گل پلازہ:تحقیقات پر پراسیکیوشن کے اعتراض دور نہ کیے جا سکے
پولیس نے مقدمے کا چالان تیسری بار بھی جوڈیشل کمیشن رپورٹ کے بغیر جمع کرا دیاپراسیکیوشن نے پہلے بھی رپورٹ منسلک نہ کرنے پر دو مرتبہ چالان واپس کردئیے تھے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات پر پراسیکیوشن کے اعتراضات دور نہ کیے جا سکے ، پولیس نے مقدمے کا چالان تیسری بار بھی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بغیر جمع کرا دیا۔ قائم مقام ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر نے چالان عدالت میں پیش کر دیا، جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم چالان کی منظوری سے متعلق فیصلہ کریں گے ۔ سانحہ گل پلازہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ۔ پولیس نے پراسیکیوشن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات دور کیے بغیر تیسری مرتبہ چالان جمع کرایا، تاہم اس بار بھی چالان کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منسلک نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن نے پہلے بھی رپورٹ منسلک نہ کرنے پر دو مرتبہ چالان پولیس کو واپس کردیئے تھے ۔ چالان کے مطابق مقدمے میں گل پلازہ مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، سیکریٹری محمد امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، دکاندار نعمت اللہ اور اس کے کم عمر بیٹے حذیفہ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے ۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ کم عمر ملزم حذیفہ کے خلاف جوینائل قوانین کے تحت علیحدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ پولیس نے چالان کے ساتھ پولیس، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، متاثرین اور دیگر متعلقہ افراد سمیت 60 گواہان کی فہرست بھی جمع کرائی ہے ، جبکہ مقدمے کے چار عینی شاہدین کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی قلم بند کرائے جا چکے ہیں۔
چالان میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ کا آغاز دکان نمبر 192 سے ہوا۔ تفتیش کے مطابق دکان کا مالک نعمت اللہ اکثر اپنی دکان اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے حوالے کر کے چلا جاتا تھا۔ واقعہ کے روز حذیفہ دوسرے بچے آریان کی موجودگی میں ماچس جلا کر کھیل رہا تھا، جس سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سی ڈی آر رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے وقت نعمت اللہ موقع پر موجود نہیں تھا۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کو بھیجے گئے نمونوں میں کسی آتش گیر یا دھماکا خیز مواد کے آثار نہیں ملے ، جس سے تخریب کاری یا دھماکے کے امکان کو مسترد کر دیا گیا۔ تحقیقات کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداروں نے بروقت کسی ایمرجنسی ہیلپ لائن پر اطلاع نہیں دی۔ پولیس نے یونین عہدیداروں کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کیا، تاہم کسی بھی ایمرجنسی نمبر پر کال کا ریکارڈ نہیں ملا۔ چالان کے مطابق دکاندار عبدالصمد نے آگ لگنے کی اطلاع فائر بریگیڈ کو رات 10 بج کر 26 منٹ پر دی اور اپنے بیان میں کہا کہ اس نے اپنی جانب سے کال کی کیونکہ مارکیٹ یونین کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی، جبکہ دکاندار اویس نے پولیس 15 کو رات 10 بج کر 30 منٹ پر اطلاع دی۔ چالان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بروقت اطلاع نہ ملنے کے باعث امدادی کارروائی میں تاخیر ہوئی، جس کے نتیجے میں 72 افراد جاں بحق، 8 افراد زخمی ہوئے جبکہ 1153 دکانیں سامان سمیت جل کر تباہ ہو گئیں۔
ریسکیو 1122 اہلکاروں اور ایدھی کے رضاکاروں کے بیانات کے مطابق گل پلازہ کے راستوں پر نصب گرِل گیٹس پر تالے لگے ہوئے تھے ، جس کے باعث امدادی کارروائی شدید متاثر ہوئی اور متعدد افراد عمارت سے بروقت باہر نہ نکل سکے ۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا اور ریسکیو اداروں کو امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چالان کے مطابق مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو کال کر کے بجلی بند کرائی، تاہم بجلی بندش کے بعد متبادل روشنی اور لوگوں کے محفوظ انخلا کے لیے کسی رہنمائی کا انتظام نہیں کیا گیا، جس کے باعث متعدد افراد بروقت باہر نہ نکل سکے ۔پولیس نے چالان میں مزید کہا ہے کہ گل پلازہ میں اس سے قبل بھی دو مرتبہ آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے تھے ، لیکن اس کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے ۔ سول ڈیفنس افسر کے بیان کے مطابق مارکیٹ انتظامیہ کے پاس فائر سیفٹی کی تربیت موجود نہیں تھی، مارکیٹ میں فائر ہائیڈرنٹ نصب نہیں تھا اور سول ڈیفنس کی ہدایات کے باوجود فائر سیفٹی سیشن بھی منعقد نہیں کیے گئے ۔
چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارکیٹ یونین کی جانب سے کم عمر بچے کو دکان پر بٹھانے سے نہ روکنا بھی انتظامی غفلت کے زمرے میں آتا ہے ۔ پولیس نے ملزموںے خلاف قتل بالسبب، غفلت کے باعث نقصان پہنچانے ، آتشزدگی سے نقصان اور املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے ۔ سٹرکٹ پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر کے مطابق پراسیکیوشن کے اعتراضات دو بار دور نہ کرنے پر پولیس چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے ، عدالت پولیس چالان کی منظوری سے متعلق فیصلہ کرے گی۔