7بڑی ڈرینوں کے کنارے برسوں سے غیرقانونی نرسریاں قائم
خزانے کو کروڑوں کا نقصان ،کرایہ وصولی کیلئے حکمت عملی مرتب کر لی گئی : انتظامیہ
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں سرکاری زمین پر غیر مجاز کاروباری سرگرمیوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے ۔واسا کی سینکڑوں ایکڑ اراضی برسوں سے بغیر لیز اور ادائیگی کے استعمال ہو رہی ہے ۔گورننگ باڈی کے فیصلوں کے باوجود کرایہ وصولی کا عمل شروع نہ ہو سکا۔سرکاری خزانے کو ہونے والے کروڑوں کے نقصان کا ذمہ دار کون، تعین نہ ہو سکا، ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں سرکاری اراضی کے استعمال سے متعلق ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے جہاں واسا کی ملکیتی سینکڑوں ایکڑ زمین پر کمرشل نرسریاں قائم ہیں، تاہم ان کے ساتھ نہ کوئی باقاعدہ لیز معاہدہ موجود ہے اور نہ ہی کرایہ کی ادائیگی کا کوئی مؤثر نظام رائج کیا جا سکا ہے ۔یہ نرسریاں لاہور کی سات بڑی ڈرینوں سے ملحقہ اراضی پر سرگرم ہیں۔ گلبرگ ڈرین، کینٹ ڈرین اور ہڈیارہ ڈرین کے اطراف بھی اسی نوعیت کی کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان ڈرینوں کے ساتھ واقع زمین اب تک دیگر محکموں کے نام درج ہے ، جس کے باعث ملکیت اور وصولی کا معاملہ پیچیدہ بنا ہوا ہے ۔ایل ڈی اے گورننگ باڈی متعدد بار ان نرسریوں سے کرایہ وصول کرنے کی ہدایت جاری کر چکی ہے ۔ دوسری جانب واسا انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کرایہ وصولی کے لیے حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے اور کمیٹی زمین کی منتقلی کا عمل مکمل کر کے باقاعدہ ریکوری کا آغاز کرے گی۔