درخواست گزار کو متوفی کوٹہ پر ملازمت دینے کاحکم

درخواست گزار کو متوفی کوٹہ پر ملازمت دینے کاحکم

متوفی والد کی بنیاد پر ملازمت کا حق حاصل ہو گیا تھا،سندھ ہائیکورٹ حاصل شدہ حق کو بعد میں ختم نہیں کیا جا سکتا،دورکنی بینچ کا فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے متوفی کوٹہ کے تحت ملازمت نہ دینے کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کو درخواست گزار کو 15 دن میں تقرری دینے کا حکم دے دیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل بینچ نے محمد عمیر کی آئینی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو متوفی والد کی بنیاد پر ملازمت کا حق حاصل ہو چکا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کے والد محکمہ تعلیم میں ورکشاپ اٹینڈنٹ تھے جو دورانِ ملازمت 21 مارچ 2020 کو انتقال کر گئے ، جس کے بعد درخواست گزار نے متوفی کوٹہ کے تحت جونیئر کلرک کی نوکری کے لیے درخواست دی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈپارٹمنٹل ریکروٹمنٹ کمیٹی نے 27 ستمبر 2024 کو درخواست گزار کی تقرری کی منظوری دی اور 14 اکتوبر 2024 کو آفر لیٹر بھی جاری کیا گیا، تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر تقرریاں واپس لے لی گئیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایسی تقرری ممکن نہیں، لہٰذا درخواست مسترد کی جائے ۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار کے والد کی وفات کے ساتھ ہی ملازمت کا حق پیدا ہو گیا تھا، جو ایک حاصل شدہ حق ہے اور اسے بعد میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں