علی پورچٹھہ :ریلوے پھاٹک پر گھنٹوں ٹریفک جام معمول
بائی پاس 20 سال بعد بھی شہریوں کے کام نہ آ سکا،ایمبولینسیں طویل انتظار پر مجبور
علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر )ریلوے پھاٹک پر گھنٹوں ٹریفک جام معمول، بائی پاس 20 سال بعد بھی شہریوں کے کام نہ آ سکا، زیر تعمیر پلی کا کام کئی ماہ سے جاری،ایمبولینسیں طویل انتظار پر مجبور، شہری سراپا احتجاج بن گئے ۔ ریلوے پھاٹک پر پلی کی تعمیر کا کام تقریباً 3 ماہ سے جاری ہے تعمیراتی معیار کے حوالے سے پلی کا ایک تعمیر حصہ ٹریفک کا دباؤ برداشت نہ کرسکا اور زمین بوس ہو گیا جس کے بعد دوبارہ تعمیر کا عمل شروع کیا گیا۔ تعمیراتی کام اور محدود راستے کے باعث ریلوے پھاٹک پر ٹریفک کا دباؤ معمول بن چکا ہے اور روزانہ گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔ دوسری جانب شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے تقریباً دو دہائیاں قبل تعمیر کیا گیا بائی پاس روڈ بھی تاحال شہریوں کو متبادل سفری سہولت فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے ۔ شہریوں کے مطابق بائی پاس ابتدائی برسوں میں ریلوے کراسنگ کی عدم دستیابی کے باعث مؤثر طور پر فعال نہ ہو سکا جبکہ اب سڑک کی خستہ حالی اور متعدد مقامات پر خراب حالت کے باعث اس سے بھرپور استفادہ ممکن نہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بائی پاس اگر قابل استعمال حالت میں ہو تو ریلوے پھاٹک پر ٹریفک کا بڑا دباؤ کم کیا جا سکتا ہے مگر طویل عرصے سے اس مسئلے پر عملی پیش رفت کے بجائے اعلانات تک معاملہ محدود رہتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments