دودھ کی بو سونگھ کر ملاوٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں، ہائیکورٹ
بھینس کا دودھ استعمال کرنے سے واضح فرق محسوس ہوتا ہے ،جسٹس سلیم جیسردکانوں سے دودھ خرید کر استعمال کرنے سے گلہ خراب ہو جاتا ہے ،ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میں دودھ کی قیمتوں میں ریٹیلرز کے منافع میں اضافے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کرلی جبکہ عدالت نے درخواست کی سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کمشنر کراچی کو دودھ کی قیمتوں کے تعین کا اختیار حاصل ہے تاہم صفائی ستھرائی کے انتظامات کو جواز بنا کر دکانیں سیل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ جب تک جواب جمع نہیں کرایا جاتا دکانداروں کے خلاف کارروائی اور دکانیں سیل کرنے سے روکا جائے۔
جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ نے کبھی دکان سے دودھ خرید کر استعمال کیا ہے ؟ عدالت نے مزید کہا کہ دکانوں سے دودھ خرید کر استعمال کرنے سے گلہ خراب ہو جاتا ہے جبکہ بھینس کا دودھ استعمال کرنے سے واضح فرق محسوس ہوتا ہے ۔ نثار بھنبھرو نے مزید ریمارکس دیے کہ کراچی میں دستیاب دودھ میں پہلے ہی ملاوٹ ہوتی ہے ۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومت درست نرخ مقرر نہیں کرے گی تو دکاندار مجبورا ملاوٹ کریں گے ، جبکہ دودھ کو ابالنے سے ملاوٹ کا پتہ چل جاتا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دودھ ہمارے سامنے لے آئیں، ہم بو سونگھ کر ملاوٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں، عدالت نے مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔