بابا گرو نانک کی یاد میں مذہبی رسومات کا انعقاد

بابا گرو نانک کی یاد میں مذہبی رسومات کا انعقاد

گوردوارہ باؤلی صاحب اور فتح بھنڈر کی بحالی کا کام جلد شروع، رمیش سنگھ

لاہور (خبر نگار )گوردوارہ بابے دی بیری سیالکوٹ میں سکھوں کے روحانی رہنما بابا گرو نانک کی آمد کی یاد میں تین روزہ مذہبی رسومات کا انعقاد کیا گیا، صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ اور سردار جسکرن سنگھ نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر رمیش سنگھ اروڑہ نے خطاب میں کہا پاکستان میں ہمیشہ امن، محبت اور رواداری کا پیغام دیا جاتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز اقلیتوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہیں ، حکومت اقلیتوں کو مکمل سہولیات فراہم کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا مقدس مقامات کو قبضہ گروپوں سے واگزار کرانے پر ہم حکومت کے شکر گزار ہیں جبکہ گوردوارہ باؤلی صاحب سیالکوٹ اور گوردوارہ فتح بھنڈر، ڈسکہ کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے بتایا 5 اپریل کو ایسٹر اور 14 اپریل کو بیساکھی منائی جائیگی، پاکستان میں اقلیتیں حکومتی تعاون سے اپنے مذہبی تہوار مکمل آزادی سے مناتی ہیں ۔سردار جسکرن سنگھ نے اس موقع پر بتایا کہ بابا گرو نانک 1517ء میں گوردوارہ بابے دی بیری پر آئے تھے ، انکی آمد کی یاد میں ہر سال 21، 22 اور 23 مارچ کو یہ تہوار منایا جاتا ہے ۔ ان دنوں میں دنیا بھر سے یاتری یہاں آکر مذہبی رسومات میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے یومِ بھگت سنگھ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھگت سنگھ کی قربانی برصغیر کی تاریخ کا سنہرا باب ہے ، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سکھ کمیونٹی کو بھگت سنگھ کی جرات، بہادری اور قربانی پر فخر ہے ۔نوجوان نسل کو بھگت سنگھ کی جدوجہد، حوصلے اور قربانی سے سیکھنا چاہیے ۔ ا نکی قربانی ہمیں سچ، انصاف اور حق کیلئے کھڑے ہونے کا درس دیتی ہے ۔ 23 مارچ 1931 کی یہ قربانی رہتی دنیا تک آزادی اور حریت کی علامت کے طور پر زندہ رہے گی۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں