ستھرا پنجاب پروگرام کے سینٹری ورکرزملازمت چھوڑنے لگے

 ستھرا پنجاب پروگرام کے سینٹری ورکرزملازمت چھوڑنے لگے

ستھرا پنجاب پروگرام کے سینٹری ورکرزملازمت چھوڑنے لگےحافظ آباد کی یوسیز میں صفائی عملے کی تعداد تقریباً 50فیصد تک کم ہو گئی

حافظ آباد (نامہ نگار، نمائندہ دنیا) ستھرا پنجاب پروگرام کی مینجمنٹ کی جانب سے بروقت تنخواہیں، الاؤنسز اور حفاظتی سامان فراہم نہ کیے جانے کے باعث بڑی تعداد میں سینٹری ورکرز ملازمت چھوڑنے لگے ، جس سے شہر کی یونین کونسلوں میں صفائی کرنے والے عملے کی تعداد تقریباً 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ستھرا پنجاب پروگرام کے آغاز پر ہر یونین کونسل میں ایک سپروائزر کے ماتحت 30 سے 35 سینٹری ورکرز کام کر رہے تھے ، تاہم اب ہر یونین کونسل میں ان کی تعداد کم ہو کر 17 سے 18 رہ گئی ہے ۔ بیشتر ورکرز بروقت تنخواہیں، الاؤنسز اور حفاظتی سامان نہ ملنے پر ایجنسی چھوڑ چکے ہیں، جبکہ کام کرنے والے ملازمین بھی ادائیگیوں میں تاخیر پر پریشان ہیں۔متاثرہ سینٹری ورکرز نے میڈیا کو بتایا کہ عید کے دنوں میں دن رات کام کرنے کے باوجود انہیں 10 ہزار روپے عید الاؤنس تاحال ادا نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق تنخواہیں ہر ماہ کی 4 یا 5 تاریخ تک ملنی چاہئیں، مگر انہیں 10 یا 12 تاریخ کو بھی مکمل تنخواہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دستانے ، ماسک اور دیگر حفاظتی سامان بھی فراہم نہیں کیا جاتا، جس کے باعث متعدد ورکرز بیمار ہو چکے ہیں، جبکہ انہیں تاحال سوشل سکیورٹی کارڈ بھی جاری نہیں کیے گئے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں