مرکزی بینک کی پالیسی سمت پرغیر یقینی صورتحال برقرار، سروے
شرح سود میں ممکنہ اضافے پرتاجروں کوتشویش، 53فیصد شرکا کو اضافے کاخدشہ 50سے 100بیسز پوائنٹس کے درمیان اضافہ ہوسکتا، 41.2فیصد کی رائے
کراچی(محمد حمزہ گیلانی)ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد کاروباری برادری کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے ، جبکہ آئندہ مانیٹری پالیسی سے قبل شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ مالیاتی اداروں اور بزنس کمیونٹی کی جانب سے سامنے آنے والے سروے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مرکزی بینک کی پالیسی سمت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے سروے رپورٹ کے مطابق 53 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں اضافہ کرے گا، جبکہ 41.2 فیصد نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ اضافہ 50 سے 100 بیسز پوائنٹس کے درمیان ہوسکتا ہے اسکے علاوہ مزید 2 فیصد شرکاء نے اس سے بھی زیادہ، یعنی ایک فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے ، جو افراط زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا عکاس ہے دوسری جانب 43.1 فیصد شرکاء نے رائے دی ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے ، تاہم کاروباری حلقوں کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں شرح سود کو برقرار رکھنا ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔ محض 3.9 فیصد افراد نے شرح سود میں کمی کی توقع ظاہر کی، جو کہ مجموعی رجحان کے برعکس ایک محدود رائے سمجھی جا رہی ہے ۔اسٹیٹ بینک پیر کے روز نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کریگا۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کی بلند شرح اسٹیٹ بینک کو سخت فیصلے لینے پرمجبور کر سکتی ہے ، جبکہ آئندہ مانیٹری پالیسی ملکی معیشت کی سمت کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریگی۔