نان پٹرولیم کیمیکلز کو ڈی پی ایل سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ

نان پٹرولیم کیمیکلز کو ڈی پی ایل سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ

کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر توانائی (پٹرولیم ڈویژن)علی پرویز ملک سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر صنعتی کیمیکلز کو غیر ضروری طور پر ڈسٹری بیوشن پرمٹ لائسنس کے دائرہ کار میں شامل کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا۔۔۔

 تو ملک بھر کی صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں،ڈی پی ایل کے غیرمتعلقہ کیمیکلز پر اطلاق سے ملک میں صنعتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔پی سی ڈی ایم اے چیئرمین سلیم ولی محمد نے وفاقی وزیر توانائی (پٹرولیم ڈویژن)کو ارسال کردہ خط میں کہا کہ متعلقہ قانون دراصل پٹرول پمپس اور پٹرولیم مصنوعات کی ریگولیشن کیلئے بنایا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے اب اس کا اطلاق ان صنعتی کیمیکلز پر بھی کیا جا رہا ہے ۔کیمیکل ٹیکسٹائل،پلاسٹک، چمڑا، دواسازی، کھاد، کاسمیٹکس سمیت دیگر کئی شعبوں کی بنیادی ضرورت ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈی پی ایل کی غلط تشریح کے باعث کیمیکل کی درآمد تقریباً بند ہو چکی ،انڈینٹرز نے بیرونی سپلائرز کے تحفظ کے لیے نئے آرڈرز دینا بند کر دیے جبکہ پی سی ڈی ایم اے کے ممبرز درآمدکنندگان نے بھی درآمدات معطل کر دی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ موجودہ عبوری چھوٹ 24 اگست 2025 کوختم ہونے کے بعد کسٹمز کلیئرنس نہیں ملے گی۔چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ اگر یہ مسئلہ فوری طور پر حل نہ ہوا تو پاکستان کی صنعتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہو سکتی ہیں۔سلیم ولی محمد نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ نان پٹرولیم اورنان ہائیڈروکاربن صنعتی کیمیکلز کو ڈی پی ایل قوانین سے مستثنٰی قرار دیا جائے اور موجودہ عبوری استثنیٰ کی مدت میں توسیع کی جائے تاکہ معاملے کا باضابطہ حل نکالاجا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں