ترقیاتی منصوبے ٹائم لائن میں مکمل کرنے کا حکم
وہاڑی کی تین اہم سکیموں کے نظرثانی شدہ تخمینوں ،اقبال پارک، اویس پارک اور فیملی پارک کی بہتری کی منظوری،نامکمل کام کا دائرہ کار جمع کرانے پرذمہ داری کا تعین کرنیکی ہدایتنادرآباد فلائی اوور ، ملحقہ سڑک ستمبر تک ہر صورت مکمل کریں،معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے ، کمشنرعامر کریم کا اجلاس سے خطاب، سائیٹ کا دورہ، جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ
ملتان (وقائع نگار خصوصی) کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے تمام جاری ترقیاتی منصوبے مقررہ ٹائم لائن میں مکمل کرنیکا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ شفافیت اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں کی زیر صدارت ڈویژنل ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ضلع وہاڑی کی تین اہم ترقیاتی سکیموں کے نظرثانی شدہ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ مبشر الرحمن شریک ہوئے جبکہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے ۔ اجلاس میں وہاڑی کے مختلف پارکس کی بحالی اور بہتری کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ منظوری کے بعد محمدی پارک، ایچ بلاک پارک، عائشہ پارک اور قائداعظم پارک میں ترقیاتی کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح علامہ اقبال پارک، اویس پارک اور فیملی پارک وہاڑی کی بہتری کی بھی منظوری دی گئی۔کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے شہریوں کو محفوظ اور معیاری تفریحی سہولیات میسر آئیں گی اور شہر کا ماحول بہتر ہوگا۔ اجلاس کے دوران ایشین کنسلٹنٹس کی جانب سے نامکمل کام کا دائرہ کار جمع کرانے پر کمشنر نے برہمی کا اظہار کیا اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی کو ہدایت کی کہ متعلقہ کنسلٹنٹ کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کر کے ذمہ داری کا تعین کیا جائے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائی جائے ۔دریں اثناء کمشنر ملتان ڈویژن نے زیر تعمیر 200 بیڈ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا دورہ کیا اور جاری کاموں کا جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 8 ارب روپے لاگت کا یہ منصوبہ 6 ارب روپے ترقیاتی مد اور 2 ارب روپے دیگر اخراجات پر مشتمل ہے ۔ منصوبہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے تحت جاری ہے جبکہ وائس چانسلر نشتر بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ منصوبے کا آغاز 2022 میں ہوا۔ پانچ منزلہ عمارت دو تہہ خانوں اور تین منزلوں پر مشتمل ہے ۔ اب تک تقریباً 3 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، بنیادی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ ہوا کی نکاسی اور ٹھنڈک کے نظام پر کام جاری ہے ۔ رواں مالی سال میں 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے جبکہ اضافی فنڈز کے اجراء کے لیے سمری بھجوا دی گئی ہے ۔کمشنر نے کہا کہ یہ ہسپتال ماں اور بچے کو جدید طبی سہولیات فراہم کرے گا اور جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ مکمل فنڈز کی فراہمی سے ہسپتال کو اکتوبر 2026 تک فعال کیا جا سکتا ہے ۔بعد ازاں کمشنر نے نادرآباد میں زیر تعمیر فلائی اوور اور ملحقہ سڑک کا بھی دورہ کیا۔ ایکسین ہائی ویز حیدر علی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 5 ارب 30 کروڑ روپے ہے ، جن میں سے تقریباً 4 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ تین فلائی اوورز میں سے دو مکمل کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں جبکہ تیسرا فلائی اوور اور سڑک کا کام جاری ہے ۔ کمشنر نے ہدایت کی کہ نکاسی آب کے لیے ڈرین کی تعمیر جلد مکمل کی جائے اور منصوبہ مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکے ۔