مزدور کو ماہانہ اجرت 60 ہزار دی جائے :ورکرز کنفیڈریشن

 مزدور کو ماہانہ اجرت 60 ہزار دی جائے :ورکرز کنفیڈریشن

بجٹ میں سوشل سکیورٹی ودیگر سہولیات کیلئے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں

 ٹو بہ ٹیک سنگھ (ڈسٹرکٹ رپورٹر )پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے ضلعی صدر غلام مصطفیٰ پارس نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 60 ہزار روپے مقرر کی جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں محنت کش طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، ادویات اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات میں مسلسل اضافے نے مزدور طبقے کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے ، موجودہ اجرت متوسط گھرانے کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کیلئے ناکافی ہے ، لاکھوں محنت کش معاشی دباؤ کا شکار ہیں، ملک کی صنعتی، زرعی اور تعمیری ترقی میں مزدور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، انکی فلاح و بہبود اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ، بجٹ میں مزدوروں کیلئے سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی، ہیلتھ انشورنس، ہاؤسنگ سکیموں اور دیگر فلاحی سہولیات کیلئے بھی خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بجٹ سازی کے عمل میں مزدور تنظیموں کی تجاویز کو شامل کرے گی ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت 60 ہزار مقرر کرنے کیساتھ ساتھ اس پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنیوالے اداروں اور مالکان کیخلاف مؤثر کارروائی کی جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں