چاندی ، تانبے کی قیمتیں بڑھنے سے سولر پینلز مہنگے ہونے کا خدشہ

چاندی ، تانبے کی قیمتیں بڑھنے سے سولر پینلز مہنگے ہونے کا خدشہ

کراچی(رپورٹ :حمزہ گیلانی) چینی حکومت کی جانب سے سولر پینلز بنانے والی کمپنیوں کے لیے درآمدی و پیداواری رعایتیں ختم کیے جانے اور۔۔۔

 عالمی منڈی میں چاندی اور تانبے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد پاکستان میں سولر توانائی کے صارفین کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے ۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ یکم اپریل کے بعد چائنا سے درآمد ہونے والے سولر پینلز مزید 5 سے 6 فیصد مہنگے ہو جائیں گے جس کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر پڑے گا ۔پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین محمد حسنات نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سولر پینلز کی تیاری میں استعمال ہونے والی چاندی اور تانبے کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، جس کے باعث سولرز کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے ، ان کے مطابق کم از کم 585 واٹ کے ایک سولر پینل میں اوسطاً 9گرام چاندی استعمال ہوتی ہے جبکہ چاندی کی قیمتوں میں اضافے نے مینوفیکچرنگ لاگت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے ۔محمد حسنات کا کہنا تھا کہ چائنا میں سولر پینل کی فی واٹ قیمت 6 سے 7 سینٹس سے بڑھ کر 11 سینٹس تک پہنچ چکی ہے جس کا اثر عالمی سطح پر تمام درآمدی ممالک پر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یکم اپریل سے چینی حکومت سولر کمپنیوں کو دی جانے والی رعایتیں مکمل طور پر ختم کر رہی ہے ، جسکے بعد پاکستان میں درآمدی سولرز مزید مہنگے ہو جائیں گے ۔ادھر الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین سلیم میمن کے مطابق پاکستان میں سولر پینل کی فی واٹ قیمت 27 روپے سے بڑھ کر 34 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ اگر مہنگے داموں سولر پینلز درآمد کیے گئے تو فی واٹ قیمت 40 روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں