مزنگ:رشتہ تنازع ،فائرنگ ،ماں ،بیٹا ،بیٹی قتل ،ملزم کی خودکشی

 مزنگ:رشتہ تنازع ،فائرنگ ،ماں ،بیٹا ،بیٹی قتل ،ملزم کی خودکشی

شاہدجٹ دروازہ توڑ کرفلیٹ میں آیا،ماں عائشہ ،مصفیرہ اور منیب دم توڑگئے ملزم نے کنپٹی پرفائرمارلیا، ثمرہ اور مناہل زخمی ،ہسپتال داخل ،مقدمہ درج

  لاہور (کرائم رپورٹر)مزنگ کے علاقے میں تہرے قتل کی واردات پیش آئی، جہاں بیٹی کا رشتہ نہ دینے کے تنازع پر ملزم نے فائرنگ کر کے خاتون اور اس کے بیٹے اور بیٹی کو قتل جبکہ دو بیٹیوں کو زخمی کر دیا اور بعد ازاں خود کی کنپٹی پر گولی مار کر خودکشی کر لی۔ پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم کیلئے منتقل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ مزنگ کی حدود میں بیگم روڈ پر مائی روپہ کے دربار کے قریب واقع فلیٹ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں خاتون سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ دو بیٹیاں شدید زخمی ہو گئیں، فائرنگ کے بعد ملزم نے خود کو بھی گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت شاہد جٹ عرف طوفان سندھو کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے پراپرٹی ڈیلر تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم فلیٹ میں داخل ہوا، دروازہ توڑا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔قتل ہونے والوں میں 45 سالہ عائشہ، 12 سالہ مصفیرہ اور 10 سالہ منیب شامل ہیں جو موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 21 سالہ ثمرہ اور 16 سالہ مناہل شدید زخمی ہوئیں، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے ،مناہل کو پیٹ ،کلائی اور ٹانگ میں فائر لگے جبکہ ثمرہ کوسینے اور کمر میں گولی لگی ۔پولیس نے مقتولہ عائشہ کے دامادمعیز خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتولہ بیوہ تھی اور اس کا تعلق ننکانہ سے تھا جبکہ ملزم اس کے گھر آتا جاتا تھا اور خاندان سے واقف تھا۔ ملزم نے ہی مذکورہ فلیٹ کرائے پر دلوانے میں کردار ادا کیا تھا،جس کے باعث دونوں کے درمیان تعلقات قریبی نوعیت اختیار کر گئے تھے ۔ کچھ عرصہ قبل ملزم نے مقتولہ کی 18 سالہ بیٹی کے ساتھ شادی کی خواہش ظاہر کی، تاہم خاتون نے اس رشتے سے انکار کر دیا۔بعد ازاں مقتولہ نے اسی لڑکی کا نکاح تقریباً دو ماہ قبل معیز خان سے کر دیا ، جس پر ملزم شدید رنجش کا شکار ہو گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں