قوانین پر عملدرآمد میں امتیازی روئیے ، شہریوں میں تشویش
اکثر ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی پر مختلف افراد سے مختلف رویہ اختیار کیا جاتا امتیازی طرزِ عمل کے باعث قانون کی غیر جانبداری پر سوالات جنم لے رہے
جھنگ(رائے منظور عابد سے )ضلع بھر میں مختلف قوانین پر عملدرآمد کے دوران مبینہ طور پر پسند و ناپسند اور امتیازی رویوں کی شکایات میں اضافہ ہونے لگا، جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔عوام کا کہنا ہے کہ چاہے لاک ڈاؤن پابندیوں پر عملدرآمد کا معاملہ ہو، ٹریفک چالانوں کا ایشو ہو یا تجاوزات، منی پٹرول پمپس اور گاڑیوں میں ایل پی جی سلنڈرز کے خلاف کارروائیاں، اکثر ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی پر مختلف افراد کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے ۔شہریوں کے مطابق بعض افراد کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ اسی نوعیت کی خلاف ورزی کرنے والے دیگر افراد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس امتیازی طرزِ عمل کے باعث قانون کی غیر جانبداری پر سوالات جنم لے رہے ہیں اور بعض اوقات یہی صورتحال ناخوشگوار واقعات اور تلخ تنازعات کو بھی جنم دیتی ہے ۔سماجی شخصیات اور شہری نمائندوں کا کہنا ہے کہ قانون کی اصل خوبصورتی اس کی برابری، شفافیت اور انصاف میں ہے ۔ اگر ایک جیسے معاملات میں مختلف معیار اپنایا جائے تو نہ صرف عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ متعلقہ اداروں خصوصاً محکمہ پولیس کی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔