نہیں‘ بچوں کے حوصلے بلند کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف سیاسی و حکومتی ذمہ داران نے کمروں میں بیٹھ کر گپیں ہانکیں‘ چائے کی چسکیاں اور بسکٹوں کے ''پچاکے‘‘ بھرے میڈیا کے لیے دو دو بیان داغے اور بس......
حکومت پنجاب کے وزیر تعلیم‘ جن کی سی سی ٹی وی کیمرے سے ریکارڈ کی گئی رشوت وصولی کی فلم ابھی آنکھوں سے دھندلی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی نے اس فلم کی وضاحت پیش کرنے کی جسارت کی...‘ نے تعلیمی اداروں کی دیواروں پر چار چار اینٹیں لگوا کر سکولوں‘ کالجوں کے مالیوں اور چپڑاسیوں کو سکیورٹی کی ڈیوٹی سونپ کر بچوں کے والدین کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کی اور جب بچے سکول پہنچے تو صرف جنرل راحیل شریف سکول کے گیٹ پر تھے اور یہ سیاست دان اپنے لحافوں میں گھسے ہوئے... دل یہ چاہتا تھا کہ راحیل شریف کے اس اقدام کو دیکھ کر حکومتِ وقت اگر چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم کو برطرف کر دیتیں تو شاید طلبا کو ان کی طرف سے بھی حوصلہ ملتا۔
کس قدر افسوس اور شرم کی بات ہے کہ عوام کے ساتھ محبت کے اس اظہار کا خیال عوامی لیڈران کی بجائے ایک پیشہ ور جنگجو کے ذہن میں آیا۔ دراصل ایسے حالات میں دل کام کرتے ہیں دماغ بند ہو جاتے ہیں۔ پھر سچی محبتوں کا اظہار تو دلوں سے کیا جاتا ہے‘ دماغوں سے نہیں اور جب دلوں میں محبت ہی نہ ہو تو اظہار کیسا... سیاست تو اب صرف دکھاوے کا نام ہے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور چونکہ دہشت گردی کا دردناک واقعہ بھی اسی صوبے کے سکول میں پیش آیا‘ اس لیے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس غلطی کا مداوا کرنا ضروری سمجھا مگر اُن کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ وہ اپنی نئی نویلی دلہن کو لے کر بتیس گاڑیوں کے ساتھ سکول کے سامنے پہنچے تو وہاں پر موجود شہدا کے والدین نے اس بتیس گاڑیوں کے قافلے کی ''سیاسی بتیسی‘‘ نکال دی۔ اُن بے جان جسموں‘ سوجی ہوئی آنکھوں اور ابلتے ہوئے نمناک جذبات سے بھرپور والدین کے منہ سے نکلنے والے کسی بھی سوال کا اُن 32 گاڑیوں میں براجمان کسی بھی شخص کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور نہ ہی مظاہرین میں سے کوئی آئیں بائیں شائیں سننے کے لیے تیار تھا۔ حتیٰ کہ دھکم پیل کے ساتھ اگلے دروازے سے گھسنے والے اس قافلے کو واپسی پر پچھلی گلی سے بھاگنا پڑا۔
ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ہوئے یہ منظر دیکھ کر میں افسردہ سا ہو گیا اور ٹی وی لائونج میں خود کو اکیلا سمجھتے ہوئے اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے گھر کی ماسی پاس ہی انگیٹھی پر رکھی ہوئی ڈیکوریشن صاف کرنے میں مشغول ہے۔ میں منہ ہی منہ میں بُڑبُڑایا......
''اوہو... وہ بیچارہ اپنی بیوی کے ساتھ آیا تھا‘ اُس کی نئی دلہن کا ہی خیال کرنا چاہیے تھا‘‘۔
''تو صاحب جی اُس نے کون سا نئی دلہن لاتے وقت ان بیچاروں کا خیال کیا ہے‘‘۔
''ماسی کیا مطلب آپ کا......؟‘‘
''صاحب جی ڈیڑھ سو بچہ مر گیا تو اس نے ویاہ رچا لیا۔ کچھ تو خیال کرتا......‘‘
''ماسی ٹھیک ہے‘ حادثہ بہت بڑا ہے مگر زندگی رُک تو نہیں جاتی‘ دنیا کے کام تو چلتے رہتے ہیں......‘‘
''ٹھیک ہے مگر ہر کام کا وقت ہوتا ہے اور اگر وقت پیڑا آ جائے تو کام روک لینے چاہئیں... یہ ملک صدیق کے پُتر کی شادی تھی کہ دو ہفتے پہلے اُن کے ہمسایوں کا پیو مر گیا تو اُس نے اپنے پُتر کی شادی مہینہ لیٹ کر لی کہ چالیسواں ہو جائے تو پھر کر لیں گے۔ اُس نے تو شادی کے کارڈ بھی چھپوا لیے تھے‘ اِس کے باوجود اُس نے پروا نہیں کی... تو ا س کی کون سی ڈیٹ طے ہو گئی تھی یا اس نے دعوت نامے بانٹ دیئے تھے۔ میں نے تو سنا ہے کہ کُڑی خود چل کے آ گئی تھی اس کے گھر نکاح پڑھوانے کے لیے تو اگر مہینہ ٹھہر کے آ جاتی تو کیا فرق پڑنا تھا اِسے یا اُسے......‘‘
''ٹھیک ہے ماسی مگر بیچارہ پہلی دفعہ اپنی بیگم کے ساتھ نکلا تھا‘ مظاہرین نے اُس کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ کیا سوچتا ہوگا......‘‘
''ہائے صاحب جی سوچنا کیا ہے اُس نے‘ یہی سوچتا ہوا واپس جائے گا کہ اخبار والوں کو اکٹھا کر کے کہوں گا‘ یہ والدین نہیں تھے ہماری مخالف پارٹی کے لوگ تھے۔ انہوں نے گو نواز گو کا بدلہ لیا ہے ہور کیا سوچنا ہے اس نے......‘‘
میں نے حیرانی سے ماسی کی طرف دیکھا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگی:
''صاحب جی اے ٹی وی دیکھ دیکھ کے اتنی سیاست تو اب ہم غریبوں کو بھی آ گئی ہے‘‘۔