کارسازی صنعت میں بڑے پیمانے پر پیداوار بحالی کی راہ ہموار
محصولات کی اصلاحات کے بعد مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہوا، ویلتھ پاکستان
اسلام آباد(بزنس ڈیسک)پاکستان کی کار سازی کی صنعت نئے مالی سال کے پہلے نصف میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اہم شعبوں میں شامل رہی۔ مرکزی بینک کی ششماہی رپورٹ کے مطابق محصولات کی اصلاحات کے بعد مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہوا، جبکہ ملکی درآمدی ساخت میں نمایاں تبدیلی آئی۔ قرضوں کی لاگت میں کمی، قیمتوں کا استحکام اور صارفین کی بڑھتی طلب اس بہتری کی بنیادی وجوہات رہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں سے مسلسل مندی کا شکار رہنے والی بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 4.8 فیصد بڑھ گئی۔ اس بحالی میں گاڑی سازی، ٹیکسٹائل اور تیل سے تیار ہونے والی مصنوعات کے شعبوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔مرکزی بینک کے مطابق گاڑی سازی کی صنعت کو مجموعی معاشی حالات میں بہتری اور مالیاتی سہولتوں کی لاگت میں کمی سے فائدہ پہنچا۔ اندرونی طلب میں اضافہ، گاڑیوں کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام، خصوصی رعایتی پیشکشیں اور نئی گاڑیوں کے ماڈلز، خصوصاً بڑی مسافر گاڑیوں کے نئے نمونوں کی آمد نے پیداوار اور فروخت میں اضافہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ شرح سود میں کمی سے بینکوں کے ذریعے گاڑیاں خریدنے والے صارفین کیلئے مالی بوجھ کم ہوا۔۔
مرکزی بینک نے دسمبر 2025 میں شرح سود میں مزید 0.5 فیصد کمی کی، جبکہ جون 2024 سے دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر 11.5 فیصد کمی کی جا چکی ہے ۔اسی دوران مہنگائی کی شرح میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 26-2025 کے پہلے نصف میں اوسط قومی مہنگائی 5.2 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ شرح 7.2 فیصد تھی۔مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی میں کمی اور نرم مالیاتی پالیسیوں کے باعث عوام کی خریداری کی صلاحیت اور اعتماد میں اضافہ ہوا، جس سے گاڑیوں سمیت پائیدار استعمال کی اشیا کی طلب دوبارہ بحال ہوئی۔رپورٹ کے مطابق ملک کا مجموعی صنعتی شعبہ مالی سال کے پہلے نصف میں 8.1 فیصد بڑھا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ شرح صرف 0.5 فیصد تھی۔ تعمیراتی سرگرمیوں اور نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے بھی گاڑی سازی کے شعبے کی کارکردگی کو سہارا دیا۔مرکزی بینک نے نشاندہی کی کہ مجموعی معاشی استحکام، زرِ مبادلہ کی شرح میں استحکام اور درآمدی پابندیوں میں نرمی کے باعث صنعت کاروں کے لیے خام مال اور پرزہ جات کی فراہمی کا نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ موثر ہوا۔