سپلائی نہ آنے کی آڑ میں:عید پر سبزیاں،پھل مہنگے داموں فروخت

سپلائی نہ آنے کی آڑ میں:عید پر سبزیاں،پھل مہنگے داموں فروخت

انتظامیہ غائب،منافع خوری عروج پر رہی ،سبز منڈیوں، بازاروں میں منہ مانگے دام وصول ،پیاز، ٹماٹر، لہسن، ادرک ،سبز مرچ کے نرخ کنٹرول نہ ہوسکے

لاہور( کامرس رپورٹر)صوبائی دارالحکومت میں عید الفطر پر سپلائی نہ آنے کی آڑ میں سبزیاں اور پھل مہنگے داموں فروخت کئے گئے ۔ مارکیت کمیٹی نے عید الفطر کی تعطیلات پر21مارچ کو سرکاری نرخنامہ جاری کیا تاہم اوپن مارکیٹوں میں دکاندار کسی سرکاری حکم کو خاطر میں لائے گئے بغیر عوام کا استحصال کرتے رہے ۔ عید کے تینوں دن منافع خوری عروج پر رہی ،شہر کی سبز منڈیوں میں خودساختہ نرخ جبکہ پرچون بازاروں میں منہ مانگے دام چلتے رہے ۔ پیاز، ٹماٹر، لہسن، ادرک اور سبز مرچ کے دام تاحال کنٹرول نہ ہوسکے ۔ اوپن مارکیٹ کیساتھ سبز منڈیوں میں بھی ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ برائلر گوشت صافی گوشت کے نام پر650 روپے تک فروخت ہو رہا ہے ۔ ریٹ لسٹ میں پیاز درجہ اول60 روپے کلو لیکن منڈی میں معیاری پیاز 100 روپے اوپن مارکیٹ میں 120 روپے کلو تک بک رہاہے ،مکس پیاز80 روپے کلو تک فروخت ہوتارہا ۔ ٹماٹر درجہ اول ریٹ لسٹ میں 65روپے لیکن بازاروں میں150 اور منڈیوں میں 100 سے 110 روپے کلو تک بیچا جارہا ۔

لہسن چائنہ ریٹ لسٹ میں 500 روپے شہریوں کو یہی لہسن منڈیوں میں650تک جبکہ اوپن مارکیٹ میں 680 سے 700 روپے تک بیچا جارہا، ادرک 275 روپے کلو مقرر لیکن دکانوں پر 450 روپے اور منڈی میں 400 روپے کلو تک فروخت ہورہا،سبز مرچ ریٹ لسٹ میں 110 روپے کلو مقرر منڈی میں 160 روپے تک اور اوپن مارکیٹ میں180 روپے کلو تک بک رہی ہے ۔برائلر گوشت526 روپے کلو مقرر لیکن دکانوں پر صافی گوشت650 روپے کلو دیا جارہا ہے ـ ۔ آلو نیا کچا چھلکا کی قیمت 20روپے مقر ر کی گئی جبکہ دکانداروں نے 40سے 50روپے کلو تک فروخت جاری رکھی ،ادرک تھائی لینڈ 275 کی بجائے 400سے 440، بینگن 80 کی بجائے 120سے 140،بند گوبھی 50کی بجائے 80 سے 100، بھنڈی 215کی بجائے 260سے 280روپے کلو تک فروخت کی گئی۔پھل بھی سرکاری نرخنامے کے برعکس فروخت کئے گئے۔ منڈی میں آئے خریداروں کاکہناتھا کہ منڈیوں میں بھی قیمت ایک نہیں جسکا جہاں داؤ لگتا ہے لگا رہا ہے ۔ ہر عید پر یہی ہوتا ہے ، انتظامیہ کو اس پر توجہ دینا چاہئے ،من مانے دام وصول کئے جاتے ہیں۔ریٹ لسٹ کا پوچھا جائے تو سبزی فروش کہتے ہیں منڈیاں بند ہیں، کوئی ریت لسٹ نہیں۔ ـ واضح رہے کہ عید کے تین دن کیلئے انتظامیہ کنٹرولڈ ریٹ لسٹوں کا اجراکرتی ہے لیکن ان پر عملدرآمد کرانے کیلئے انتظامیہ کی کوئی خصوصی ٹیم مارکیٹوں میں موجود نہیں ہوتی جس سے شہری منافع خوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں