فروری تااپریل10ہزارسے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ
22سے زائد ممالک کے سرمایہ کاروں نے کمپنیوں کا اندراج کرایا تجارت، خدمات اور آئی ٹیکے شعبے نمایاں رہے ،ایس ای سی پی
کراچی(بزنس رپورٹر)سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)کے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ملک میں کمپنی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور ریگولیٹری کمپلائنس کے نظام میں نمایاں بہتری سامنے آئی جبکہ پراسیسنگ کو تیز اور خودکار بنانے کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ایس ای سی پی کے مطابق فروری سے اپریل 2026 کے دوران 10 ہزار 511 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 8 ہزار 693کے مقابلے میں 21فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ صرف اپریل میں 4ہزار 82کمپنیوں کی رجسٹریشن ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 22 سے زائد ممالک کے سرمایہ کاروں نے کمپنیوں کا اندراج کرایا جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کے مجموعی ادا شدہ سرمائے میں 218 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رواں سال یہ سرمایہ 88 کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے 27کروڑ 70 لاکھ روپے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کا رخ تجارت، خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات اور معدنیات کے شعبوں کی جانب رہا۔ ریگولیٹری کمپلائنس کے حوالے سے بھی پیشرفت دیکھنے میں آئی جہاں 3 ماہ کے دوران61 ہزار 960 کمپنیوں نے سالانہ ریٹرنز جمع کروائیں جو گزشتہ سال کے 38ہزار 326کے مقابلے میں 61 فیصد زیادہ ہیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق نان لسٹڈ کمپنیوں کے شیئر سرٹیفکیٹس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل شروع کر دیا گیاجس سے شیئر ہولڈنگ سے متعلق تنازعات کے خاتمے میں مدد ملے گی۔