ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا انکشاف

ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا انکشاف

ہنگامی صورتحال میں مریضوں لواحقین کی زندگیاں خطرے میں پڑنے کا خدشہ، نشتر ہسپتال میں 275فائر ایکسٹنگ بشر ہیں جو ہسپتال کی ضروریات کے پیش نظر ناکافی ہیں کارڈیالوجی ، نشتر ٹو ، چلڈرن ہسپتال میں بھی فائر سیفٹی آلات اور انتظامات کی کمی کا سامنا، فائر سیفٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لئے واٹر ہائیڈرنٹ کی ضرورت ،ایم ایس نشتر

ملتان (زینب گردیزی سے ) نشتر ہسپتال ملتان کے بیشر سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا انکشاف ہوا ہے ، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں اور لواحقین کی زندگیاں خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نشتر ہسپتال میں 275 فائر ایکسٹنگ بشر ہیں جو کہ پورے ہسپتال کے استعمال کے لیے ناکافی ہیں۔نشتر ہسپتال جنوبی پنجاب سمیت اندرون سندھ اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے لیے اہم طبی مرکز ہے ، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض اور لواحقین موجود رہتے ہیں۔ ایسے میں فائر سیفٹی کے انتظامات میں غفلت کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے ۔دوسری جانب ایمرجنسی ایگزٹ کے لیے مختص گیٹس بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ایمرجنسی ایگزٹ گیٹس کھولنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ، تاہم موقع پر متعدد ایگزٹ گیٹس بند ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ صرف چند گیٹس نمائشی طور پر کھولے گئے ہیں۔ ہنگامی صورتحال میں مریضوں کے فوری انخلا کے لیے تمام ایمرجنسی راستوں کا ہر وقت کھلا اور قابل استعمال ہونا ضروری ہے ۔نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالقادر خان کے مطابق فائر سیفٹی ڈرل باقاعدگی سے کرائی جاتی ہے ، تاہم فائر سیفٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے واٹر ہائیڈرنٹ کی ضرورت ہے ، جس کے لیے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو سفارشات ارسال کر دی گئی ہیں۔

نشتر ہسپتال کے علاوہ کارڈیالوجی ہسپتال، نشتر ٹو اور چلڈرن ہسپتال میں بھی فائر سیفٹی آلات اور انتظامات کی کمی کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ حساس وارڈز، آئی سی یو اور نرسری سمیت ایسے شعبوں میں فائر سیفٹی کا مؤثر نظام نہ ہونا کسی بھی حادثے کی صورت میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نشتر ہسپتال سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لیا جائے ، غیر فعال آلات فوری تبدیل کیے جائیں اور تمام ایمرجنسی ایگزٹ گیٹس کو ہر وقت کھلا اور قابل استعمال رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں اور لواحقین کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...