بلند توانائی قیمت، غیر یقینی فراہمی صنعتی بحران کا سبب، جاوید بلوانی
ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے بجلی، گیس، پانی لازم، قیمتیں بنگلہ دیش، ویتنام سے بھی زیادہ مسائل حل نہ ہونے سے کئی فیکٹریاں بند، لوگ بیروزگار ہورہے ، چیئرمین اپیرل فورم
کراچی(کامرس رپورٹر)چیئرمین پاکستان اپیرل فورم محمد جاوید بلوانی نے کہا کہ پاکستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر ملکی جی ڈی پی اور روزگار میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، لیکن اس وقت بنیادی ساختی مسائل، حکومتی پالیسیوں اور عالمی چیلنجز کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ توانائی کی تاریخ کی بلند ترین قیمت اور اسکی غیر یقینی فراہمی ہے ویلیو ایڈڈ اپیرل اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کا انحصار بجلی، گیس اور پانی پر ہے ،مگر پاکستان میں انکی قیمتیں بنگلہ دیش، ویتنام اور دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں بار بار بجلی کی بندش اور گیس کی قلت پیداوار کو متاثر کرتی ہے ، جس سے لاگت بڑھتی ہے ، اس صورتحال کے باعث پیداوار میں کمی، ملازمتوں کا خاتمہ اور کئی فیکٹریوں کی جزوی یا مکمل بندش دیکھنے میں آئی ہے ۔مزید برآں، بلند شرح سود نے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے سستی فنانسنگ تک رسائی محدود کر دی ہے دوسری جانب نئے کاروباری افراد ایکسپورٹ سیکٹر میں داخل نہیں ہو رہے جبکہ ایکسپورٹرز کی تنظیموں کی رکنیت بھی کم ہو رہی ہے ، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کاروبار بند ہو رہے ہیں یا غیر برآمدی شعبوں میں منتقل ہو رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ روپے اور ڈالر کی غیر مستحکم شرح تبادلہ بھی قیمتوں، معاہدوں اور درآمدی لاگت میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے ۔ دوسری جانب لاجسٹکس اور انفرا اسٹرکچر کے مسائل جیسے بندرگاہوں پر رش، اندرون ملک ٹرانسپورٹ کے زیادہ اخراجات اور کسٹمز کے پیچیدہ طریقہ کار بھی برآمدات کو متاثر کرتے ہیں۔