ایم9موٹر وے ، عدالت نے ملکیت، الاٹمنٹ، میوٹیشن تنازع نمٹادیا
ہائیکورٹ کامعاملہ سندھ حکومت کی مجاز اتھارٹی کوازسرنو جائزے کے لئے بھیجنے کا حکماین ایچ اے رائٹ وے الاٹمنٹ، میوٹیشن سے متعلق تمام دستاویز بھجوائے ، عدالت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے ایم 9 موٹروے کی رائٹ آف وے کی ملکیت، الاٹمنٹ اور میوٹیشن کے تنازع سے متعلق دوآئینی درخواستیں نمٹاتے ہوئے معاملہ حکومت سندھ کی مجاز اتھارٹی کو ازسرنو جائزے کیلئے بھیج دیا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس محمد جعفر رضا پرمشتمل بینچ نے حکم دیاکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی باقاعدہ ریفرنس حکومت سندھ کوبھجوائے جس میں ایم 9 موٹروے کی مخصوص رائٹ آف وے کی الاٹمنٹ اوراین ایچ اے کے حق میں میوٹیشن سے متعلق تمام دستاویزات شامل ہوں۔ عدالت نے مجاز اتھارٹی کوہدایت کی کہ این ایچ اے کے قانونی اختیار، سابقہ منظوری و میوٹیشن، 2018 کی ترمیم، کنسیشن ایگریمنٹ، زمین کی ادائیگیوں، درخواست گزاروں کے اعتراضات و تجاویز، مداخلت کار کی جانب سے کوریڈور، سروس روڈ اور راستے سے متعلق دعوؤں سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ، نقشوں، منظوریوں، قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لیکر تمام متعلقہ فریقین کو مناسب سماعت کا موقع دیا جائے اور ہر اہم نکتے پر وجوہات پر مبنی تحریری حکم جاری کیا جائے ۔ عدالت نے یہ عمل این ایچ اے کے باقاعدہ ریفرنس اورضروری ریکارڈ موصول ہونے کے بعد ترجیحاً 45 روز میں مکمل کرنیکی ہدایت کی۔ حکومت سندھ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ زمین صوبائی ملکیت ہے اور این ایچ اے نے زمین حاصل کی نہ اس کی قیمت ادا کی، جبکہ صوبائی اسمبلی کی جانب سے 2018 کی ترمیم بھی اپنے قانونی اختیار کے تحت کی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments