طویل مدتی توانائی معاہدے معیشت کیلئے خطرہ، ماہرین کا انتباہ
50گیگاواٹ شمسی توانائی نصب،سالانہ 54.75 ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا کر سکتی ہمیں توانائی پالیسیوں کو نئی حقیقت سے ہم آہنگ کرنا ہوگا،ارکان پارلیمنٹ
کراچی(بزنس ڈیسک)ارکانِ پارلیمنٹ اور توانائی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طویل مدتی توانائی معاہدوں سے گریز کرے جو پاکستان کو مہنگی ٹیک اینڈ پے ذمہ داریوں میں جکڑ سکتے ہیں اور گردشی قرضے میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ شمسی توانائی تیزی سے ملک کے توانائی کے منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے ۔صرف چند برسوں کے دوران اور بڑی حد تک کسی سرکاری سبسڈی کے بغیر پاکستان میں یوٹیلیٹی اسکیل، نیٹ میٹرنگ، زرعی، آف گرڈ اوربی ہائنڈ دو میٹرنظام سمیت مختلف شعبوں میں اندازاً 50 گیگاواٹ شمسی توانائی کی صلاحیت نصب کی جا چکی ہے ۔ اندازہ ہے کہ یہ صلاحیت سالانہ تقریباً 54.75 ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا کر سکتی ہے ۔یہ گفتگو دی سن اینڈ دی پائپ لائن: پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کے دور میں توانائی کے معاہدے کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبی نار میں ہوئی۔پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت کی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ کے تناظر میں پاکستان کو اپنے توانائی کے مکس اور ریگولیٹری فریم ورک پر ازسرنو غور کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گھروں کی چھتوں اور دیگر شعبوں میں اندازاً 50 گیگاواٹ شمسی توانائی نصب ہو چکی ہے۔
ہماری توانائی پالیسیوں کو اس نئی حقیقت کی عکاسی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ عوام کو بالآخر وہ سستی توانائی میسر آئے جس سے وہ طویل عرصے سے محروم ہیں، کیونکہ طویل مدتی ٹیک اینڈ پے معاہدوں نے ہمیں انتہائی مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبا دیا ہے ۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت کے سیکریٹری بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ ہمیں یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان سورج کا انتخاب کرتا ہے یا پائپ لائن کا۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ سورج، پائپ لائن، گرڈ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کس طرح مل کر پاکستان کو سستی، قابلِ اعتماد اور محفوظ توانائی فراہم کر سکتی ہیں ۔ اوگرا کے سابق ممبر گیس اور پٹرولیم قوانین، پالیسی و ریگولیٹری امور کے مشیر محمد عارف نے توانائی کے انتظامی نظام کو مربوط بنانے اور اضافی شمسی بجلی سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے انرجی ایڈوائزر عاصم ریاض نے کہا کہ پاکستان کا ایل این جی چیلنج اب محض رسد کے حصول تک محدود نہیں رہا۔
توانائی کے صحافی اور انرجی فلوکس کے بانی سیب کینیڈی نے کہا کہ پاکستان میں صارفین کی قیادت میں توانائی کی منتقلی ریاست کے منصوبہ بندی کے نظام کی استعدادِ کار سے کہیں زیادہ تیزی سے جاری ہے ۔ حما چغتائی نے پالیسی سازی میں زیادہ تسلسل اور وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بالخصوص توانائی کی رسد، طلب اور پاکستان کے اقتصادی و توانائی کے شعبوں کو درپیش وسیع تر چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے ۔مبین عارف جٹ نے عام شہریوں پر بجلی کے بلند نرخوں کے بوجھ کی نشاندہی کرتے ہوئے بجلی کے شعبے میں بامعنی ساختی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔وزیرِ توانائی کے مشیر اور توانائی کے ماہر سید فیضان شاہ نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح محض بجلی پیدا کرنے کی مزید صلاحیت میں اضافہ کرنا نہیں ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ ایک ایسے توانائی کے نظام کی تعمیر پر ہے جو بیرونی قیمتوں کے جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور لچکدار ہو اور پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے تمام مراحل میں زیادہ مؤثر ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments