سندھ میں کیلے کے باغات پر پاناما مرض کا شدیدحملہ

سندھ میں کیلے کے باغات پر پاناما مرض کا شدیدحملہ

پنگریو (نامہ نگار)سندھ کے مختلف اضلاع میں کیلے کے باغات ایک خطرناک اور تباہ کن بیماری پاناما کی لپیٹ میں آ گئے جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ پر پھیلی کیلے کی فصل شدید متاثر ہو چکی ہے ،

اس مرض کے باعث کیلے کے پودے اور پھل بتدریج سوکھ رہے ہیں جس سے کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے ۔ اس ضمن میں ضلع بدین، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، ٹنڈو آدم اور شہدادپور سمیت سندھ کے کئی زرعی علاقوں میں کیلے کے باغات میں پاناما مرض تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق پاناما مرض مٹی میں موجود ایک نہایت خطرناک فنگس کے باعث پیدا ہوتا ہے ، جو جڑوں کے ذریعے پودے میں داخل ہو کر اس کے اندرونی نظام کو مفلوج کر دیتا ہے ۔ یہ مرض ایک بار زمین میں پھیل جانے کے بعد طویل عرصے تک مٹی میں موجود رہتا ہے ، ماہرین اس مرض کو زرعی شعبے میں کینسر جیسی بیماری قرار دیتے ہیں۔زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے سینئر پروفیسر اور اس مرض پر طویل عرصے سے تحقیق کرنے والے ماہر محمد اسماعیل کنبھر نے خبردار کیا کہ اگر سندھ میں اس بیماری کو بروقت سائنسی بنیادوں پر کنٹرول نہ کیا گیا تو پاکستان بھی عالمی منڈی میں کیلے کی برآمد کے قابل نہیں رہے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں