کمرشل رجسٹریوں میں گھپلے خزانہ کو ماہانہ کروڑوں کا نقصان
لوگ دفاتر میں کاک بال بن کر رہ گئے ،اس کے باوجود ان کے جائز کاموں کو بھی بغیر رشوت کے بروقت نمٹایا نہیں جاتا، کیسز مہینوں التواء کا شکار رکھے جاتے معمول کی رجسٹریوں کی بجائے اہل کمیشن رجسٹریوں کو ترجیح دی جاتی ،پچاس ہزار روپے الگ سے وصول کئے جاتے ،پٹواریوں کی رپورٹس حذف کر کے فیسیں بچائی جاتی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سب رجسٹرار اربن اور وثیقہ نویسوں کی مشترکہ ملی بھگت،کمرشل رجسٹریوں کے موقع جات تبدیل کر کے سرکاری فیسوں کی مد میں سرکاری خزانہ کو ماہانہ کروڑوں کا گھپلا کیا گیا،اہل کمیشن بیانات کی مد میں فی رجسٹری کم سے کم30ہزار روپے مقرر،رجسٹری محرر اور وثیقہ نویس کارخاص،بیانات کے لیے سائلین رل کر رہ گئے ،ذرائع کے مطابق تحصیل آفس سرگودھا میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے ویجی لینس رپورٹ ڈویژنل انتظایہ کو موصول ہوئی ہے ،جس میں بتایا گیا کہ تحصیلدار کے دفتر میں سائلین کو رجسٹری سے متعلقہ امور میں غیر ضروری تاخیر اور مشکلات کا سامنا ہے ، اور لوگ دفاتر میں کاک بال بن کر رہ گئے ہیں،اس کے باوجود ان کے جائز کاموں کو بھی بغیر رشوت کے بروقت نمٹایا نہیں جاتا،اور کیسز مہینوں التواء کا شکار رکھے جاتے ہیں۔
سب رجسٹرار نے وثیقہ نویس اور رجسٹری محرر کو مبینہ طور پر ٹاؤٹ مقرر کررکھا ہے جن کے ذریعے ایسے سائلین کے کام ترجیح بنیادوں پر چند گھنٹوں میں ہی مکمل کئے جاتے ہیں جو مبینہ طور پر بھاری رشوت دیتے ہیں اس حوالے سے ویڈیو ثبوت بھی رپورٹ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ دیگر سٹاف بھی رشوت وصول کرتا ہے ، اس کے برعکس وہ سائلین جو تحصیلدار مذکور کے کار خاص افراد کو رشوت نہیں دیتے ان کی رجسٹریاں روک لی جاتی ہیں، ذرائع کے مطابق معمول کی رجسٹریوں کی بجائے اہل کمیشن رجسٹریوں کو ترجیح دی جاتی ہے جس کے عوض تیس سے پچاس ہزار روپے الگ سے وصول کئے جاتے ہیں۔
یہی نہیں پٹواریوں کی رپورٹس رجسٹریوں میں سے حذف کر کے فیسیں بچائی جاتی ہیں بالخصوص ایف بی آر اور کینٹ کے چالان فارموں کی فیسوں کی مد میں کروڑ وں روپے ماہانہ سرکاری خزانے کی بجائے افسرا ن و ملازمین کی جیبوں میں جا رہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کمشنر سرگودھا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی ہے کہ فوری طور پر معاملات کا جائزہ لے کر ذمہ دارو ں کا تعین کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت ایکشن لے کر رپورٹ ارسال کی جائے ۔