یلولائن منصوبہ : تحقیقات مکمل نہ ہونے پر عدالت برہم ، چیئرمین اینٹی کرپشن کو شوکازنوٹس
مسلسل اور غیر واضح تاخیر بادی النظر میں سنگین غفلت،کہیں تفتیش میں دانستہ تاخیر کرکے ملزمان کو غیر ضروری فائدہ یااستغاثہ کے مقدمے کو نقصان تو نہیں پہنچایا جارہا،ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے سے متعلق مقدمے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مقدمہ درج ہونے کے باوجود تفتیش مکمل نہ کرنے اور چالان پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین نیب سے معاملہ کی مزید تحقیقات کیلئے رجوع کرنے سے متعلق متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرلی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈسٹرکٹ ساؤتھ نے سندھ اینکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن رولز 1993 کے تحت انکوائری مکمل کرکے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں اے سی سی ون سے منظوری کے بعد 29 مئی 2026 کو تھانہ اینٹی کرپشن کراچی ساؤتھ میں مقدمہ درج کیا، تاہم کافی وقت گزرنے کے باوجود تفتیش مکمل کرکے چالان متعلقہ عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی ادارے کی جانب سے چالان جمع نہ کرانے کی مسلسل اور غیر واضح تاخیر بادی النظر میں سنگین غفلت کو ظاہر کرتی ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں تفتیش میں دانستہ تاخیر کرکے ملزمان کو غیر ضروری فائدہ تو نہیں دیا جارہا یا استغاثہ کے مقدمے کو نقصان تو نہیں پہنچایا جارہا۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو شوکاز جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی۔عدالت نے چیئرمین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے طرز عمل پر بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، کابینہ سیکریٹریٹ اسلام آباد کے ذریعے شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا کہ غفلت پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے ۔ سماعت 7 اکتوبرتک ملتوی کردی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments