سٹی کورٹ کے اطراف تجاوزات ختم کرنے کا حکم
غیر قانونی ٹھیلوں اور پتھاروں کے باعث شہریوں، وکلا، سائلین اور ججز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،عدالت کی متعلقہ اداروں کو سات روز کی مہلتلائٹ ہاؤس پر منہدم کی گئی دکانوں کے متاثرین کو دیے گئے متبادل پلاٹ کی حیثیت کا تین ہفتوں میں تعین کیا جائے ،سندھ ہائیکورٹ، رپورٹ طلب
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے لائٹ ہاؤس پر منہدم کی گئی دکانوں کے متاثرین کو دیے گئے متبادل پلاٹ کی حیثیت کا تین ہفتوں میں تعین کرنے کا حکم دیتے ہوئے میونسپل کمشنر کراچی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں لائٹ ہاؤس پر منہدم کی گئی دکانوں کے متاثرین کو متبادل پلاٹ دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزاروں کی وکیل عذرا حمیدی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے متاثرہ دکانداروں کو لی مارکیٹ میں متبادل پلاٹ الاٹ کیا تھا، تاہم ٹرانسپورٹرز اس جگہ کو بس اڈہ قرار دے رہے ہیں۔
وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے سابق میونسپل کمشنر افضل زیدی کو ہدایت دی تھی کہ وہ تمام فریقین کا موقف سن کر فیصلہ کریں کہ متبادل پلاٹ رفاہی مقاصد کے لیے مختص ہے یا کمرشل استعمال کے لیے ، مگر دکانداروں کی جانب سے متعدد بار رابطے کے باوجود میونسپل کمشنر اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں ناکام رہے ۔ انہوں نے استدعا کی کہ میونسپل کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہوئے متبادل جگہ متاثرین کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے ۔ سماعت کے دوران کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس عدالتی فیصلے اور درخواست کی نقل موجود نہیں۔
اس پر جسٹس عدنان الکریم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کا کیا کیا جاسکتا ہے ، یہاں فیصلہ بھی ہوچکا ہے اور آپ ابھی تک اس کی کاپی تلاش کر رہے ہیں۔ عدالت نے میونسپل کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ تین ہفتوں کے اندر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے متبادل پلاٹ کی قانونی حیثیت کا تعین کریں اور اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے سٹی کورٹ کے اطراف تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے متعلق براہ راست شکایت پر متعلقہ اداروں کو سات روز میں تجاوزات ختم کرکے سڑکیں عوامی استعمال کے لیے بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے متعلقہ اداروں کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ بادی النظر میں عوام کو درپیش مشکلات واضح طور پر سامنے آتی ہیں، جن کے فوری تدارک کی ضرورت ہے ۔ عدالت نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن صدر، اسسٹنٹ کمشنر آرام باغ اور ایس ایس پی ٹریفک کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں فوری کارروائی کرتے ہوئے تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے حکم دیا کہ متاثرہ سڑکوں کو عوامی استعمال کے لیے بحال کیا جائے اور تمام متعلقہ افسران سات روز کے اندر کارروائی مکمل کرکے عملدرآمد رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments