مال بردار ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، روئی کا کاروبار شدید متاثر
سندھ میں روئی کی قیمت18300،پنجاب میں 19ہزار روپے من رہی 60ہزار گانٹھوں کی ڈلیوری رک گئی،جنرز اور ٹیکسٹائل ملز مالکان پریشان
کراچی(این این آئی)مقامی کاٹن مارکیٹ میں مال بردار ٹرانسپورٹ کی طویل پہیہ جام ہڑتال کے باعث روئی کا کاروبار شدید متاثر ہورہا ہے جبکہ جنرز اور ٹیکسٹائل ملز کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ سندھ کے بعض علاقوں میں روئی کی محدود ڈلیوری جاری ہے تاہم ملک کے بیشتر حصوں میں مال بردار ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث سپلائی کا نظام متاثر ہے ۔ذرائع کے مطابق سندھ میں روئی کی تقریباً 60 ہزار گانٹھوں کے سودے ہوچکے ہیں لیکن مال بردار ٹرانسپورٹ کی پہیہ جام ہڑتال کے باعث ان کی ڈلیوری رکی ہوئی ہے ۔دوسری جانب ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خرم مختار نے بتایا کہ گزشتہ پانچ روز سے جاری ٹرانسپورٹ ہڑتال کے باعث بیرون ملک بھیجے جانے والے تقریباً 50 ہزار ڈالر مالیت کے سامان کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات تاحال کامیاب نہیں ہوسکے ۔ وفاقی وزیر حلیم خان نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات پیر 17 اگست کو ہوں گے ، جس کے باعث فی الحال 17 اگست تک ہڑتال جاری رہنے کا خدشہ ہے ۔کاٹن مارکیٹ ذرائع کے مطابق سندھ میں روئی کی قیمت 18 ہزار 200 سے 18 ہزار 300 روپے فی من جبکہ پھٹی کی قیمت 40 کلو کے حساب سے 7 ہزار سے 8 ہزار روپے رہی۔ پنجاب میں روئی کی قیمت 18 ہزار 500 سے 19 ہزار روپے فی من اور پھٹی کی قیمت 8 ہزار 400 سے 9 ہزار 400 روپے رہی۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے روئی کا اسپاٹ ریٹ 18 ہزار 300 روپے فی من پر برقرار رکھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments